قسط-02(دوم)
محترمہ سلمیٰ بتول (لندن)
کووڈ-19کے دوران ڈاکٹر وں اور حکیموں اور جدید میڈیکل سائنس نے ہمیں یہ بتا یا کہ باربار اپنے ہاتھوں کو20 سیکنڈ کے لیے دھونا چاہیے کیونکہ انسان کی انگلیوں اور ناخنوں کے درمیان بہت سارے جراثیم ایسے پائے جاتے ہیں جو کہ کھانے کھاتے وقت ہاتھوں کے ذریعے انسان کے منہ کے ذریعہ پیٹ میںچلے جاتے ہیں اورپھر یہ جراثیم بہت سی مہلک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں ۔جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ کرونا وائرس جب شروع ہوا تھا تو سبھی ڈاکٹر نے کہا تھا کہ دن میں بار بار اپنے ہاتھوں کو بیس سیکنڈ کے لیے کسی اچھے ہینڈ واش سے دھوئیں یا گرم پانی سے دھوئیں اگر آپ ایسی جگہ ہیں جہاں پانی میسر نہیں تووہاں پرہینڈ سنیٹائزر کا استعمال کریں تاکہ ممکنہ طور پر جراثیم اور بیماری سے محفوظ رہیں ۔


ہاتھوں کی صفائی کے بار ے میں امام جعفر صادقؑنے فرمایا:
’’کھانا کھانے سے پہلے اور اس کے بعد اپنے ہاتھوں کو دھو لیا کرو ‘‘۔( بحار الانوار، ج63 ص 356)

کھانے سے پہلے ہاتھوں کو دھونے سے ممکنہ جراثیم بے اثر ہو جاتے ہیں اور کھانے کے بعد ہاتھوں کو دھونا پاکیزگی اور صفائی میں شمار کیا جاتا ہے ۔

دنیا کا دستو ہے کہ جب انسان کسی بڑی ہستی سے ملنے جاتا ہے یا کسی وی آئی پی پارٹی میں یا کسی بڑے افسر سے ملنے جاتا تو خوب صاف و شفاف اور بن سنو ر کر جاتا ہےاور بہت ہی سلیقہ سے تیار ہو کر جاتا ہے تا کہ امپریشن اچھا پڑ ے آج ہمارے نو جوا ن جب اپنی محبوبہ سے ملنے جاتے ہیں خود کو اتنا سنوارتے ہیں جیسے وہ وقت کے یوسف ہوں یا اگر رشتہ کے لیے دیکھنے آرہے ہیں تو لڑکا اور لڑکی کا سنجنے اور سنور کا حال ہی نہ پوچھئے تو سوچئے اللہ کی پناہ !جب اللہ سب سے بڑاوی آئی پی ہے ہم سب سے حسین و جمیل ہے وہی اللہ اپنے بندوں کو پانچ وقت اپنی بارگاہ میں بلاتا ہے اب خود غور کریں جب اللہ کی بارگارمیں جانا ہوتو ہمیں کتنا سجنا سنورنا چاہئے ،معصومین ؑنے بھی فرمایا ہے کہ’’ جب نماز کا ارادہ کریں تو پاک و صاف کپڑے پہنے ،جگہ پاک ہونی چاہیے اپنے آپ کو پاک کریں خوشبو لگانی چاہیے ۔‘‘اسلام میں جو وضو کا طریقہ ہمیں بتایا گیا ہے آج سائنس بھی اس کوتسلیم کرتی ہے ۔

جراثیم کیا ہے :جراثیم ایک ایسی خوردبین حیاتیات ہے جو پودوں جانوروں اور انسانوں جیسی زندگیوں میں داخل ہو کر مختلف بیماریوں کا سبب بنتےہیں ۔یہ جراثیم وائرس یا پھر بیکٹیریا بھی ہو تے ہیں یہ بہت ہی باریک باریک ہوتے ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے مگر بہت سی بیماریوں کا باعث بن جاتے ہیں ۔یہ بہت خاموشی سے ہمارے جسم پر وار کرتے ہیں اور کبھی کبھی ان کا حملہ جان لیوا بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات توہمیں ان کے حملے کا پتہ بھی نہیں چل پاتا اورہمارے اندر کا ( مدافعتی نظام جو پروردگار نے بنایاہے ) (ایمونٹی پاور)وہ خودہی ان جراثیم سے نپٹ لیتا ہے اور ان کو ختم کر دیتا ہے۔

لیکن بعض مرتبہ کچھ ایسے طاقت ور جراثیم ہوتے ہیں جن سے ہمارا دفاعی نظام (ایمونٹی پاور)بھی ہار جاتا ہے اور پھر ہمیں ان سے چھٹکارہ پانے کے لیے میڈیسن کا استعمال کرنا پڑتا ہے تاکہ اپنے دفاعی نظام کو بہتر بنا نے میں مدد مل سکے ۔پرانے زمانے میں ان جراثیم کے بارے میں لوگوں کو معلومات نہیں ہوا کرتی تھیں مگر انیسویں صدی میں جب سائنس نے بتایا کہ یہ جراثیم کتنی خطرناک بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں تو لوگوں کے علم میں بھی اضافہ ہوا اور لوگوں نے اپنا دفاع بہتر انداز میں شروع کر دیا ۔