عادل فراز

ہندوستان میں سیاسی انارکیت اور سماجی نفرت دن بہ دن افزوں ہوتی جارہی ہے ۔حکومت کی ناقبت اندیشی اور یرقانی تنظیموں کی سماجی و سیاسی مداخلت نے ملک کو خانہ جنگی کے دہانے پر لاکھڑا کیاہے ۔مذہبی و طبقاتی منافرت تو شباب پر تھی ہی ،اب بے روزگاری اور حکومتی پالیسیوں کی مخالفت میں ہندوستان کا نوجوان سڑکوں پر ہے ۔احتجاج تو ہر شخص کا جمہوری حق ہے مگر احتجاجی مظاہرے تشدد میں بدل رہے ہیں ۔شخصی اور سرکاری املاک نشانے پر ہیں ۔نوجوان طبقہ جسے ہم ملک کا خوش آیند مستقبل کہتے ہیں ،سڑکوں پر بلادریغ مائل بہ تشدد ہے ۔بے شک پُر تشدد احتجاجات کسی مسئلے کا سنجیدہ حل نہیں ہوسکتے ،لیکن ان احتجاجات کے پس منظر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔حکومت کی ناقص پالیسیاں،فیصلوں میں عجلت پسندی اور سرکار پرجوانوں کے عدم اطمینان نے ملک کو بدترین صورتحال سے دوچار کردیاہے ۔سرکار کے پاس نوجوانوں کے مسائل کا حل نہیں ہے ۔آخر کب تک مندر اور مسجد کی سیاست نوجوانوں کی توجہ اصل مسائل سے بھٹکا سکتی ہے؟جس نوجوان کو یرقانی تنظیموں نے اپنے سیاسی مفاد کے لئے مشتعل ہونا سکھایا تھا ،وہی نوجوان آج سرکار کے لئے درد سر بنا ہواہے ۔اگر سرکار نوجوانوں کے اعتماد کو جیتنے میں کامیاب نہیں ہوگی،ساتھ ہی ان کی صلاحیتوں کو غلط جہات میں بروئے کار لانے والی تنظیموں پر شکنجہ نہیں کَسے گی ،ملک کے حالات مزید ابتر ہوتے جائیں گے ۔نوجوانوںکے اندر اتنی صلاحیت اورلیاقت موجود ہوتی ہے کہ وہ ملک کے سیاسی و سماجی دھارے کا رخ موڑ سکیں ۔بشرطیکہ ان کی صلاحیتوں کا بروقت اور صحیح استعمال کیا جائے ۔اگر یہی نوجوان غلط ہاتھوں میں پڑ جائے تو ملک کی سلامتی کے لئے ایک بڑاخطرہ ثابت ہوسکتاہے ۔اس لئے نوجوانوں کو صحیح رہنمائی کی اشد ضرورت ہے ۔


’اگنی پتھ‘ اسیکم کے خلاف جس طرح کا رویہ سامنے آرہاہے وہ انتہائی تشویش ناک اور چونکانے والا ہے ۔ملک کا نوجوان مذہب زدہ سیاست سے تنگ آچکاہے ۔البتہ مظاہرے میں شامل اکثر نوجوان آج بھی مندر مسجد کی سیاست کے شکار ہیں لیکن جب ان کے شخصی مفادات پر آنچ آتی ہےتو ان کا سویا ہوا ضمیر انگڑائیاں لینے لگتاہے ۔چونکہ ملک مہنگائی اور بےروزگاری کے لپیٹے میں ہے اس لئے نوجوان حکومت کے تئیں عدم اطمینان کا شکار ہے ۔نوجوانوں میں عدم اطمینان کی تین بنیادی وجوہات ہیں :۱۔تقرری کے انتظار میں عمر کا بڑھ جانا۔۲۔چار سالوں کے بعد روزگار کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟۳۔چار سالوں کے بعد خوش قسمت ’اگنی ویروں‘ کے انتخاب کا معیار کیاہوگا؟۔اس کے علاوہ پنشن کا نہ ہونا،اہل خاندان کو علاج کی سہولیات کا نہ ملناجیسے دیگر مسائل بھی شامل ہیں ۔اول تو یہ کہ ہمارے جوانوں میں حب الوطنی کا جذبہ دیگر ممالک سے زیادہ ممتاز ہے ۔ہمارا نوجوان مادر وطن کے لئے جان کی بازی لگانے سے دریغ نہیں کرتا ،اس لئے وہ سرکار سے توقعات کا امیدوار بھی رہتاہے ۔دوسری بات یہ کہ اگر ملک کا نوجوان وقتی معاہدہ کے تحت فوجی ملازمت اختیار کرے گا تو اس کے معاش کے مسائل حل نہیں ہوں گے ،جس کی بنیاد پر ملک کی سلامتی سے کمپرومائز ممکن ہے ۔دوسری صورتحال زیادہ سنگین اور توجہ طلب ہے ۔اگر ہماری سرکار سپاہیوںکے معاشی مسائل پر خاص توجہ مرکوز نہیں کرےگی تو اس کا خمیازہ ملک کو بھگتنا پڑ سکتاہے ،جس پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے ۔تیسری اور اہم بات یہ ہے کہ نوجوانوں کو بے راہ روی کا شکار ہونےسے بچانا بھی سرکار کی اولین ذمہ داری ہے ۔اگرنوجوان فکری بے راہ روی کا شکار ہوتاہے تو ہمارے داخلی مسائل مزید پیچیدہ ہوجائیں گے ۔فکری بے راہ روی سے حفاظت کا پہلا قدم افراطی تنظیموں پر قابو پانا ہے ،خواہ وہ کسی بھی مذہب اور قوم سے تعلق رکھتی ہوں۔


ہندوستان کے مستقبل کے لئے یہ خوش آیند نہیں ہے کہ ہمارا نوجوان مائل بہ تشدد ہو ۔اس وقت ملک کا نوجوان ذہنی کشمکش اور داخلی شکست و ریخت کا شکار ہے ۔یہ صورتحال کسی ایک مذہب اور طبقے میں محدود نہیں ہے ۔نوجوانوں کی اکثریت اپنے مستقبل کو لیکر فکر مند ہے ۔بے روزگاری اور سیاسی عفونت نے ان کی نفسیات کو شدید نقصان پہونچایاہے ۔نوجوانوں کا اس طرح سڑکوں پر نکل آنا ،توڑ پھوڑ کرنااور شخصی و سرکاری املاک کو بے دریغ نقصان پہونچاناان کے داخلی تذبذب کو ظاہر کرتاہے ۔اس صورتحال پر قابو پانا نہایت ضروری ہے تاکہ نوجوان تشدد کی طرف مائل نہ ہوں۔دوسری طرف ہندوستان میں بڑھتی ہوئی سماجی نفرت نے نوجوانوں کے دل و دماغ کو متاثر کیاہے ۔اترپردیش میں خاص طورپر ’بلڈوزر کلچر‘ نے نوجوانوں کو سرکار سے بدظن کردیاہے ۔ایک دوسرے کے مذہبی احساسات اور مقدسات کے احترام کا جذبہ ختم ہوتاجارہاہے ۔اس کے پس پردہ یرقانی تنظیموں کی منظم کوششیں ہیں جنہوں نے اکثریتی طبقے کے دل و دماغ میں اقلیتی طبقات کے خلاف زہر بھر دیاہے ۔اس صورتحال کے نقصانات دیر پاہیں،جن پر ابھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا ہے ۔فی الوقت مذہبی جنون کے شکار افراد مسلمانوں کے خلاف سرگرم عمل ہیں مگر یہی مذہبی جنون ہندوستان میں داخلی کشاکش کا سبب قرار پائے گا ۔بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف جو غم و غصہ عوام کے اندر پنپ رہاہے ،مذہبی جنون اس آگ میں تیل کا کام کرسکتاہے ۔کیونکہ یرقانی تنظیموں نے نوجوانوں کو جس طرح کی تربیت دی ہے اس کا خمیازہ فقط مسلمان ہی نہیں بھگتیں گے بلکہ پورا ملک اس کی زد میں آئے گا ۔اس لئے سرکار اور حفاظتی ایجنسیوں کو اس راہ میں تیزی سے پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کو بے راہ روی سے محفوظ رکھا جاسکے ۔لیکن افسوس یہ ہے کہ سرکار خود یرقانی و افراطی تنظیموں کی آلۂ کار بن چکی ہے اور صورتحال اس کی مٹھی سے ریت کی طرح پھسل رہی ہے ۔ملک کے حالات تشویش ناک ہیں مگر سرکار کو اس کی ذرہ برابر پرواہ نہیں ہے ۔اگر ایسا ہوتا تو اقلیتی طبقات کے مقدسات کی اہانت کرنے والی شخصیات اور بے لگام میڈیا کے خلاف موثر اقدام کئے جاتے ،مگر افسوس ایسا نہیں ہوا۔


یہ حقیقت بھی کسی سے مخفی نہیں ہے کہ بابری مسجد کی شہادت سے لے کر گجرات ،مظفر نگر اور دہلی فسادات تک یرقانی تنظیموں نے ملک کے نوجوانوں کا غلط استعمال کیا۔نوجوانوں کی صلاحیتوں کا غلط استعمال یک طرفہ نہیں ہے بلکہ ہر مذہب اور مسلک کی متشدد جماعتیں اور غیر سنجیدہ عناصر اس راہ میں بہت پہلے سے کام کرتے آرہے ہیں ۔کسی بھی نوجوان کو اپنے مفادات کے تحت استعمال کرنے لئے مذہب اور عقیدہ سے موثر کوئی دوسرا ہتھیار نہیں ہے۔یہ کام دہشت گرد گروہ اور افراطی تنظیمیں ایک ہی طرز پر انجام دیتی ہیں ۔مسئلہ یہ ہے کہ یہ تمام تر تخریب کاریاں حکومت اور قانونی ایجنسیوں کی ناک کے نیچے ہوتی رہتی ہیں ،مگران کے خلاف کبھی کوئی موثرقدم نہیں اٹھایا گیا ۔اگر کبھی ایسے افراد کے خلاف کوئی کاروائی کی گئی تو اس میں مذہب اور سیاست کوپیش نظر رکھا گیا جس کا خمیازہ آج ملک کوبھگتنا پڑرہاہے ۔مسلمان اور پسماندہ طبقات آسان ہدف ہیں اس لئے زیادہ تر کاروائی انہیں پر ہوتی نظر آتی ہے ،لیکن یرقانی تنظیموں کے عمل اور اہداف سے چشم پوشی کی جاتی ہے کیونکہ ان کے افراط ہر شعبے میں دبدبہ قائم کئے ہوئے ہیں۔نتیجہ یہ ہواکہ آج پورا ملک اور قومی ایجنسیاں یرقانی تنظیموں کےزیر دست اور مخصوص طرز فکر کے حامل افراد کے فکری خطوط پر عمل پیرا ہیں ۔ہر حکومتی شعبے میں ایک مخصوص طرز فکر کے حامل افراد کا غلبہ ہے جنہیں منظم منصوبہ بندی کے تحت قومی اداروں میں مقرر کیا گیاہے۔


افسوس یہ ہے کہ گذشتہ ستّر سالوں میں مسلمانوں نے حکومتی شعبوں میں نفوذ کی سنجیدہ کوشش نہیں کی ۔ان کے سیاسی آقائوں نے انہیں سیاسی غلامی اور دلالی پر مجبور کردیا ۔آج صورتحال یہ ہے کہ مسلمان سیاسی جماعتوں کا ووٹ بینک بھی نہیں رہا اور اس کے سیاسی آقائوں نے بھی اس سے کنارہ کشی اختیار کرلی ۔موجودہ حالات میں ملک کا مسلمان خود کو بے دست و پا محسوس کررہاہے ۔کیونکہ جس قوم کے پاس مخلص اور دوراندیش مرکزی قیادت موجود نہ ہو وہ قوم خود ترحُمی کا شکار ہوکر رہ جاتی ہے ۔لیکن ہم موجودہ صورتحال سے اس قدر ناامید بھی نہیں ہیں کہ یکسر حالات نہیں بدلیں گے ۔اس وقت ملک کا نوجوان سماجی و سیاسی بحران کو اچھی طرح سمجھ رہاہے ۔مزاحمت اور بغاوت کے جذبات پنپ رہے ہیں ۔نوجوان طبقہ ذہنی کشمکش کا شکار ہے اوراس کے جذبات بے قابو ہوتے جارہے ہیں ۔اس وقت نوجوانوں کےبے قابو جذبات کو صحیح جہت دینے کی اشد ضرورت ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ ان کے درمیان بصیر اور باشعور افرادموجودنہیں ہیں ۔یقیناً ایسے افراد موجود ہیں جو نوجوانوں کی صلاحیتوں کو برمحل استعمال کرنا جانتےہیں ،بس ان افراد کو بیدار رہنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ ہمیں یقین ہے انہی نوجوانوں کے درمیان سے ہماری قومی قیادت نکل کر سامنے آئے گی ۔یہ قیادت مذہبی رہنمائوں سے الگ لیکن باشعور اور مذہبی اثر سے آزاد نہیں ہوگی ۔اس لئے کہ ہمارا نوجوان مذہب بیزار نہیںبلکہ مذہبی رہنمائوں سے دل برداشتہ ہے ۔جس دن ملت کی رہنمائی ایسے ذی شعور اور بالیدہ فکر جوانوں کے ہاتھوں میں ہوگی ،انقلاب ضرور آئے گا ۔