مصالحت ملکیت کی بنیادپر ہی ہونی چاہئے : مولانا ارشدمدنی

مصالحت ملکیت کی بنیادپر ہی ہونی چاہئے : مولانا ارشدمدنی

نئی دہلی: بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں ( جمعیۃعلماء ہند کے لیڈ میٹر سول پٹیشن نمبر (10866-10867/2010)(محمد صدیق جنرل سکریٹری جمعیۃعلماء اترپردیش)) آج ہندوفریقین کے تمام تراعتراضات کے باوجود سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بینچ نے معاملہ کو مصالحت کے ذریعہ حل کئے جانے کے احکامات صادر کردیئے ، نیز عدالت نے سپریم کورت کے سابق جسٹس فقیر محمد ابراہیم خلیفہ اللہ کی سربراہی میں ایک تین رکنی پینل بھی تشکیل دیدیا ،جس میں شری شری روی شنکراور مصالحت کاری کے ماہر وکیل شری رام پنچو شامل ہیں ، چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی ،جسٹس اے ایس بوبڑے ، جسٹس اشوک بھوشن ، جسٹس چندرچوراور جسٹس عبدالنظیر کی موجودگی میں وکلاء سے کھچا کھچ بھری عدالت میں فیصلہ پڑھ کر سنایا ، جس میں کہا گیا کہ مصالحت کا عمل فیض آبادمیں انجام دیاجائے گا، اور مصالحت کے دوران میڈیا کو رپورٹنگ کی اجازت نہیں ہوگی ، دوسرے یہ کہ فریقین پینل کے روبر بندکمرے میں مصالت کی کارروائی انجام دیں گے ۔

چیف جسٹس نے زبانی طورپر فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ مصالحت کے لئے معاملہ بھیجنے پر اعتراضات کے باوجود قانون میں دی گئی شق کی بنیادپر اس معاملہ کو ہم مصالحت کے لئے بھیج رہے ہیں ، واضح ہوکہ پینل اس تعلق سے اپنی ابتدائی رپورٹ عدالت کو چارہفتوں کے اندرمہیاکرائے گا ، اور آٹھ ہفتوں کے اندرپینل کو اپنی حتمی رپورٹ بھی پیش کرنی ہوگی ، اس معاملہ میں اہم فریق جمعیۃعلماء ہند نے ایک جانب جہاں عدالت کے مصالحت کے مشورہ کا خیرمقدم کیا تھا وہی ہندوفریقوں نے اس مشورہ کی شدید مخالفت کی تھی ، لیکن عدالت کے دباو میں اس نے بھی تین ثالثوں کے نام پیش کئے تھے ، جن میں سابق چیف جسٹس جگدیش سنگھ کہیر ،سابق چیف جسٹس دیپک مشرا اورجسٹس اے کے پٹنائک شامل ہیں ، لیکن آج عدالت نے ان کے ذریعہ تجویز کردہ تینوں ناموں کو یکسر مستردکرتے ہوئے ایک آزادثالثی پینل کا تقررکردیا ہے ۔ واضح رہے کہ گزشتہ دوسماعتوں سے سپریم کورت اس معاملہ کو مصالحت کے ذریعہ حل کرائے جانے کے امکانات پر غورکررہی تھی ، اورفریقین سے اس تعلق سے ان کی رائے بھی طلب کی تھی ، جس کے دوران ہندوفریقین نے مصالحت کے مشورہ کو مستردکردیا تھاجبکہ جمعیۃعلماء ہند سمیت دیگر مسلم فریقین نے عدالت کے مشورہ کا احترام کرتے ہوئے عدالت سے معقول فیصلہ کرنے کی گزارش کی تھی ، جس کے بعد آج عدالت نے اس معاملہ کو مصالحت کے لئے بھیج دیا ۔ جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے آج کی پیش رفت پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم عدالت کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں ہم پینل کو اپنا مکمل تعاون دیں گے ،اور ہماری کوشش ہوگی کہ پینل کے روبرواپنی بات موثر اندازمیں رکھ سکیں ، انہوں نے وضاحت کی کہ جمعیۃعلماء ہند کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ آپسی بات چیت سے یہ تنازعہ حل ہوجائے لیکن فریق مخالف کی نمائندوں کی ہٹ دھرمی اور اڑیل رویہ کی وجہ سے ماضی میں بات چیت کے لئے ہونے والی ہر کوشش ناکام رہی ، انہوں نے کہا کہ ہم تو اس معاملہ میں ثبوت وشواہد کے بنیادپر ہی فیصلہ چاہتے ہیں اور مصالحت کے لئے بھی اس وجہ سے تیارہیں کہ فاضل عدالت مصالحت چاہتی ہے ، مولانا مدنی نے کہا کہ ہم پہلے ہی اپنا موقف واضح کرچکے ہیں کہ یہ ملکیت کا معاملہ ہے اس لئے بات چیت اور مصالحت کی کوشش بھی ملکیت کی بنیادپر ہی ہونی چاہئے آستھا کی بنیادپرہرگز نہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت کے حکم کے مطابق مصالحت کی مکمل کارروائی فیض آبادمیں انجام دی جائے گی ، لیکن وہاں فریقین کو آنے جانے میں قدرپریشانی ہوسکتی ہے اور دوسری نوعیت کے خدشات بھی لاحق ہوسکتے ہیں، چونکہ معاملہ کاتعلق اترپردیش ہی سے ہے اور پینل کی تشکیل میں بھی ایسے لوگوں کی نامزدگی ہوئی ہے جن کا تعلق دوسری ریاستوں سے ہے ،اس لئے مناسب تویہی ہوگا کہ مصالحت کے عمل کیلئے فیض آباداور یوپی کے بجائے اگردہلی کا انتخاب کرلیاجائے توکہیں زیادہ بہتررہے گا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو اس تعلق سے ہم لوگ مصالحت کاروں سے بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔

ا سلئے بہتر ہوگا کہ مصالحت کے لئے عدالت فیض آباد کے بجائے دہلی کا انتخاب کردے ، انہوں نے اس امرپر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا کہ عدالتی پینل کا اعلان ہوتے ہی ایک بار پھرفرقہ پرستوں نے اشتعال انگیزی شروع کردی ہے انہوں نے کہا کہ ان عناصر کے خلاف سپریم کورت کوازخودنوٹس لینا چاہئے کیونکہ اس طرح کی شرانگیزی سے جہاں نقض امن کا خطرہ لاحق ہوسکتاہے وہی سماج میں ایک بارپھر فرقہ وارانہ صف بندی قائم ہوسکتی ہے اور کشیدگی میں اضافہ ہوسکتاہے ، انہوں نے سوال کیا کہ جب معاملہ حتمی فیصلہ کے لئے عدالت میں زیر سماعت ہے تو کچھ لوگ عدالت سے باہر اس معاملہ پر شرانگیزی کیوں کر رہے ہیں ، ایسے لوگوں کے خلاف کوئی قانونی کارووائی کیوں نہیں ہورہی ہے ، ۔آج عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء جس میں سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹرراجیو دھون ، ایڈوکیٹ آن ریکاڈر اعجاز مقبول کے علاوہ ایڈوکیٹ جارج، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے ، ایڈوکیٹ قرۃ العین،ایڈوکیٹ محمدعبداللہ، ایڈوکیٹ زین مقبول، ایڈوکیٹ ایوانی مقبول،ایڈوکیٹ کنور ادتیہ، ایڈوکیٹ ہمسینی شنکرو دیگر موجود تھے ۔