کورونا سے نجات کیلئے توبہ اور دعاکا خاص اہتمام کریں

کورونا سے نجات کیلئے توبہ اور دعاکا خاص اہتمام کریں

ڈرنے کی نہیں بلکہ احتیاط،پرہیز اور ڈاکٹروں کی ہدایت پر عمل کرنے کی ضرورت: مولانا ارشدمدنی

نئی دہلی :جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سیدارشدمدنی نے آج اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”کورونا وائرس“جیسی بیماری نے جس طرح پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور وہ اس کے سامنے بالکل بے بس نظرآتی ہے اس سے ایک بارپھر ثابت ہوگیا کہ انسان اپنی تمام ترعلمی اورسائنسی ترقی کے باوجوداس عظیم طاقت کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتاجو ہر شئے کی خالق ہے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے ملک کے تمام شہریوں سے یہ اپیل کی کہ اس وبائی بیماری سے خودکومحفوظ رکھنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیارکریں، اور اس کو لیکر عالمی تنظیم برائے صحت (WHO) اور مرکزی وزارت صحت کی جانب سے جو ہدایات جاری ہوئی ہیں ان پر نہ صرف خودعمل کریں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس پر عمل پیراہونے کی تحریک دیں،انہوں نے کہا کہ اتوارکے روز ملک کے تمام شہریوں نے جس طرح احتیاط،یکجہتی اور اتحادکا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کاروباری ادارے اور دفاتر بندرکھے یہاں تک کہ عام شہری بھی بلاضرورت اپنے گھروں سے باہر نہیں نکلے اسکی جس قدربھی ستائش کی جائے وہ کم ہے درحقیقت ”کورونا وائرس“کی شکل میں نازل ہونے والی اس بلاکا مقابلہ اسی طرح متحدہوکر کیا جاسکتاہے اوراس میں ہر شہری کو اپنا تعاون دینا چاہئے، انہوں نے مزید کہا کہ دنیامیں پہلے بھی بیماریاں وبائی شکل اختیارکرتی رہی ہیں ”کورونا“بھی ایک وبائی بیماری ہے لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اس نے جس طرح پوری دنیا کو اب اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اس سے ہرطرف خوف اور دہشت کاماحول قائم ہوگیا ہے، عالمی سطح پر کاروباری زندگی معطل ہوکررہ گئی ہے یہاں تک کہ اب لوگ اپنے گھروں میں ہی قید رہنے کو مجبورہیں، مولانامدنی نے کہا کہ موت توایک حقیقت ہے اور یہ اپنے مقررہ وقت پر ہی آئے گی لیکن ہمیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ہم جان بوجھ کر خودکو ہلاکت میں نہ ڈالیں پھر یہ بھی ہے کہ اس بیماری کا اب تک کوئی علاج تلاش نہیں کیا جاسکاہے ایسے میں احتیاط ہی اس کا سب سے بڑا علاج ہے ہم کو چاہئے کہ صاف صفائی کا خاص خیال رکھیں دوسروں کو بھی ا س کیلئے بیدارکریں اور ڈاکٹروں کے ذریعہ وقت وقت پر دی جانے والی صلاح اورہدایت پر بھی عمل کریں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی شخص میں خدانخواستہ اس بیماری کی کوئی علامت پائی جائے تو اسے چاہئے کہ بالکل خوف زدہ نہ ہوبلکہ کسی سرکاری اسپتال سے رجوع ہواور کوشش یہ کرے کہ دوسرے لوگوں سے میل ملاپ نہ کرے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ بیماری میل ملاپ سے زیادہ پھیلتی ہے گویا یہ ایک متعدی بیماری ہے، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ اس کے زیادہ شکارہوسکتے ہیں جن کے جسم میں مدافعت کی قوت کم ہوتی ہے چنانچہ عمررسیدہ لوگوں اور بچوں کو بہت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے انہوں نے مسلمانوں سے یہ اپیل کی کہ وہ مساجد میں صاف صفائی کا خاص خیال رکھیں اور احتیاط وپرہیز سے کام لیں اس بات کا خاص طورپر خیال رکھا جائے کہ اگر کسی کی صحت اس بیماری سے خدانخواستہ متاثرہے تو اس سے یہ درخواست کی جائے کہ وہ مسجد کے بجائے گھرمیں ہی نمازاداکریں انہوں نے آگے کہا کہ ہمارا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ جو بھی مصیبت اور وباانسانوں پر نازل ہوتی ہے وہ اس کے اپنے عمل اورافعال کا نتیجہ ہوتی ہے خاص طورپر جب لوگ ظلم وزیادتی کرتے ہیں مالی خیانت اور ناانصافی کے مرتکب ہوتے ہیں،بے ایمانی اور جان بوجھ کر اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرتے ہیں دوسروں کا دل دکھاتے اور انہیں تکلیف دیتے ہیں یہ تمام باتیں اللہ کی ناراضگی کا مستحق بننے والی ہوتی ہیں،کہیں ایسا تونہیں پچھلے دنوں جو کچھ ہوہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ کہیں اللہ کا عذاب ہمارے انہی گناہوں کا نتیجہ تونہیں؟ بہرحال حالات کو دیکھتے ہوئے احتیاط اور بیداری کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنا احتساب کرنے کی بھی ضرورت ہے ہمیں چاہئے کہ ہم توبہ واستغفار کرتے رہیں اور اللہ سے یہ دعامانگتے رہیں کہ وہ بنی نوع انساں کو اس وباسے نجات دے، بیشک وہی قادرمطلق ہے اور غفورالرحیم بھی ہے، مولانا مدنی نے آخرمیں کہا کہ اس بیماری سے پورے ملک میں خوف اور ڈرکی جو صورت حال پیداہوئی ہے اس کی وجہ سے کاروباراور دوسری سرگرمیاں بھی تقریبا بند ہوچکی ہیں ایسے میں ان غریب اور محروم طبقات کے سامنے زندگی اور موت کا سوال کھڑاہوسکتاہے جن کے پاس آمدنی کا کوئی معقول ذریعہ نہیں ہے اور جو روزانہ کی محنت سے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرتے ہیں اس سلسلہ میں مرکزاور صوبائی حکومتوں کو ہنگامی سطح پر غورکرنا چاہئے ایسے لوگوں کا باقاعدہ سروے کرکے مالی مددپہنچانے کی اشدضرورت ہے، انہوں نے ایک بارپھر ملک کے تمام شہریوں سے یہ اپیل کی کہ وہ خوف زدہ نہ ہواللہ حافظ وناصرہے تاہم احتیاط،پرہیز اورصاف صفائی کو مقدم رکھ کر اس مہلک بیماری سے خودکو محفوظ رکھیں، اللہ کی ذات سے ناامید ہرگزنہ ہو۔دعاؤں اور توبہ کے ساتھ ساتھ رجوع الی اللہ کا خاص اہتمام کریں۔