اس پر ہی زمانے میں ستم ٹوٹ رہے ہیں

اس پر ہی زمانے میں ستم ٹوٹ رہے ہیں

بزمِ احساسِ ادب کا ماہانہ مشاعرہ منعقد

لکھنؤ:بزمِ احساسِ ادب کا غیر طرحی مشاعرہ بزم کے دفتر واقع اودھ نگر، بابا کا پوروہ، سیتاپور روڈ، لکھنؤ میں ہمسرؔ موہانی کی صدارت اور عرفان لکھنوی کی نظامت میں منعقد ہوا۔ مشاعرے کا آغاز قاری شمشیر عالم صاحب پوری کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا۔ مشاعرہ میں پسند کئے اشعار نذرِ قارئین ہیں:

دوستو کچھ بھی کہو کام یہ تعمیری ہے

ایک قطرے کا بھی دریا میں اضافہ کرنا

ہمسرؔ موہانی

اس پر ہی زمانے میں ستم ٹوٹ رہے ہیں 

جو ہے تری مخلوق میں افضل مرے اللہ

بشارتؔ لکھنوی

کیوں مرے جسم سے یہ سانپ ہیں لپٹے حیدرؔ

میں نے کب تجھ سے کہا تھا مجھے صندل کر دے

حیدرؔعلوی

وہ زندگی کے کسی موڑ پر ملے گا ضرور

ہتھیلیوں پہ مری جس کا نام لکھا ہے

عرفانؔ لکھنوی

ہم نے اس طور سے دن ہجر کے رو کر کاٹے

جس طرح عشق میں فرہادؔ نے پتھر کاٹے

معصومؔ لکھنوی

ان سے ٹوٹے تعلقات مگر

مل گئے تو سلام ہوتا ہے

قمرؔ سیتاپوری

صبح ہم جب اذان کہتے ہیں 

جذبہئ دل بلال ہوتا ہے

عقیل غازیپوری

کوئی تو آخر ہمیں بتائے بہار آئے تو کیسے آئے

گلاس جھوٹے اٹھانے والا نظامِ گلشن چلا رہا ہے

سلیم تابشؔ

ان کے علاوہ مرزاشارق لاہر پوری، اطہر لکھنوی، عالم صاحب پوری، رضوان بسوانی، نثار ماجد آشتی، ابرا صارم، معراج بہرائچی نے اپنا اپنا کلام پیش کیا۔ خطے کے معزز حضرات نے بھی شرکت کرکے مشاعرے کا لطف لیا۔