سوامی اسیما نند ودیگر کی باعزت رہائی ایک منصوبہ بند سازش کا نتیجہ: گلزار اعظمی

سوامی اسیما نند ودیگر کی باعزت رہائی ایک منصوبہ بند سازش کا نتیجہ: گلزار اعظمی

ممبئی: سمجھوتہ ایکسپری سبم دھماکہ معالے کے کلیدی ملزم سوامی اسیمانند و دیگر کے خصوصی این آئی ائے عدالت کی جانب سے باعزت بری کیئے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزمین کی رہائی کے لیئے قومی تفتیشی ایجنسی NIA مبینہ طو ر پرذمہ دار ہے کیونکہ استغاثہ عدالت کے سامنے موثر طریقے سے ثبوت و شواہد پیش نہیں کرسکا ورنہ اقبالیہ بیان دینے کے باوجود ملزمین کا مقدمہ سے باعزت بری ہوجا نا حیرت انگیز امر ہے۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ یہ پہلا مقدمہ نہیں ہے جس میں این آئی اے نے ایک منصوبہ بند طریقے سے ایک مخصوص گروپ کے ملزمین کو مدد پہنچائی ہے ، مالیگاؤں ۲۰۰۸ بم دھماکہ معاملہ، مکہ مسجد بم دھماکہ معاملہ، جالنہ پرنا مسجد بم دھماکہ و دیگر اس کی تازہ مثالیں ہیں جہاں پر عدالت نے ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر بھگوا ملزمین کو مقدمہ سے باعزت بری کردیا۔

گلزار اعظمی نے کہاکہ سوامی اسیمانند نے ہی دہلی کی پٹیالیہ ہاؤس عدالت میں ۲۰۱۰ء میں اقبالیہ بیان دیتے ہوئے ہندوستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے بم دھماکوں جس میں درجنوں مسلمان شہید ہوئے تھے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس کے بعد بھگوا ملزمین کی گرفتاری عمل میں آئی تھی لیکن مقامی تفتیشی ایجنسیوں سے تحقیقات اپنے ہاتھوں میں لینے کے بعد این آئی اے نے ایک منصوبہ بند طریقے سے بھگوا ملزمین کو مدد پہچانے کا عمل شروع کیا جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ این آئی اے کس طرح سے بھگوا ملزمین کو مدد پہنچاتی ہے اس کی زندہ مثال مالیگاؤں ۲۰۰۸ بم دھماکہ معاملہ ہے جس میں اس نے اے ٹی ایس کی جانب سے گرفتار کیئے گئے ملزمین سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر ودیگر کوکلین چٹ دے دی، اگر اس معاملے میں متاثرین کی جانب سے جمعیۃ علماء نچلی عدالت سے لیکر عدالت عظمی تک بروقت مداخلت نہیں کرتی تو ابتک بھگوا ملزمین مقدمہ سے باعزت بری ہوجاتے۔

گلزار اعظمی نے مزیدکہا کہ اگر سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکہ معاملے کے متاثرین آگے آتے ہیں تو جمعیۃ علماء سینئر وکلاء سے صلاح و مشورہ کرکے سوامی اسیمانند و دیگر کی رہائی کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع ہونے کے بارے میں لائحہ عمل تیار کریگی کیونکہ موجودہ حکومت نچلی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریگی اس کی امید لگانا فضول ہے۔ واضح رہے کہ ۱۸؍ فروری ۲۰۰۷ء کو دہلی ۔لاہور سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین میں پانی پت کے قریب ۲ بم دھماکے ہوئے تھے جس میں ۶۸؍ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ایک درجن سے زائد مسافر زخمی ہوئے تھے۔بم دھماکوں کے بعد چار ملزمین سوامی اسیمانند، لوکیش شرما، کمل چوہان اور راجندر چودھری کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا جو پنچکولہ کی خصوصی این آئی اے عدالت میں چل رہا تھاجہاں گذشتہ کل چار ملزمین کو عدالت نے مقدمہ سے باعزت بری کردیا۔