آل رسول کی شان میں گستاخی نا قابل قبول

مجلس علما و ذاکرین ہند کا شدید رد عمل

لکھنو: مولانا ظہیر افتخاری جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے کہاکہ مولانا ذکی با قری نے سورہ دہر کی آیت ۷،۸جوخالص اہل بیت علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے ۔ ا س کا مصداق خامنہ ای صا حب کو قرار دیا ۔ ذکی با قری ماضی میں بھی اپنی بد عقیدگی ، ہمہ دانی کے بیانات کے لیے سرخیوں میں رہے ہیں ۔ ان کا اخبار میں چپنے کا بڑا شوق ہے۔ ان سے اس کے سوا اور امید بھی کیا کی جا سکتی ہے ۔

مجلس علما و ذاکرین ہند کا ایک جلسہ زیر صدارت مولانا ظہیر افتخاری منعقد ہوا ۔ اس جلسہ میں ذکی با قری کی اس تقریر کی بھر پور اور پرجوش انداز میں مذمت کی گئی ۔ مولانا ظہیر افتخاری نے کہاکہ ذکی با قری نے انقلاب ایران کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر جا معہ ملیہ دہلی میں یہ بات کی تھی ۔ اپنی تقریر میں ذکر با قری نے آیت اللہ خامنہ ای کی چاپلوسی کر تے ہوئے قرآن کی عظمت کا مذاق اڑا یا اور تفسیر با لرائے کا مظاہر کرتے ہوئے عظمت و وقار اہل بیت علیہم السلام گھٹانے کی نا کام کوشش کی ۔ شاید ذکی با قری اس مسئلہ سے لا علم ہیں کہ تفسیر بالرائے حرام ہے ۔ مولانااور علما ءکوتو مکروہات سے پرہیز کرنا چاہئے مولانا مو صوف نے تو حرام کی لائن بھی عبور کر دیا۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ جو اس تقریب میں واسطہ بالواسطہ موجود تھے وہ ابھی تک خامو ش کیوں ہیں ؟کیا انہیں آخرت کا ڈر نہیں؟ کیا ان کا ایمان آخر ت سے اٹھ چکا ہے؟ کیا انہیں میدان محشر میں آل رسول کے سامنے حاضر نہیں ہو نا ہے ؟ خاص طور پر حجة الاسلام مہدوی پور جو اس کانفرنس کے بانی ہیں ان سے درخواست ہے کہ وہ ذکی با قری جیسے تقصیر پرست کی مذمت کریں ۔ جبکہ مولانا مو صوف خود مخالف ہیں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آغا مہدوی پور بہت جلد ان تمام باتوں کی وضا حت فرمائیں گے اس زعم میں کوئی نہ رہے کہ ہم دولت اور حکومت کے بل پر اہل بیت کی گستاخی کرکے نکل جائیں گے ۔مولانا ظہیر افتخاری نے مزید کہاکہ جو کسی عالم کے سجدہ ¿ تعظیمی کے بیان پر شریعت کی دہائی دیتے ہوئے ہنگامہ آرائی کرتے ہیں ایسے گستاخانہ بیان پر ان کے قلم کی روشنائی کیوں خشک ہوجاتی ہے ۔

پر وگرام میں مولانا علی متقی ، مولانا یعسوب عباس ، مولانا مر ز ا زیدی ، مولانا جعفر عباس ، مولانا عباس ارشاد ، مولانا ابو افتخار زیدی ، مولانا میثم زیدی ، مولا نا صد جونپوری ، مولانا محسن جعفری ، مولانا رضا عباس ، مولانا ثقلین ، مولانا اعجاز اطہرممتاز علی وغیرہ دیگر علما نے شرکت کی ۔