ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ختم ہونے کا مطلب ہے کہ صہیونی اور سامراجی پروپیگنڈے ناکام ہوچکے ہیں۔ایران کے خلاف صہیونی طاقتوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور دنیاکے سامنے ایران کی غلط تصویر پیش کی جسکی بنیاد پر ایسا محسوس ہواکہ ایران کا جوہری پروگرام دنیا کے لئے بڑا خطرہ بن سکتاہے۔مگر ایران نے ہمیشہ اپنے جوہری پروگرام کو پر امن بتا یا یہی وجہ ہے کہ اس نے کسی بھی طرح کی مذاکرات کا بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ اپنے مؤقف کی وضاحت میں عالمی برادری کے سامنے اپنا مطمح نظر پیش کیا اور ثابت کردیا کہ ایران کسی بھی طرح کی تخریب یا فساد کے حق میں نہیں ہے۔ ان مسلسل کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ یوروپی یونین اور اقوام متحدہ پر ایران کی نیت واضح ہوگئی اور مذاکرات کی نئی راہیں ہموار ہوئیں۔ایران کی خودداری کو اسکی انانیت اورکٹ حجتی سمجھا گیا، صہیونی طاقتوں نے ایران کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر دنیا کو ورغلانا شروع کیا تھا اور وہ اپنے ان پروپیگنڈوں میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہے لیکن ایران کی حکمت علمی اور مذاکرات کی کوششوں نے انکے ہر پروپیگنڈے اور سازش کو ناکام کردیا۔میں سمجھتا ہوں آیتہ اللہ سید علی خامنہ ای کے اس فتوی کا اثر بھی عالمی برادری پر ہوا جسمیں انہوں نے عام تباہی والے ہتھیاروں اور انسانیت کے لئے مہلک اسلحوں کو غیر اسلامی اور حرام قرارد یا تھا۔ظاہر ہے انکی اس بات کو دنیا نے ایران کی پالیسی کے تناظر میں بھی دیکھا اور ایران کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں مدد بھی ملی ہوگی۔

اسرائیل جو خطہ میں ایران کو اپنا سب سے طاقتور حریف سمجھتا ہے وہ ایران کے جوہری پروگرام سے خوفزدہ تھا۔عالمی میڈیا میں جو خبریں اسرائیلی ذرائع نے منتشر کی تھیں انکا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کی تباہ کاریوں کا خوف دنیا میں پھیلانا تھا تاکہ دنیا کی ایک بڑی جماعت عالمی برادری کے سامنے ایران کے جوہری پروگرام کی مخالفت میں انکی حامی رہے۔لیکن ایران کی حکمت عملی اور مذاکرات کی کوششوں نے انکے ہر پروپیگنڈے کو ناکا م کردیا۔

پابندیوں کا ہٹنا ایران کے لئے بڑی کامیابی ہے اسکا اندازہ صدر حسن روحانی کے بیان سے ہوتاہے انہوں نے کہاکہ(ہمارا)”دنیا کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے باب کا اغاز ہوا ہے“۔ اب ایران عالمی بازار میں اپنی برآمدات کا منافع بخش سودا کرسکتاہے۔تیل کے ذخائرکو عالمی منڈیوں میں پہونچا سکتاہے،ایران کے تاجر دنیا بھر میں اپنی تجارت کو فروغ دے سکیں گے اس طرح ایران کی تیارکردہ اشیاء عالمی بازار کا حصہ بن سکیں گی۔پابندیاں ختم ہوئی ہیں یعنی اب اسکے منجمد اثاثے واپس ہونگے۔ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوگا اور ملک کے باشندے جن اقتصادی و معاشی مشکلات سے نبردآزما تھے اس سے نجات ملے گی۔پابندیوں کی وجہ سے ایرانی ریال کی قیمت ڈالر کے مقابلے بیحد کمزور تھی اسکے مبادلات میں اضافہ ہوگا۔ظاہر ہے ایران کی ترقی کے اثرات پوری دنیا پر نہیں تو مشرق وسطیٰ پر ہر حال میں اثرانداز ہوتے ہیں اور اسکی شرح ترقی کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی شرح ترقی بھی جڑی ہوئی ہے۔پابندیوں کے خاتمہ کے اثرات عالمی بازار میں دکھائی دیے ہیں اور خود ایران کا شیئر بازار اونچائیوں پر ہے۔

جس طرح پابندیوں کے ہٹنے پر عالمی تجزیہ کاروں نے ایران کی شرح ترقی کا تجزیہ کیاہے وہ یک طرفہ اور متعصبانہ رویہ ہے کیونکہ پابندیوں کے جو اثرات وہ بیان کرتے ہیں قابل تنقید ہیں۔ایران عائد پابندیوں کے بعد بھی عالمی سطح پر اپنی ترقی اور حکمت عملی کا لوہا منوارہا تھا۔ایرانی حکومت کی منصوبہ بندیوں اور پابندیوں کے خلاف اسکی پالیسیوں کی عوام نے پوری حمایت کی۔ایران میں اسکی پالیسیوں کے خلاف عوام کا بغاوت نہ کرنا اسکی واضح دلیل ہے۔ایرانی عوام پر اور اسکے بازاروں میں پابندیوں کے اثرات بہت واضح نہیں تھے۔مہنگائی ضرور حد سے زیادہ تھی مگر ہم نے کبھی عوام کو اس مہنگائی پر جھنجھلاتے ہوئے نہیں دیکھا۔پابندیوں کے باوجود ایران میں تقریبا ہر ملک کی اشیاء مناسب قیمتوں پر دستیاب تھیں اور جن چیزوں کی قیمتیں زیادہ تھیں وہ روزمرہ کی ایسی قابل استعمال چیزیں نہیں تھیں جنکے عدم حصول کی بنیاد پر عام آدمی کو مشکل پیش آئے۔اگر ایران کے دارالحکومت تہران کے شہری حالات کا تجزیہ کیاجائے تو عام زندگی کی شرح ترقی یوروپی ممالک کی شرح ترقی سے کم نظر نہیں آتی۔ہر ملک میں عام آدمی کے حالات سے اسکی ترقی کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ایران میں نچلے طبقے کا کمزور اور مفلوک الحال آدمی بھی سڑک پر بھیک مانگتا دکھائی نہیں دیتا یہ بڑی بات ہے۔بھکاریوں اور فقیروں کی تعداد عام طور پر ریلوے اسٹیشن،بس اڈوں،سیاحتی مقامات،درگاہوں،مزاروں اور ایسے ہی عوامی مقامات پر زیادہ ہوتی ہے مگر ایران کے عوامی مقامات پر بھکاری نظر نہیں آتے۔کچھ تجزیہ کاروں نے لکھا کہ ایران میں دوائیوں کی کمی ہے خاص کر شوگر اور کینسر جیسے مہلک امراض کی دوائیں دستیاب نہیں ہیں لہذا پابندیوں کے ہٹنے کے بعد عام لوگوں تک ان دواؤں کا پہونچنا آسان ہوگا۔تجزیہ کار شاید باخبر نہیں ہیں کہ ایران ادویہ سازی کے میدان میں اپنی ایک خاص شہرت رکھتاہے۔جتنی دوائیان ایران کے بازاروں میں دستیاب ہوتی ہیں اور جس مقدار میں ہر مرض کی دوائیاں موجود ہیں وہ تجزیہ کاروں کے لئے قابل غو ر ہونا چاہیے تھا،ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ایران کا طریقہ ئ علاج کتنا ترقی یافتہ ہے اور ایران کے ڈاکٹروں کی تربیت کس حد تک انٹر نیشنل میڈیکل انسٹی ٹیوشنزمیں ہوتی تو وہ مزید بہتر ہوسکتے تھے۔

عالمی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایران میں عوام کی آزادی پر پابندی ہے،سیاسی و سماجی آزادی کی حدیں مقرر ہیں۔سوشل میڈیا اور ٹیلی وزن پر سینسرکی نگرانی ہے اب ان پابندیوں سے بھی عوام کو راحت دینا ضروری ہے۔عالمی تجزیہ کار در اصل اسی طرز آزادی کے ایران میں خواہا ں ہیں جو امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک میں دی گئی ہے لیکن اس آزادی کے اثرات کتنے تخریبی ہیں وہ بہتر جانتے ہیں۔نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر ہے اور اسی آزادی کے فروغ نے ان ممالک میں دہشت گردی کو بھی فروغ دیا ہے۔ایران میں نہ سیاسی و سماجی پابندیاں ہیں اور نہ انٹر نیٹ،ٹیلی وزن اور سوشل میڈیا پر قدغن ہے لیکن ان تمام چیزوں پر نگرانی ضرور کی جاتی ہے اور سینسر شپ موجود ہے۔ایران ہی نہیں اس وقت دنیا کا ہر ملک سرد جنگ کا شکار ہے اور اسکے نتائج اپنے شہروں اور گھروں میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ایران اس سرد جنگ کا زیادہ شکار ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے عوام اور خاص کر نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے کے لئے پر عزم ہے اور ہر طرح کی آزادی پر نگراں معین کئے ہوئے ہیں۔یہ نگرانی آمریت یا ظلم نہیں ہے بلکہ ملک کے مستقبل کو بہتر بنانے کی راہ میں کئے گئے قابل ستائش اقداما ت ہیں۔

اس حقیقت سے انکار مفر نہیں ہے کہ پابندیوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن ایرانی عوام نے جس ہمت اور حوصلے کے ساتھ ان پابندیوں کے ساتھ نباہ کیا اور اپنی حکومت کی عالمی طاقتوں کے مقابلے میں حمایت کی اور اپنی محنت اور لگن سے ملک کو ترقی کی راہ سے ہٹنے نہیں دیا یہ قابل رشک ہے اور دوسرے ملکوں کے لئے نمونہ ئ عمل بھی۔ایران کو اپنے سیاسی حریفوں سے محتاط رہنا ہوگا کیونکہ عالمی طاقتوں سے اسکی حریفانہ چشمک جاری رہیگی۔امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرکے اسکے جواز فراہم کردیے ہیں۔امریکہ ااور اسکے اتحادی ایران کی ترقی اور اسکی پالیسیوں کی کبھی حمایت نہیں کرسکتے۔ اب ایران کو عالمی طاقتوں کی جانب سے جاری سرد جنگ سے نپٹنے کے لئے مزید تیاریاں کرنی ہونگی جس سردجنگ کے وہ ابتک شکار ہوتے رہے ہیں۔

عادل فراز

08896531406