عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری سپرد خاک ،نماز جنازہ میں جم غفیر امڈا

عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری سپرد خاک ،نماز جنازہ میں جم غفیر امڈا

کراچی: ’’میں قبر اندھیری میں گھبراؤں گا جب تنہا ۔۔امدا د میری کرنے آجانا رسول اللہﷺ‘‘جیسے کلمات سنا کر دلوں کو گرمانے والے قوال و ثناء خوان مصطفیٰؐ امجد صابری کو ان کے والد غلام فرید صابری کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا ، تدفین کے موقع پر لوگوں کا جم غفیرقبرستان امڈ آیااور مرحوم کا آخری دیدار کیا ، اس موقع پر کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ،محبتیں بانٹنے والے امجد صابری کے چاہنے والے شدت غم سے نڈھال ،آہوں اور سسکیوں کی گونج میں ہونے والی تدفین نے ٹی وی پر مناظر دیکھنے والی ہر آنکھ اشکبار کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے معروف قوال امجد صابری کی نماز جنازہ لیاقت آباد روڈ پر دربار بابا فرید گنج شکرؒ پاکپتن شریف کے گدی نشین کی امامت میں ادا کی گئی ۔ امجد صابری کی نماز جنازہ پڑھنے کیلئے مداحوں اور عزیز و اقار ب سمیت ہزاروں افراد لیاقت آباد روڈ پر ارم بیکری کے سامنے پہنچے ۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے رینجرز کے جوانوں نے علاقے کا سرچ آپریشن بھی کیا اور وہاں پر موجود رکشوں اور گاڑیوں کو ہٹادیالیکن اس کے باوجود گاڑیوں کی بڑی تعداد وہاں موجود رہی۔ مقتول قوال امجد صابری کی نماز جنازہ دوپہر ایک بجے لیاقت آباد روڈ پر ارم بیکری کے سامنے دربار بابا فرید گنج شکرؒ کے گدی نشین احمددیوان مسعود چشتی کی امامت میں ادا کی گئی ۔ جنازہ میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجود تھا اور ہر آنکھ ہی اشکبار نظر آئی جبکہ بہت ہی رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے کو ملے ۔ امجد صابری کی میت کوجب گھر سے نکالا گیا تو اس وقت شدت غم اور گرمی کی وجہ سے متعدد خواتین بے ہوش ہوگئیں۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد امجد صابری کی میت کو پاپوش نگر قبرستان میں پیر حیرت شاہ وارثی کے مزار کے احاطے میں دفن کیا گیا۔ واضح رہے کہ امجد صابری کے والد غلام فرید صابری کی قبر بھی اسی احاطے میں موجود ہے اور امجد صابری کو اپنے والد کے پہلو میں دفن کیا گیا ہے۔ امجد صابری کے قتل پر پوری دنیا میں موجود مداحوں اور اہم شخصیات نے گہرے رنج و غم اور غصہ کا اظہار کیا ۔ ان کے منوں مٹی تلے دفن ہونے کے بعد قوالی کا ایک باب بند ہوگیا۔