مسلمانوں کے تمام شعبہ حیات میں پچھڑنے کی واحد وجہ تعلیم سے دوری : شیخ ابوبکر احمد

مسلمانوں کے تمام شعبہ حیات میں پچھڑنے کی واحد وجہ تعلیم سے دوری : شیخ ابوبکر احمد

کالی کٹ: مرکز الثقافۃ السنیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر شیخ ابوبکر احمد نے مسلمانوں کی ہمہ جہت ترقی اور بہبود کے لئے تعلیم کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کے تمام شعبہ حیات میں پچھڑنے کی واحد وجہ تعلیم سے دوری ہے۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں مرکز کے چار روزہ روبی جبلی عالمی کانفرنس میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہاکہ مسلمانوںکو جہاں دینی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہیں عصری تعلیم کو دینی تعلیم کی طرح شدت سے اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہی وجہ ہے کہ مرکز الثقافۃ السنیہ اسلامیہ نے اپنے ابتدائے قیام سے ہی دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم پر توجہ دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکز میں اس وقت قرآن و شریعت کی تعلیم کے ساتھ پیشہ وارانہ تعلیم بھی دی جاتی ہے اور یہاں سے ڈاکٹر ، انجینئر، وکلاء ایم بی اے نکلتے ہیں اور دیگر عصری تعلیم بھی دی جاتی ہے اور سردست اس مرکز کے 300 سے زائد اسکول, 150 کالجز، دس ہزار سے زائدمدارس و مکاتب اور دیگر ادارے چل رہے ہیں۔

انہوں نے اس کے لئے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہاکہ 20سے زائد ریاستوں میں ہمارے ادارے چل رہے ہیں اور اس میں 30ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں شدت سے اس بات کا احساس کرنا ہوگا کہ تعلیم ہی تمام کامیابی کی کنجی ہے اور قوم کا وقار بھی۔

متحدہ عرب امارات حکومت کے مشیر علی الہاشمی نے بھی تعلیم کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ قرآن کی پہلی آیت اقرا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام میں تعلیم کی ہی اہمیت ہے اور اسلام کا پہلا پیغام علم ہے۔ انہوں نے کہاکہ انسانیت کی قدر و منزلت بغیر علم کے نہیں پہنچان سکتے۔اسی کے ساتھ انہوں نے کہاکہ انسانی ثفاقت کی تفہیم بھی علم کی بدولت ہے اور خوشی کی بات ہے کہ مرکز نے اس کا بیڑہ اٹھایا ہے۔

لولو گروپ کے چیرمین پدم شری ڈاکٹر ایم اے یوسف علی پروگرام میں شرکت سے قبل مرکز بوائز ہائر سیکنڈری اسکول کا افتتاح کیا اور اس موقع پر مسلمانوں سے تعلیمی ادارے قائم کرنے پر زور دیاانہوں نے کہاکہ مرکز سے تعلیم کے سلسلے میں بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر یوسف کو ایکسلینسی ایوارڈ بھی پیش کیا گیا۔

تیونس کی زیتون یونیوورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر حشام عبدالکریم قریسہ نے ہندوستان آنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ انہیں یہاں کی تہذیب و ثفافت دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مرکز اسی سمت میں کامیابی و کامرانی کے ساتھ آگے بڑھے گا۔

ڈاکٹر عبدالحکیم ازہری ڈائرکٹر مرکز الثقافۃ السنیہ اسلامیہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ہندوستان کے جو حالات ہیں اس میں ثقافتی سیاست کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ نفرت اور انتشار کی سیاست کی وجہ سے ملک اس دور سے گزر رہا ہے جب کہ ہندوستان کی شناخت کثیر اور متنوع ثقافت ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اسی ثقافت کو فروغ دیا جائے تاکہ اس ملک سے نفرت کا ماحول ختم ہو۔

انہوں نے کہاکہ نفرت کی سیاست کا کوئی مستقبل نہیںہے اور یہ ایک دن ختم ہوکر رہے گا کیوں کہ ہندوستانی آئین اور دستور کے خلاف ہے اور بیشتر لوگ اس کو پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں میں تمام طرح کی بیداری پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اخلاقی تعلیم کے ساتھ بڑھنے کی ضرورت ہے اور جب ہم اخلاقی اعتبارسے مضبوط ہوں گے تو مسلمانوں کی پریشانیاں بھی ختم ہوجائیں گی۔

جامعہ عارفیہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مجیب الرحمن علیمی نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہندوستان مختلف ادیان ومذاہب والا ملک ہے ،یہاں مختلف طبقات کے لوگ رہتے ہیں ،مختلف ذات ونسل کے باجود ہم ایک ہیں ،قومی اتحاد ہی ملک وملت کی ترقی کا ضامن ہے ۔

واضح رہے کہ چار روز روبی جبلی عالمی کانفرنس میں ملک کے علاوہ ، عمان، چین، عراق، سعودی عربیہ، بحرین، کیمرون۔ ملائشیا، تیونسیا، کویت، پیوری کوسٹ، اردن، برطانیہ، متحدہ عرب امارات، ازبکستان، نیپال، آسٹریلیا اور دیگر ممالک کے سیاسی، سماجی، تعلیمی ، معاشی مفکرین شامل ہوں گے اور چار روز کے دوران ،عقیدہ کانفرنس،تصوف کانفرنس،علما کانفرنس،تعلیمی کانفرنس،حقوق انسانی کانفرنس،قومی یکجہتی کانفرنس،لائف اسٹائل کانفرنس،ہادیہ وومین کانفرنس،ثقافی کانفرنس،تمل کانفرنس،اردو کانفرنس،پیس کانفرنس،محفل نشیدہ ،نیشنل دعوہ میٹ،انٹر نیشنل اکادمی کانفرنس،جلسہ دستار حفظ ،مرکز المنی کانفرنس،میڈیا کانفرنس، منعقد ہوں گی۔