عادل فراز


اترپردیش میں اسمبلی انتخابات سر پر ہیں لہذا سیاسی پارہ بھی چڑھائو پر ہے ۔وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ گذشتہ چار سالوں سے اپنی ناکامیوں پرمسلسل پردہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں ،لیکن ان کی ہر کوشش ’سعی لاحاصل‘ بن کر رہ گئی ۔وزیر اعلیٰ یوگی ریاست میں بڑھتی ہوئی غنڈہ گردی ،خواتین کے خلاف افزودہ جرائم ،اور مہنگائی پر تو قابو نہیں پاسکے لہذا ان کے پاس عوام کے درمیان جاکر ووٹ مانگنے کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی ۔اس لیے انہیں نفرت آمیز سیاست کے فروغ کے لیے صوبے میں فعال ہونا ضروری تھا تاکہ بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹاکر غیر ضروری مسائل کی طرف دھیان بھٹکادیا جائے ۔بی جے پی تقسیم کی سیاست میں مہارت رکھتی ہے اس لیے انہوں نے’نئی آبادی پالیسی‘ کے ذریعہ آبادی کنڑول کی بحث چھیڑ دی تاکہ ہندوئوں کو مسلمانوں کے خلاف متحد کردیا جائے ۔مگر ایک بارپھر یوگی جی کی سیاسی منصوبہ گیری ناکام ثابت ہوتی نظر آرہی ہے کیونکہ آبادی کنٹرول بل کی زد میں ہندو ہی آرہے ہیں ۔مسلمانوں کو تو یوں بھی ’پنکچر ٹاکنے والی قوم ‘ کہا جاتاہے یعنی جسے ہر طرح کی سرکاری سہولیات سے محروم رکھا جاتاہے تاکہ وہ ترقی نہ کرسکیں ،اس لیے دو بچے ہوں یا تین ،بالآخر مسلمانوں کو اس قانون سے کوئی بنیادی نقصان نہیں ہوگا ۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت پہلے ہی خاندانی منصوبہ بندی کی طرف متوجہ ہے اور بچوں کو بہتر تعلیم و تربیت دینے کے لیےخاندانی منصوبہ بندی اپنائی جارہی ہے ۔ بیدار کی کمی دیہی علاقوں میں ہے مگر بیداری کے فقدان کا یہ تناسب ہندو اور مسلمان دونوں میں یکساں ہے ۔


اہم سوال یہ ہے کہ آیا آبادی پر قابو کے لیے قانون سازی ضروری ہے ؟ اس سوال کا ہر ذی علم اور صاحب شعور ایک ہی جواب دیتا نظر آرہاہے ’نہیں!‘ کیونکہ دنیا کے مختلف ملکوں میں قانون سازی کے ذریعہ آبادی پر قابو پانے کی کوشش کی گئی مگر وہ ناکام رہے ۔چین کا تویہ حال ہواہے کہ اس نے آبادی پالیسی میں ترمیم کرتے ہوئے اپنی عوام کو دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی ۔ قابل ذکر یہ ہے کہ چین کی آبادی ہندوستان سے زیادہ ہے اس کے باوجود وہاں غربت کی شرح ہندوستان سے کم ہے ۔اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ آبادی ترقی کی رواہ میں رکاوٹ نہیں بنتی بلکہ ترقی و خوشحالی کی نئی راہیں تلاش کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے ۔مسلمانوں کو اس قانون کا استقبال کرنا چاہیے کیونکہ قانون سازی کے بعد دیگر قوموں کو اس کا نقصان زیادہ ہوگا ۔اول تو یہ کہ سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کو آبادی کے لحاظ سے حصہ داری نہیں دی جاتی ۔سرکاری نوکریوں میں دیگر قومیں ۹۵ فیصد سے زیادہ حصہ داری رکھتی ہیں ،اس لیے مسلمان نوکری نہ ملنے کے ڈر سے ’نئی آبادی پالیسی ‘ پر عمل پیرا نہیں ہوگا۔رہابلدیاتی انتخابات میںشرکت سے محرومی کا معاملہ تو یہ بھی مسلمانوں کے لیے اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے جتنا کہ دیگر قوموں کے لیے اہم ہے ۔ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں قانون سازی کے ذریعہ آبادی کو کنٹرول کرنے کی کوشش ناکام ہوچکی ہے ۔اترپردیش میں بھی یہ کوشش کامیاب نہیں ہوگی کیونکہ دیگر ریاستوں کے مقابلے میں یہاں بیدار ی اور تعلیم کا فقدان زیادہ ہے ۔’نئی آبادی پالیسی‘ کی ہر شق مسلمانوں سے زیادہ ہندو وئوں کے لیے پریشان کن ثابت ہوگی ،اس لیے ’نئی آبادی پالیسی‘ پر مسلمان کو بحث و مباحثے کی ضرورت نہیں ہے ۔
سرکار کو سمجھنا ہوگا کہ ہندوستان میں قانون سازی کے ذریعہ آبادی پر قابو پانا ممکن نہیں ہے کیونکہ جب تک عوام میں بیداری پیدا نہیں کی جائے گی آبادی پر قابو ممکن نہیں ہوگا ۔باالکل اسی طرح جس طرح جبری نس بندی کے ذریعہ آبادی کو قابو نہیں کیا جاسکا۔نس بندی مہم کے تحت نہ جانے کتنے لوگوں کی جبری نس بندی کی گئی مگر کیا ہندوستان میں آبادی پر قابو پایا جاسکا ؟۔ یہی حال ’نئی آبادی پالیسی ‘ کا بھی ہوگا ۔قانون سازی سے زیادہ خاندانی منصوبہ بندی کے سلسلے میں عوامی بیداری مؤثر ثابت ہوگی ۔بہتر ہوگا اگر سرکار کے ذریعہ خاندانی منصوبہ بندی کے لیے گائوں در گائوں جاکر بیداری مہم چلائی جائے کیونکہ شہروں سے زیادہ آبادی کا تناسب دیہی علاقوں میں ہے ۔شہروں میں بہت کم ایسے خاندان ہوں گے جہاں دو یا تین سے زیادہ بچے موجود ہوں ۔مگر دیہی علاقوں میں ایسے خاندان بکثرت مل جائیں گے ۔جبکہ گذشتہ کچھ سالوں میں دیہی علاقوں میں بھی بیداری آئی ہے اور آبادی کا تناسب قدرے کم ہواہے ۔اس کے باوجود ہندوستان کی بڑی آبادی دیہاتوں میں بستی ہے اس لیے ان کے درمیان جاکر خاندا نی منصوبہ بندی کے فوائد بتلانا زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔


سوال یہ ہے کہ اگر ایک بچے کے بعد کسی کے یہاں جڑواں بچے پیداہوتے ہیں تو اس کے لیے بل میں کیا گنجائش رکھی گئی ہے ؟ کیونکہ ماں کے شکم میں بچوں کی نشو نمائش فطری عمل ہے اس کا سرکاروں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔سرکاریں نس بندی اور خاندانی منصوبہ بندی پر قانون سازی کرسکتی ہیں مگر فطری عمل پر روک نہیں لگا سکتیں ۔اس لیے جڑواں بچوں کی پیدائش سے متعلق بھی سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔اگر جڑواں بچوں کی پیدائش کے بعد تین بچوں کی بنیا د پر والدین کو تمام سرکاری پابندیوں سے چھوٹ ملتی ہے تو پھر الگ الگ تین بچوں کی پیدائش پر انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا کونسی منطق ہے ؟۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ آیا ’نئی آبادی پالیسی‘ کی منظوری کے بعد ’اسقاط حمل‘ اور ’شکم مادر میں جنین کی تشخیص‘ کے واقعات میں اضافہ نہیں ہوگا؟۔
سوال یہ بھی پیدا ہوتاہے کہ اگر بڑھتی ہوئی آبادی ملک کی ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹ ہے تو پھر مرکزی حکومت ’ نئی آبادی پالیسی‘ کے نفاذ میں دلچسپی کیوں نہیں لے رہی ہے ؟ کیا فقط اترپردیش کی بڑھتی ہوئی آبادی ریاست کے لیے خطرناک ہے ؟ اس کا تعلق ملک کی خوشحالی اور ترقی سے نہیں ہے ؟مرکزی حکومت کے مطابق آبادی کنٹرول قانون کی ضرورت نہیں ہے جبکہ اترپردیش کی بی جے پی حکومت آبادی کنٹرول قانون کی ضرورت محسوس کررہی ہے ؟ وزیر اعظم مودی ہندوستانی کی آبادی کو ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم تصور کرتے ہیں مگر یوگی جی مہاراج اسے ملک پر بوجھ سمجھتے ہیں ۔ اگر ’نئی آبادی پالیسی‘  کا بل مرکزی حکومت کی طرف سے لا یا گیاہوتا تو شاید اس قدر بحث و مباحثہ نہیں ہوتا مگر اترپردیش کے الیکشن سے ٹھیک پہلے وزیر اعلیٰ یوگی نے آبادی کنٹرول کا راگ الاپا ہے جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ یہ فقط اور فقط انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش ہے ۔مگر انتخابی فائدہ حاصل کرنے سے پہلے ہی اس غبارے کی ہوانکل گئی اور ہندو تنظیمیں ہی اس بل کی مخالفت میں کمربستہ نظر آرہی ہیں کیونکہ اس بل کے سرسری مطالعہ سے ہی یہ معلوم ہوجاتاہے کہ اس کا نقصان اکثریتی طبقے کو زیادہ ہوگا ۔


ویسے بھی بی جے پی کے پاس انتخابی مہم کے لیے کوئی ایسی اہم حصولیابی نہیں ہے جس کا ذکر کیا جاسکے۔ اس لیے ریاست کو مزید نفرت آمیز سیاست کے لیے تیار رہنا ہوگا ۔ کورونا کے وبائی عہد میں وزیر اعلیٰ یوگی اور سرکاری مشینری کی ناکامی ،کسانوں کے بنیادی مسائل سے عدم توجہی ،روز بہ روز افزودہ مہنگائی اور عام آدمی کے روزمرہ کے مسائل انتخابی مہم کا اہم منثور ہوں گے ۔لیکن بی جے پی ہر طرح سے یہ کوشش کرے گی کہ ان مسائل پر عوام کی توجہ مرکوز نہ ہوسکے ۔لہذا اترپردیش میں نفرت آمیز انتخابی لائحۂ عمل کے ساتھ تقسیم کی سیاست پر عمل ہوگا۔ ویسے بھی اب رام مندر کی سیاست بھی دم توڑ چکی ہے ۔اس لیے یوگی جی مہاراج پریشان ہیں کہ اترپردیش میں انتخابی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے کس لائحۂ عمل پر کام کیاجائے ۔بہتر ہوگا کہ وزیر اعلیٰ انتخابی مہم کے دوران سرکار کی حصولیابیوں پر بات کریں تاکہ ان کی فعالیت عوام کے سامنے روشن ہوسکے ۔