پیار اور محبت کا مرکز ہوتی ہیں صوفی خانقاہیں: نیر جلال پوری

پیار اور محبت کا مرکز ہوتی ہیں صوفی خانقاہیں: نیر جلال پوری

دہلی میں تاریخ ساز شام صوفی دربار کا انعقاد

دہلی: اردو زبان اور تہذیب کے فروغ میں محفل سماع کی اہمیت پر منحصر ایک تاریخ ساز شام صوفی دربار کا انعقاد ہندوستانی دارالحکومت دہلی کے لودہی روڈ پر واقع ائی ائی سی سی میں کیا گیا جسمیں تہذیب و ثقافت،سماج و سیاست ومختلف فنون سے وابستہ عالمی شہرت کی حامل شخصیات نے حصہ لیا اور ملیکہ ترنم محترمہ انیتہ سنگھوی کی روحانی آواز میں کلام خسرو ورومی کو محسوس کیا۔

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے اشتراک سے حسن آرا ٹرسٹ کی جانب سے منعقد اس 14وئے صوفی دربار نامی پرگرام کا افتتاح سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ذریعہ شمع روشن کرنے سے ہوا جسکے بعد منتظمین کی جانب سے کابینی وزیر برائے اطلاعات محترم روی شنکر پرساد کا خیرمقدم کمال حیدر نقوی نے کیا۔پروگرام کے افتتاح میں شعراء کرام نے کلام پیش کیا اور ملک کی نامورشخصیات نے عنوان مذکورہ کے تحت اظہار خیال پیش کیا۔لکھنو یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو عباس رضا نیر جلال پوری نے اپنی تقریر میں کہا کہ عصر حاضر میں صوفیائے کرام کی تعلیمات کی ضرورت بہت محسوس ہورہی ہے،صوفی خانقاۂ ہی ایسا مرکز ہے جہاں ادب اور تہذیب کے ساتھ متعدد مذاہب کے لوگ ایک ساتھ پیار اور محبت کے پیغام کو عام کرنے کی پہل کرتے ہے۔پدم شری ڈاکٹر محسن ولی نے کہا کہ مختلف زبانوں سے وابستہ بین المذاہب شخصیات کی ایک ساتھ یہاں موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ آج کا سماج محبت کے پیغام کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔انڈین میڈیکل کاونسل کے چیرمین ڈاکٹر ایس ایس اگروال،ممتاز ماہر قانون رام جیٹھ ملانی،ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی،ٹھاکر امر سنگھ ودیگر مہمانان نے اس طرح کی تقریبات کو عہدہ حاضر کی ضرورت بتایا۔سلیم امروہی نے خصوصی نظم،عالمی شہرت یافتہ شاعر امیر حسن عامر عنوان کے تحت قصیدہ پیش کیا۔

سلطان ہند خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے عرس کی مناسبت سے منعقد اس جشن میں صوفیانہ موسیقی کے دور میں محترمہ انیتہ سنگھوی نے  کلام پیش کئے،بعد میں میڈیا اور عاشیقان اردو کی درخواست پر انھوں نے کلام اقبال اور غالب بھی پیش فرمایا۔وزیر کابینہ محترم روی شنکر پرساد و سابق وزیر پی چدمبرم نے انیتہ سنگھوی کے  ذریعہ پیش کئے گئے کلام کی پذیرائی کی۔

علامہ روم کی شاعری سے متاثر صوفی شاعرہ بیگم رائے صاحبہ مہارانی جویری حیدرآباد نے اپنی کتاب "ناینٹین گولڈی ورسیز" کو ڈاکٹر منموہن سنگھ کو پیش کیا۔حسن آرا ٹرسٹ کی جانب سے رائے صاحبہ کو رومی ایوارڈ،محترمہ کامنہ پرساد کو محافظ اردو ایوارڈ،انیتہ سنگھوی کو امیر خسر و ایوارڈ اور نوجوان سماجی کارکن علی مہدی زیدی کو خواجہ غریب نوازؒ ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔

اس اہم تقریب کا حصہ بننے والے دیگر معززین میں اسٹریہ کے ایمبسڈر ہاربرڈٹرکسیل،ٹھاکر امر سنگھ،ماہر قانون رام جیٹھ ملانی،کمال فاروقی،صحافی شاہد صدیقی،آر این آئی ڈائریکٹر ایس ایم خاں،سراج الدین قریشی،نواب مراد علی خاں،صوفیانہ شخصیت حکیم سید حسین،صوفی معراج صاحب،اچاریہ ایم رام،دگوجے سنگھ،رئیس ادریسی،انصار احمد صدیقی،سلیم خانقاہی،جشن ریکھتا کے منتظم سنجو سراف،شوبھنا نارائن،تنویر ہازق،پنڈت سرودیہ مہاراج، معروف شاعر ولی بجنوری،مہاراجہ عالم جنوری،شہزادی سونا بھاٹیہ،سنی جویری،رندھیر سنگھ پٹیالہ، ایس کے سہائے وغیرہ کے ساتھ دیگر سرکردہ شخصیات،سابق و موجودہ ممبر آف پارلیمنٹ،وزیر،کابینی سکریٹری ادب اور ثقافت سے وابستہ اہم شخصیات موجود تھی۔حیدر کمال نقوی نے مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔