مصر کے پہلے دورے پر قاہرہ پہنچے شاہ سلمان

مصر کے پہلے دورے پر قاہرہ پہنچے شاہ سلمان

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود آج جمعرات کو  مصر کے اپنے پہلے دورے پر  قاہرہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ مصر کے صدر فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی سے تفصیلی ملاقات کریں گے۔ دوسری جانب مصری حکومت نے معزز مہمان کے استقبال کے لیے غیر معمولی انتطامات کیے ہیں۔

ذراےُ کے مطابق ایک سال پیشتر اقتدار سنھبالنے کے بعد شاہ سلمان کا مصر کا یہ پہلا دورہ ہے۔ شاہ سلمان کے دورہ مصر کے دوران قاہرہ اور ریاض کے درمیان دو طرفہ تعاون کے کئی معاہدوں کی منظوری کے ساتھ ساتھ اسٹریٹیجک شراکت آگے بڑھانے سے بھی اتفاق کیا جائے گا۔

مصرمیں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی آمد کے لیے سرکاری سطح پر غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ان کے دورے کوغیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ گذشتہ روز مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران شاہ سلمان کے متوقع دورے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خلیج اورسعودی عرب کی قومی سلامتی مصر کی قومی سلامتی کا حصہ ہے۔

خیال رہے کہ شاہ سلمان ایک ایسے وقت میں مصر کے دورے پر آرہے ہیں جب خطے اورعالمی سطح پر جاری سیاسی تبدیلیوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دئرہ وسعت اختیار کررہا ہے۔ مبصرین کے خیال میں شاہ سلمان کے دورہ مصر سے عرب ممالک کے درمیان سیکیورٹی کے شعبے میں باہمی تعاون کوفروغ دینے میں مدد ملے گی۔

شاہ سلمان کی مصری صدر کے ساتھ ہونے والی تفصیلی ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ، یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے جاری آپریشن، شام، عراق، لبنان کی صورت حال، ایران کی عرب ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت، لیبیا کی بنتی بگڑتی سیاسی و سیکیورٹی صورت حال، مصر اور سعودی عرب کے درمیان تزویراتی اتحاد کو مزید منظم کرنے بالخصوص ’شمال کی گرج‘ مشقوں کے بعد مسلمان ممالک کے درمیان عسکری تعاون کے فروغ جیسے موضوعات پرتبادلہ خیال کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب مصرکی سلامتی، امن و استحکام اور ترقی کا خواہاں ہے جس کا اظہار ریاض کی جانب سے قاہرہ کی وقتا فوقتا ہونے والی امداد سے بھی ہوتا ہے۔ جنوری سنہ 2011ء کے بعد سعودی عرب نے مصر کو تین ارب 75 کروڑ ڈالر کی امداد فراہم کی تھی۔ سنہ 2012ء میں ریاض حکومت کی طرف سے قاہرہ کو 1000 ٹن پٹرول اور مئی سنہ 2012ء میں 500 ملین ڈالرکا امدادی سامان بھی فراہم کیا تھا۔

جون 2013ء کو مصر میں فوج کے ہاتھوں منتخب صدر کا تختہ الٹے جانے کے بعد سعودی عرب نے مصر کے معاشی استحکام کے لیے قاہرہ کو پانچ ارب ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا جب کہ سنہ 2014ء میں سعودیہ نے مصر کو دو ارب ڈالر کی امداد مہیا کی۔ مصر بھی ہر مشکل میں ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ رہا ہے۔