تعلیم کے میدان میں خاص محنت کرنے کی ضرورت

تعلیم کے میدان میں خاص محنت کرنے کی ضرورت

جمعیۃ علماء ضلع تھانے و پالگھر کی سہ ماہی میٹنگ میں شرکاء کا اظہار خیال

تھانے : دین کی بنیادی تعلیم کے ساتھ ہی عصری تعلیم کی طرف بھی مسلمانوں کو توجہ دینا چاہئے ،اور اس کے لئے ہمیں بھی اردو کے ساتھ عصری تعلیم کے لئے اسکول اور کالجس کھولنا اور اس کو منظم طریقہ پر چلانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ مسلم بچے بھی غیر شرعی کاموں سے محفوظ رہیں اورتعلیمی میدان میں پیچھے نہ رہیں۔ان خیالات کا اظہارجمعیۃ علماء ضلع تھانے و پالگھر کی سہ ماہی میٹنگ میں مقامی یونٹوں کے ذمہ داران کیا ۔ اس میٹنگ کا آغاز جناب مولانا خالد صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔جناب قاری سلیم صاحب (صدر جمعیۃ علماء نوی ممبئی)نے رسول اکرم ﷺ کی شان و منقبت میں منظوم ہدیہ نعت و سلام پیش کیا ،مولاناعبد السبحان قاسمی صاحب نے تذکیری کلمات ادا کئے،اور دونوں اضلاع کی مختلف یونٹوں کے نمائندوں نے اپنے اپنے علاقے کی کار گزاری پیش کی ،تقریباًتمام شرکاء نے کہا کہ پچھلی سہ ماہی میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تائید و حمایت کے میں دستخطی مہم پر زیادہ توجہ مبذول کی گئی ،ممبرا کی یونٹ کے صدر مولانا عبد الوہاب قاسمی نے اپنے علاقے میں تحفظ شریعت کانفرنس کے اثرات سے آگاہ کیا ، میرا روڈ کی یونٹ کی کوششوں سے میرا بھائندر کارپوریشن کے حدود میں گورنمنٹ کے سرکاری دفاتر کے قیام کی منظوری حاصل ہوئی،جناب دبیر عالم صدیقی جنرل سکریٹری میرا روڈ نے اپنی کار گزاری پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہمارے علاقے میں عوامی بیت الخلاء نہیں ہیں ،اس سلسلے میں بھی کوشش جاری ہے ۔ یکم جنوری کو نیرول ،نوی ممبئی کی جامع مسجد میں جمعیۃ علماء ضلع تھانے و پالگھر کی مجلس منتظمہ کے ممبران کی سہ ماہی میٹنگ شرکاء میٹنگ نے اس با ت پر خاص زور دیا کہ مسلمانوں میں تعلیمی بیداری تو پائی جاتی ہے مگر خود ان کے اپنے اسکول اور کالج بہت کم تعداد میں ہیں،جس کی وجہ سے مسلم طلبہ کو ایسے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے ،جہاں غیر شرعی رسوم و رواج انجام دیئے جاتے ہیں ۔بھیونڈی یونٹ کے جنرل سکریٹری مفتی حفیظ اللہ قاسمی نے کہا کہ عنقریب بھیونڈی میں جمعیۃ کلینک کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔ نوی ممبئی یونٹ کے ذمہ دار مولانا حیات اللہ قاسمی نے بتایا کہ ان کے حلقے میں جمعیۃ علماء کا دفتر قائم ہوگیا ہے ،اور مختلف سر گرمیاں جاری ہیں ۔اس کے علاوہ مولانا محمد عارف عمری ،مولانا عبد السبحان قاسمی، مولانا ادریس، حاجی قریش صدیقی ،مفتی محمد اعلم،مولانا ثناء اللہ ،عبد الحق،عبد المتین شیخ نے اپنی اپنی یونٹوں کی سر گرمیاں بیان کیں ،اور آخر میں صد رمیٹنگ مولانا حلیم اللہ صاحب قاسمی نے اپنے خطاب میں اس بات پر خاص زور دیا کہ تمام یونٹوں کے ساتھیوں کو اس بات کا احساس ہے کہ ہمارے علاقے میں خاطر خواہ کام نہیں ہوا ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے کا م کو مستقبل میں پر عزم طور پر کرنے کے خواہاں ہیں اور خودستائی کی لعنت میں گرفتار نہیں ہیں ،اگلی سہ ماہی میٹنگ کے لئے میرا روڈ کا انتخاب عمل میں آیا ،انشاء اللہ بتاریخ ۲؍اپریل کویہ میٹنگ میرا روڈ میں منعقد ہوگی،صدر مجلس کی دعا پر میٹنگ بر خاست ہوئی ۔حافظ محمد عارف انصاری نے گزشتہ اجلاس کی خواندگی کی ،اور مفتی حفیظ اللہ قاسمی نے نظامت کے فرائض دیئے۔آخر میں شیخ ثانی دارالعلوم دیوبند مولانا عبد الحق اعظمیؒ ،مولانا عبد الرشید مظاہری بستوی سابق استاد مدرسہ صولتیہ مکۃ المکرمۃکے انتقال پر ملال پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار ،اور تعزیتی قرار داد منظور کر کے مرحومین کے لئے ایصال ثواب کیا گیا۔صدر مجلس نے ٹرسٹیان نیرول جامع مسجد کا شکریہ ادا کیا۔ اس میٹنگ میں ضلع تھانہ و پالگھر کے اراکین منتظمہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی ،جن میں حافظ محمد الیاس ،نسیم زیدی،مولانا شہزاد،مولانا طارق ،مولانا احمد اللہ ، مولانا الیاس مظاہری،قاری احمد علی،حاجی ولی محمد ،قاری عبد السمیع،حاجی ولی عمر،مولانااسجد،مفتی لئیق احمد قاسمی ،حافظ فیصل انصاری ،حافظ فیاض،حاجی اسحاق،مولانا حیات اللہ قاسمی،مولانا ارشاد قاسمی،محمد سالم،قاری منصورعالم،مولانا عبد الصمد قاسمی،مولانا شمشیر عالم و غیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔