فرضی ہے نتیش کا سوشاسن،24 گھنٹے کے اندر معاوضہ اور نوکری کا کرے اعلان: بیداری کارواں

فرضی ہے نتیش کا سوشاسن،24 گھنٹے کے اندر معاوضہ اور نوکری کا کرے اعلان: بیداری کارواں

سیتامڑھی ضلع کلکٹر اور سابق ایس پی پر ہو قتل کا مقدمہ درج، نہیں تو پورے بہار میں بیداری کرواں کرے گا احتجاج

دربھنگہ: آل انڈیا مسلم بیداری کارواں دربھنگہ نے پوربی چمپارن کے چکیہ تھانہ حلقہ کے رام ڈیہا باشندہ محمد غفران اور محمدتسلیم کی پولیس حراست میں بے رحمی اور ظالمانہ طریقے سے پولیس کے ذریعہ کئے گئے قتل کے خلاف دربھنگہ شہر کے انکم ٹیکس چوراہا پر بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار اور ریاستی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ پروگرام کی قیادت مقصودعالم عرف پپو خان کررہے تھے۔اس دوران بیداری کارواں کے لوگ نتیش حکومت مرداباد، اقلیت مخالف نتیش کمارمرداباد، اقلیتوں کا تحفظ نہیں، تو ووٹ نہیں،اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بناؤ، بہارکے مسلمانوں کو ٹارگیٹ کرنا بند کرو، سیتامڑھی ضلع کلکٹر اور ایس پی پر قتل کا مقدمہ درج کرو، دونوں نوجوان کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپیہ اور ایک ایک فرد کو سرکاری نوکری دو جیسے نعرے لگارہے تھے ساتھ ہی نتیش حکومت کو اقلیت مخالف بھی بتارہے تھے۔ احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بیداری کارواں کے صدرنظرعالم نے کہا کہ نتیش حکومت ہٹھ دھرمی پر ٹکی ہوئی ہے، اگر 24 گھنٹے کے اندر دونوں نوجوان کے اہل خانہ کو معاوضہ کا اعلان نہیں کیا، سیتامڑھی ضلع کلکٹر اور سابق ایس پی پر قتل کا مقدمہ درج کر جیل میں نہیں ڈالا، پورے معاملے کی سی بی آئی سے جانچ نہیں کرائی اور اقلیتوں کے تحفظ کی گارنٹی نہیں لیا تو پورے بہار میں احتجاج کرے گا بیداری کارواں۔احتجاج کے دوران وزیراعلیٰ نتیش کمار، سیتامڑھی کے موجودہ ضلع کلکٹر اور سابق ایس پی کا انکم ٹیکس چوراہا پر پتلا بھی نذرآتش کیاگیا۔ احتجاجی مارچ اور پتلا نذرآتش پروگرام میں بیداری کارواں کے ایڈوکیٹ صفی الرحمن راعین، اسعدرشید ندوی، مولانا سمیع اللہ ندوی، اشرف سبحانی، بدرالہدیٰ خان، محمدطالب، مطیع الرحمن موتی، محمدہیرا وغیرہ کثیرتعداد میں لوگ شریک تھے۔احتجاجی جلسہ کے دوران جم کر نتیش حکومت کو اقلیت مخالف بتاتے ہوئے کارواں کے ممبران نے کہا کہ اگر اسی طرح سے مسلمانوں کو نتیش کمار پولیس سے ٹارچر کر مرواتے رہے تو ہماری تنظیم متھلانچل میں بڑا احتجاج تو کرے گی ہی پٹنہ کی سرزمین پر بھی بڑے پیمانے پر احتجاج کی صدا بلند کرے گا اور تب تک یہ احتجاج چلتا رہے گا جب تک اقلیتوں کے تحفظ کو حکومت یقینی نہ بنائیگی۔کارواں کا مطالبہ ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر سیتامڑھی ضلع کلکٹر اور ایس پی پر قتل کا مقدمہ درج کر جیل میں ڈالا جائے۔ اگر نتیش حکومت زین الانصاری کے قتل کی طرح اس معاملے کو دبانے کی ناپاک کوشش کی تو بہار کا اقلیتی طبقہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔پچھلے دنوں پوربی چمپارن کے چکیہ تھانہ حلقہ کے رام ڈیہا باشندہ محمدغفران اور محمدتسلیم کو سیتامڑھی کے ڈمرا تھانہ کی پولیس چکیہ پولیس کی مدد سے اٹھاکر پوچھ تاچھ کے لئے ڈمرا تھانہ لے گئی اسی دوران ڈمرا تھانہ کی پولیس نے دونوں نوجوان کو تھرڈ ڈگری دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔چکیہ تھانہ کی پولیس پر بھی قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔اس معاملے پر اہل خانہ کے ممبران نے بھی صاف صاف پولیس پر ہی الزام لگارہے ہیں کہ جبراً دونوں لڑکے سے جرم قبول کروانے کی خاطرچکیہ تھانہ کی پولیس کی مدد سے ڈمرا تھانہ نے تھرڈ ڈگری کا استعمال کر دونوں لڑکے کا بے رحمی سے قتل کردیا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے بھی یہ ثابت کردیا ہے کہ ٹارچر کی وجہ کر ہی دونوں نوجوان کی جان گئی ہے۔ کچھ پولیس نوجوان کو سسپنڈ بھی کیا گیا ہے۔ اس سے کام نہیں چلنے کو ہے۔ حکومت پورے معاملے کی سی بی آئی جانچ کرائے اور ایس پی ، ضلع کلکٹر پر 302 کا مقدمہ درج کر جیل میں ڈالے نہیں تو احتجاج کے لئے ریاستی حکومت تیار رہے۔ کیوں کہ جتنی پولیس مجرم ہے اس سے کہیں زیادہ سیتامڑھی ضلع کلکٹر اور سابق ایس پی ذمہ دار ہے۔ پھر بھی حکومت ایسے لوگوں کو کیوں بچا رہی ہے؟ آخر نتیش کمار کی کیا مجبوری ہے کہ ایک دنگائی اور قاتل ضلع کلکٹر کا سیتامڑھی سے تبادلہ نہیں کرپارہی ہے؟ موجودہ ضلع کلکٹر کی سرپرستی میں ہی پچھلے دنوں سیتامڑھی فساد میں زین الانصاری کا بہیمانہ قتل کر سرعام پولیس کی موجودگی میں جلا دیا گیا تھا تب سے لگاتارنتیش حکومت اندھی بنی گئی ہے اور سازش کے تحت اقلیتوں کا قتل کرا رہی ہے۔ فرضی ہے نتیش کمار کا سوشاسن، نیائے کے ساتھ وِکاس اور قانون کے راج کا نعرہ۔ بہار میں اس وقت کرائم چرم پر ہے جس پر قابو پانے میں نتیش کمار پوری طرح سے ناکام ہے اور یوگی حکومت کے طرز پر مسلمانوں کو پولیس اور غنڈوں سے ٹارگیٹ کروا رہی ہے۔ نتیش کمار نے بہار کے اقلیتوں میں ڈر اور خوف کا ماحول پیدا کردیا ہے۔ مسلمانوں کو بانٹنے کے معاملے میں نتیش کمار ایک نمبر پر ہیں، مسلمانوں میں پھوٹ ڈالو راج کرو کی پالیسی پر ان دنوں زیادہ کام کررہے ہیں۔ اقلیتی طبقہ اگر کرسی سونپ سکتا ہے تو اکھاڑ پھینکنے میں بھی وقت نہیں لگائے گا۔