عادل فراز


ہندوستان کا مسلمان اس وقت خود ترحّمی کی صورتحال سے دوچار ہے ۔وہ چوطرفہ ظلم و تشدد کا ہدف ہے لیکن اپنے دفاع کے لیے وہ اہل وطن کی طرف ٹکٹکی باندھے ہوئے دیکھ رہاہے ۔اس کے پاس اپنے دفاع کے لیے کوئی منظم لایحۂ عمل نہیں ہے یا اسے ہندوستان کی سیکولر روایت پر اتنا اعتماد تھاکہ اس نے اپنے تحفظ اور دفاع کے لیے الگ سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ۔اب جبکہ ہندوستان میں سیکولر روایت کمزور پڑچکی ہے اورملک فاشسٹ طاقتوں کے شکنجے میں ہے ،مسلمان کو اپنے مسایل کے حل اور جان و مال و ناموس کے تحفظ کے لیے کوئی راہ نظر نہیں آرہی ہے ۔ایسا اس لیے ہوا کیونکہ تقسیم ہند کے بعد سے لے کر اب تک مسلمان خواب خرگوش کے مزے لیتا رہا ۔گنگاجمنی تہذیب اور رواداری کے نام پر اس کی حق تلفی ہوتی رہی اور وہ خاموش رہا ۔اس کے پاس مرکزی قیادت کا فقدان رہا ۔جن افراد نے ان کی رہنمائی کے نام پر ترقی کی سیڑھیاں چڑھیں وہ خود تو اونچے عہدوں تک پہونچے مگر ملّت کو فراموش کربیٹھے ۔جن سیکولر رہنمائوں پر انہوں نے اعتماد کیا انہوں نے مسلمانوں کو فریب دہی اور اکثریتی طبقے سے ہراساں کرکے ووٹ حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ گذشتہ ساٹھ ستّر سالوں میں مسلمان اس قدر کمزور ہوگیاکہ اس میں اپنی صورتحال کااحتساب کرنے کی سکت بھی باقی نہیں رہی ۔آج خودترحّمی کی صورتحال سے اس کا روبرو ہونا مسلمان رہنمائوں اور ملّی تنظیموں کی ناعاقبت اندیشی کی بنیاد پر ہے ۔ورنہ مسلمان کبھی اس قدر بے دست و پا نہیں تھا جیساکہ موجودہ حالات میں نظر آرہاہے ۔


فاشسٹ طاقتوں نے منظم لایحۂ عمل کے ذریعہ ہندوستان کی سیکولر روایت کو کمزور کیا ۔اس وقت اکثریتی طبقہ مسلمانوں کے خلاف متحد ہے اور یہ باور کرتاہے کہ مسلمان نے ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے ۔ان سے کوئی یہ پوچھنے والا بھی نہیں ہے کہ گذشتہ ستّر سالوں میں مسلمانوں کو ملک کی سرکاروں نےکیا دیاہے ،جس کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیاجارہاہے ؟سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کا فیصد روز بروز گھٹتا جارہاہے جو شاید آیندہ کچھ سالوں میں صفر رہ جائے گا ۔آیا مسلمان ملک کے اونچے عہدوں پر فائز ہوسکتاہے ؟ہر گز نہیں ! یعنی اعلیٰ فوجی عہدیدار ،آربی آئی گورنر،انٹلی جینس ایجنسی کا سربراہ یا دیگر اعلیٰ قومی عہدوں پر کوئی مسلمان مامور ہے ؟ ہوبھی نہیں سکتا ۔کیونکہ اکثریتی طبقے کے لوگ اقلیتی طبقے کی ترقی سے عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔ان کی اس طرح ذہن سازی کی گئی ہے کہ وہ اقلیتی طبقات کو ترقی کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے ۔اگر انہیں کوئی عہدہ ملتاہے تو وہ سرکاروں سے بھیک کے طورپر ملتاہے ۔ملک میں ان کی آبادی کے تناسب اور سرکاری محکمات میں ان کی صلاحیت اور قابلیت کی بنیاد پر کچھ نہیں دیا جاتا ۔موجودہ سرکار میں تو مسلمانوں کو جھوٹی نمایندگی کے طورپر ریاستی وزیر کا درجہ دیدیا جاتاہے یا کسی اقلیتی ادارے میں نامزد کرکے ان کی منہ بھرائی کردی جاتی ہے ۔منہ بھرائی ملّت کی نہیں ہوتی بلکہ ملّت کے نام پر سیاست کرنے والے چند افرد کی ہوتی ہے تاکہ فائدہ ملّت کے بجائے ان کی ذات تک محدود رہے ۔


موجودہ سرکار سے مسلمانوں کا توقعات وابستہ رکھنا خود فریبی کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔کیونکہان کی طرف سے ملک میں پوری توانائی کے ساتھ یہ بیانیہ کھڑا کیا گیاہےکہ ملک کا مسلمان انہیں قطعی ووٹ نہیں دیتا۔یہ حقیقت ہے مسلمان بی جے پی کو ووٹ نہیں کرتا لیکن بھی یہ غلط ہے کہ قطعی ووٹ نہیں کرتا ۔ہر ریاست میں مسلمانوں کے درمیان بی جے پی کا ووٹ موجود ہے خواہ اس کی تعداد کتنی ہی کم کیوں نا ہو ۔مگر افسوس یہ ہے کہ ان کا ووٹ شمار میں نہیں لایا جاتا ۔اگر بی جے پی ملک کےعوام اور سیاسی جماعتوں کے سامنے یہ اعداد و شمار رکھے کہ کس ریاست میں کتنے فیصد مسلمانوں نے اس کے امیدواروں کو ووٹ دیاہے تو بہت سی غلط فہمیاں دور ہوسکتی ہیں ۔ممکن ہے اس کےبعد مسلمانوں میں بی جے پی کے ووٹ کے فیصد میں بھی اضافہ ہو۔مگر مشکل یہ ہے کہ بی جے پی کی تمام تر سیاست مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی پر منحصر ہے اس لیے ان اعدادوشمار کو پیش کرنے کا سوال ہی نہیں رہ جاتا۔


دوسری اہم بات یہ ہے کہ کانگریس اور دیگر نام نہاد سیکولر جماعتوں نے مسلمانوں کو بی جے پی سے اس قدر خوف زدہ کردیا کہ انہوں نے اس کی مخالفت میں ہی عافیت جانی ۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتاکہ بی جے پی اپنے دورآغاز ہی سے مسلم مخالف جماعت کے عنوان سے متعارف رہی ۔لہذا مسلمانوں نے اس سے کنارہ کشی اختیار کرلی ۔لیکن اگر بی جے پی اکثریتی طبقے کی سیاست کے بجائے ملک کی دیگر اقلیتوں کے باہم اتحاد سے ملک کی سیاست میں قدم رکھتی تو آج قومی سیاست کا دھارا صحیح سمت بہ رہا ہوتا۔جس طرح آج اقلیتوں کو کوسنےاور نفرت افشانی کی سیاست کے بجائے بی جے پی کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ،ملک کی اقلیتوں کے ساتھ اس کے اتحاد کے بعد اس کے پاس تعمیری ایجنڈہ ہوتا ۔اس کے پاس ایک فیکٹری سے نکلا ہوا مال نہ ہوکر ملک کےمختلف طبقات کی خاطر خواہ نمایندگی ہوتی ۔ساتھ ہی قومی سیاست میں ذات پات اور مذہب کی نفرت کا استعمال کم ہوسکتا تھا۔مسلمانوں نے بھی دور اندیشی سے کام نہ لیتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ سازباز نہیں کی ۔آج بنام مسلمان جو لوگ ان کے یہاں موجود ہیں ،ان کی سیاسی حیثیت سے ہر کوئی واقف ہے ۔لیکن اگر مسلمانوں نے بی جے پی سے ساز باز کرلی ہوتی تو آج ’ہندوتوا ‘کی سیاست کا دم نکل گیا ہوتا ۔لیکن نام نہاد سیکولر جماعتوں نے ایسا نہیں ہونے دیا ۔انہوں نے مسلمانوں کو بی جے پی کا دشمن بناکر پیش کیا جس کا خمیازہ آج ملک کو بھگتنا پڑ رہاہے ۔ممکن ہے مسلمانوں کو بی جے پی کے ساتھ سازباز کرکے کوئی بہت زیادہ فائدہ حاصل نہ ہوتا ،لیکن ان کے نظریے میں میں تبدیلی ضرور واقع ہوتی ۔آج ہندوستان میں فقط دو نظریوں کا جھگڑا ہے ۔اگر ایک نظریے کو ابتدا ہی میں کمزور کردیا جاتاتو شاید ’تقسیم اور نفرت ‘کی سیاست اس قدر پھولتی پھلتی نہیں ۔


آج قومی سیاست کا سارا دارومدار مسلمانوں کو کمزور کرنے اور ان کے زوال پر ٹکاہواہے ۔جبکہ مسلمان تقسیم ہند کے فوراً بعد کمزور ہوگیا تھا ۔رہی سہی کسر کانگریس کی دوغلی پالیسیوں نے پوری کردی ۔زمینداری کےخاتمہ کا قانو ن صرف ان ریاستوں میں نافذ کیا گیا جہاں مسلمانوں کے پاس زمینوں کی بہتات تھی۔اس کے بعد اندرا گاندھی کے دوراقتدار میں مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے متعدد پالیسیوں پر کام کیا گیا ۔ان کے قتل کے بعد کانگریس نے منظم طورپر مسلمانوں کی تضعیف کے لیے منصوبہ بندی کی ۔انہیں دہشت گردی سے جوڑ کر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ۔دہشت گرد تنظیموں سے وابستگی کے نام پر نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کیا گیا ۔مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی ہر ممکنہ پالیسی اختیار کی گئی ۔فساد پر فساد عالم وجود میں آئے اور انسانیت کا بہیمانہ قتل عام کیا گیا ۔کانگریس کی روایت کو بی جے پی نےاور الگ الگ ریاستوں میں علاقائی جماعتوں نے دُہرایا۔ہر ریاست میں فساد کا بازار گرم رہا ۔حفاظتی ایجنسیاں اور قانونی محکمات مسلمانوں کے خلاف کام کرنے لگے ۔قومی عہدوں پر فائز افسران کی اس طرح ذہن سازی کی گئی کہ انہوں نے اقلیتی طبقات کو نظر انداز کرنا شروع کردیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے خلاف افسران کے دل و دماغ میں اس قدر زہر بھر دیا گیا کہ وہ ان کےسرپر ٹوپی اور کرتا پاجامہ دیکھ کر بدکنے لگے ۔ہندوستان کی اقتصادی بدحالی ، کمزور ہوتی ہوئی معیشت ،بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے لیے بھی مسلمانوں کو ذمہ دار قرار دیا جانےلگا ۔اس طرح ایک بڑے طبقے کو گمراہ کرکے مسلمانوں کے خلاف سڑکوں پر تشدد کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا تاکہ انہیں ہراساں کیا جاسکے ۔رفتہ رفتہ ان سے سیاسی نمایندگی چھین لی گئی اور مسلمان اپنی حق سلبی کا تماشا دیکھتارہا ۔ایسی تشویش ناک صورتحال میں ہر قوم اپنے قائد کی طرف دیکھتی ہے لیکن ان کی فریاد رسی کرنے والا کوئی نہیں تھا۔جن شانوں پر سر رکھ کر آنسو بہالیتے تھے وہ ٹوٹ چکے تھے ۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ مسلمان نفسیاتی طورپر شکست و ریخت کا شکار ہے ۔اس کے پاس رہنمائی کے لیے کوئی قائد موجود نہیں ہے ۔جو علاقائی سطح پر قیادت کا دعویٰ ٹھونک رہے ہیں ان میں ایثار کا جذبہ نہیں ہے ۔جب تک قائد میں ایثار اور قربانی کا جذبہ موجود نہ ہو قیادت ڈفلی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی ۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کےپاس قائدین کی کمی نہیں ہے۔ایک لمبی چوڑی فہرست ہے ۔ہر کوئی اپنی قیادت کے لیے نعرہ زن ہے ۔ہر کسی کو مسلمانوں کا ہمدرد اور پیشوا ہونے کا دعویٰ ہے ۔مگر انتخابات کے زمانے میں ان کی ہر بانگ ’صدا بصحرا‘ ثابت ہوتی ہے ۔اس سے اندازہ ہوتاہے کہ مسلمان کتنی مظلومیت اور بے بسی کی زندگی گذار رہاہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان خود ترحّمی کے جذبےسے باہر نکلے ۔دفاعی سیاست کا دامن چھوڑ کر اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرے ۔ایسے افراد اور ملّی تنظیموں پر انحصار بند کرے جنہوں نے ملّت کو اس صورتحال سے دوچار کیاہے ۔مسلمانوں کو اپنی قیادت خود تلاش کرنی ہوگی ۔معلوم ہوناچاہیے کہ حالات اس وقت تک نہیں بدلتے جب تک انہیں بدلنے کی کوشش نہ کی جائے ۔یاد رہےشتر مرغ کی طرح ریت میں سر ڈال کر شکاری کے آنے کا انتظار کرنا حماقت ہے ۔