اوباما کے ریاض دورے سے پہلے سعودی عرب کی امریکہ کو دھمکی

اوباما کے ریاض دورے سے پہلے سعودی عرب کی امریکہ کو دھمکی

نائن الیون کا ذمہ دار ٹھہرایا تو امریکہ میں موجود اثاثے فروخت کر دیں گے

واشنگٹن:سعودی عرب نے امریکہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرامریکہ نے کوئی ایسا قانون یا بِل منظور کیا جس کے تحت امریکی عدالت نے سعودی عرب کو گیارہ ستمبر کے حملوں کا ذمہ دار قرار دیا تو سعودی عرب امریکہ میں موجود اپنے اربوں ڈالر کے اثاثے فروخت کر دے گا،دوسری جانب صدر براک اوباما بدھ کو ریاض پہنچیں گے جہاں وہ شاہ سلیمان اوراعلیٰ سعودی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

امریکی اخبار’’نیو یارک ٹائمز ‘‘ کے مطابق گزشتہ کئی ہفتوں سے اوباما انتظامیہ کانگریس کے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن ارکان کو قائل کرنے میں مصروف ہے کہ وہ کانگریس میں اس قسم کے بل کو روکنے کی کوشش کریں۔ اس کے علاوہ کچھ عرصے سے سعودی عرب کے حوالے سے امریکی دفتر خارجہ اور وزارت دفاع کے حکام اور کانگریس کے درمیان بھی بہت لے دے ہو رہی ہے۔خارجہ اور دفاعی امور کے سینیئر حکام نے دونوں جماعتوں کے اراکین سینیٹ کو خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب کے خلاف کسی قسم کی قانون سازی ہوتی ہے تو امریکہ کے لیے سفارتی اور معاشی حوالے سے اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔سعودی حکومت کی جانب سے یہ پیغام ذاتی طور پر وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اس وقت پہنچایا تھا جب وہ گزشتہ ماہ واشنگٹن گئے تھے۔ انھوں نے کانگریس کے ارکان کو بتایا تھا کہ اگر سعودی عرب کو محسوس ہوا کہ کسی نئے قانون کے تحت امریکہ میں موجود سعودی اثاثوں کو منجمند کیا جا سکتا ہے تو سعودی عرب یہ اثاثے فروخت کرنے پر مجبور ہو جائیگا۔ اس وقت امریکہ میں سعودی عرب کے 750 ارب ڈالر امریکی خزانے کی سکیوریٹیز کی شکل میں موجود ہیں۔اگرچہ عالمی معاشی امور کے کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سعودی عرب اس قسم کا کوئی قدم نہیں اٹھائیگا کیونکہ ایسا کرنا اس کے لیے آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس سے سعودی عرب کی اپنی معشیت بہت خراب ہو جائے گی، تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب کی جانب سے امریکہ کو اس قسم کی دھمکی سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور تنا کی کیفیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔اوباما انتظامیہ کا موقف ہے کہ اس قسم کی قانون سازی سے ان امریکیوں کو خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے جو ملک سے باہر ہیں۔ اسی لیے سرکاری حکام بڑی شد و مد سے کانگریس کے ارکان کو سعودی عرب کے خلاف کوئی بِل پاس کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اوباما انتظامیہ کی جانب سے یہ پسِ پردہ کوششیں اتنی زیادہ ہوئی ہیں کہ کچھ ارکان اور گیارہ ستمبر کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اوباما انتظامیہ پر خاصے برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس حلقے کا خیال ہے کہ اوباما انتظامیہ مسلسل سعودی عرب کی حمایت کر رہی ہے صدر براک اوباما بدھ کو ریاض پہنچ رہے ہیں جہاں وہ شاہ سلیمان اور دیگر سعودی حکام سے ملاقاتیں کریں گے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان ملاقاتوں میں وہ آیا گیارہ ستمبر کے حوالے سے مجوزہ قانون سازی کا معاملہ اٹھائیں گے یا نہیں۔ جب اس معاملے پر امریکہ میں سعودی عرب کے سفارتخانے سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔یاد رہے کہ سعودی حکام ایک عرصے سے اس الزام سے انکار کرتے آ رہے ہیں کہ گیارہ ستمبر کے حملوں میں سعودی عرب کا کوئی کردار تھا۔ اس کے علاوہ امریکہ میں ان حملوں کے حوالے سے قائم ہونے والے 9/11 کمیشن کا کہنا تھا کہ کمیشن کو بھی اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا کہ بطور ادارہ سعودی حکومت یا سینیئر سعودی عہدیداروں نے ذاتی حیثیت میں یہ حملے کرنے میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ کمیشن کی رپورٹ میں جو الفاظ استعمال کییگئے ہیں ان میں اس بات کا امکان نظر آتا ہے کہ شاید سعودی عرب کے کم سینیئر درجے کے حکام یا سعودی حکومت کے کچھ حصوں نے ان حملوں میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔کمیشن کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد سے سعودی عرب کے حوالے سے الزامات کا سلسلہ جاری رہا ہے، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سنہ 2002 میں امریکی کانگریس نے گیارہ ستمبر کے حملوں کی جو تفتیش کی تھی اس کے نتائج میں کچھ ایسے شواہد کا ذکر کیا گیا تھا جن کے مطابق ان حملوں کی منصوبہ سازی میں کچھ ایسے سعودی حکام کا ہاتھ ہو سکتا ہے جو اس وقت امریکہ میں موجود تھے۔