بقلم:پروفیسر ڈاکٹر عبدالحليم قاسم

ابتداء دنیاں سے لیکر انتہاء دنیاں تک باقی رہنے والی آسمانی کتاب قرآن پاک واحد ایک ایسا معجزہ ہے جس کی ذمہ داری رہتی دنیاں تک خالق کائنات نے خود اپنے ذمہ لے رکھی ہے،
ماہ رمضان اور نزول قرآن کا تصور ایک دوسرے کے بغیر نا ممکن نا مکمل اور ادھورا ہے،
روزوں کی حقیقت و معنویت قیام لیل اور تراویح کے بغیر ناقص اور ادھوری ہے ،
مروجہ تراویح اور زمینی حقائق
ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش میں ماہ رمضان المبارک میں تراویح کی مختلف صورتیں رائج ہیں،
تین دن، پانچ دن، سات دن، دس دن بارہ دن وغیرہ وغیرہ اس کے علاوہ پندرہ دن، بیس دن، اور آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ختم شبینہ تراویح کے اہتمام بھی ملک ہندوستان میں کثرت سے رائج ہیں،
کم مدت و دورانیہ پر مشتمل ختم تراویح کی توجیہات
کم سے کم دنوں میں ختم تراویح کی مختلف توجہات بیان کی جاتی ہیں،
( 1 )غیر مقامی حفاظ کرام کا اپنے گھروں سے دور مقیم رہکر زیادہ دنوں فکر کے ساتھ قیام کرنے کی پریشانیوں کی وجہ سے عجلت پیش نظر ہوا کرتی ہے،
( 2 )بعض تاجروں اور اور مسافرین کی ضرورتوں کے پیش نظر اس قسم کے اقدامات کئے جاتے ہیں تاکہ کم وقت میں تکمیل قرآن کی سنت پوری کر آزادانہ تجارت و اسفار کر سکیں،
( 3 )بعض اوقات حفاظ کی کثرت کے پیش نظر ایک ہی مسجد میں متعد ختم تراویح متعدد حفاظ کرام کے لئے مواقع فراہم کرنے کے لیے انتظامات کئے جاتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ حفاظ ختم تراویح کر قرآنی یادداشت کو باقی رکھ سکیں،
( 4 )بعض اوقات ذہنی تناؤ اور اس بات کی فکر پیش نظر رہتی ہے کہ جلد از جلد ایک قرآن مکمل تراویح میں سننے کی سنت پوری ہوجائے باقی پورے ماہ تراویح پڑھنے کی سنت آزادی کے ساتھ کہیں بھی رہکر ادا کرتے رہیں گے،
شکلیں و ذاتی مقاصد اور بھی ہو سکتی ہیں، صورتحال کے اختلاف سے شکلیں مختلف ہوا کرتی ہیں،
عوامی پس منظر، رجحانات
تحدیث نعت کے طور پر عرض کرتا چلوں تقریباً 1988 سے لیکر تا دم تحریر بحیثیت حافظ قرآن تسلسل کے ساتھ تراویح سنانے اور تقریباً 33 سال کے مکمل عوامی تجربہ کی بنیاد پر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ خواص سے کہیں زیادہ عام لوگ حفاظ کرام کی فضیلت، عظمت، قدر و منزلت کے نہ صرف قائل بلکہ عملی برتاؤ اور حسنِ سلوک پر یقین رکھتے ہیں،
لھذاٰ تراویح، نوعیت تراویح عظمت تراویح، غلط روش و مروجہ روائیت کے بارے میں عمومی طور پر عوام کو ذمہ دار ٹھہرانا بعید از قیاس اور غیر مناسب ہے،
کم مدت و دورانیہ پر مشتمل تراویح کے نقصانات،
گزشتہ دنوں رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی بیشمار تراویح کے تعلق سے مستند و متبحر اہل علم کے بیانات سماعت سے ایسے گزرے جس میں عوامی طور پر قرآن خوانی میں آداب قرات کی صریحی پامالی، عجلت، بعض اوقات کم وقت میں زیادہ پڑھنے کی تیز-رفتاری اور بھی بہت ساری خامیوں کا ذمہ دار عوام کو ٹھہرایا گیا،
اہل علم کی جانب سے اس طرف توجہ و بیداری اس وقت نمودار ہوئی جب تیز-رفتار تراویح کی ویڈیو، آئڈیوز کی کلپس سوشل میڈیا پر گزشتہ سالوں میں تیزی سے گردشیں کرنے لگیں،
غلط روایت و نقصانات
( 1 ) کم دورانیہ پر مشتمل تراویح کی جستجو اور ڈیمانڈ لوگوں میں پیدا ہونے لگی،
( 2 )رمضان المبارک سے قبل نماز جمعہ میں بطورِ خاص آسانیوں کے پیش نظر کم دنوں کے تعین کے ساتھ اعلانات ہونے لگے،
( 3 ) بڑے بڑے شہروں میں شائع ہونے والے اخبارات کے صفحہ اول پر مساجد اور ائمہ کے نام کے ساتھ پانچ دن، سات دن، دس دن ختم تراویح کے اشتہار شائع ہونے لگے،
( 4 )بعض مقامات پر کم دنوں کے تعین کے ساتھ ساتھ کم وقت مثلاً روزانہ پانچ پارے وہ بھی فرض نماز، تراویح اور وتر ملا کر صرف دو گھنٹوں میں مکمل کرنے کے دعوے بھی چرچوں میں آنے لگے،
( 5 )شہروں کی بعض مساجد کم دنوں اور کم وقت کی تراویح میں اتنی شہرت یافتہ ہو گئیں کہ وہاں مقتدیوں کی بھیڑ سڑکوں پر امڈنے کے باعث عام آمد و رفت تک متاثر ہونے لگی،
مشاہدات و آبزرویشن
جب بہت قریب سے ایسے تمام مقامات کا مشاہدہ کیا گیا جہاں جہاں جن مساجد، پرائیویٹ مقامات، فیکٹریز،گھروں کے ہال، اسپتال وغیرہ میں کم دنوں اور کم وقت پر مشتمل تراویح کے انتظامات کئے جاتے ہیں ایسی سبھی جگہوں پر تراویح کی خدمات انجام دینے والے بہرحال حفاظ کرام، قراء حضرات ، اور بعض مقامات پر مستند اہل علم ائمہ حضرات سے ملاقات ہوئی جبکہ بعض مقامات پر تراویح پڑھانے والے، پڑھنے والے، انتظام کرنے والے سبھی اہل علم نظر آئے،
ذمہ داری و جوابدہی
سوال یہ ہے یہ روایت کس نے ڈالی،
سوال یہ بھی ہے کہ شبینہ کا موجد کون ہے،
سوال یہ بھی ہے یہ تراویح پڑھانے والے کون عام لوگ ہیں جو آداب تلاوت کی رعایت ملحوظ نہیں رکھتے،
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب کوئی ایسی خامی وہ بھی رہتی دنیاں تک آسمانی کتاب کے ساتھ ایسے لوگ کریں جو قوم کی امامت فرما رہے ہوں تو ایسی صورتحال میں ذمہ داری کس کی ہوگی،
سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایک سنت پر عمل کرنے اور تکمیل قرآن تراویح میں سننے کے لئے کم دنوں، کم وقت پر مشتمل قرآن پڑھنے کے اصولوں سے سمجھوتہ کر تیز-رفتار تراویح کے انتظامات کرنے کی اجازت یا چشم پوشی درست ہے،
مجھے اگر کسی کی عزت نفس کا خدشہ نہ ہوتا تو میں یقیناً ایسے مقامات کا ذکر ضرور کرتا کہ جہاں ان خامیوں کے ذمہ دار اہل علم ہیں وہیں دوسری طرف بعض مقامات پر اہل علم کا اعتماد بھی حاصل ہے،
بصورت دیگر یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن کے ساتھ قرآن فہمی والے افراد وہ بھی منصب امامت پر نعوذبااللہ قرآن کے ساتھ کھلواڑ کریں،
آخری عشرہ اور شبینہ تراویح
رمضان المبارک کے آخری عشرے میں شبینہ تراویح روایات، ترتیل و تجوید کی پامالی کے مشاہدات فیس بک لائیو، اشتہارات، اعلانات کے مشاہدات عنقریب کئے جا سکتے ہیں،
تشویشناک صورتحال اس وقت زیادہ ہوا کرتی ہے جب غلط روش پر عملدرآمدگی ثواب سمجھکر ہوا کرتی ہے،
آدابِ تلاوت کی خلاف ورزی اور وعید
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ إِلَى فُوقِهِ قِيلَ مَا سِيمَاهُمْ ؟ ، قَالَ : سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ ، أَوْ قَالَ التَّسْبِيدُ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کچھ لوگ مشرق کی طرف سے نکلیں گے اور قرآن پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، یہ لوگ دین سے اس طرح دور پھینک دئیے جائیں گے جیسے تیر پھینک دیا جاتا ہے۔ پھر یہ لوگ کبھی دین میں نہیں واپس آ سکتے، یہاں تک کہ تیر اپنی جگہ ( خود ) واپس آ جائے، پوچھا گیا کہ ان کی علامت کیا ہو گی؟ تو فرمایا کہ ان کی علامت سر منڈوانا ہو گی۔“
خدشات اور عذاب الہی
قرآن پاک کی کھلم کھلا سر عام دین کے نام پر ثواب سمجھتے ہوئے بے حرمتی وہ بھی ماہ نزول میں نعوذبااللہ،
مجموعی طور پر حسبِ مراتب سبھی لوگ ذمہ دار ہیں،
تین دنوں ، پانچ دنوں سات دنوں میں تکمیلِ تراویح، دو گھنٹوں میں قیام کے ساتھ پانچ پانچ پاروں کی تلاوت آداب تلاوت تو کجا آواز تلاوت بھی سماعت کو گراں گزرتی ہے،
اس سلسلے میں احادیث نبوی میں موجود وعیدیں فکروں میں اضافہ کا باعث ہیں،
سد باب، تدارک ، خفاظتی تدابیر ،
( 1 )رمضان المبارک سے قبل جسلہ دستار بندی کے پروگراموں میں بوقت دستار طلباء حفاظ کرام کو بسلسلہ تراویح ہدایات جاری کی جائیں،
( 2 )معمر تجربہ کار با اثر حفاظ کرام بہر صورت پندرہ یوم سے قبل ختم تراویح کی امامت پر عدم رضامندی کا اظہار فرمائیں،
با اثر ائمہ کرام کے ایسا کرنے دوسرے ائمہ کرام کو تقویت ملے گی،
( 3 )مرکزی درسگاہوں کے ذمہ داران اپنے لیٹر ہیڈ پر تراویح سے متعلق قبل از رمضان پیغامات و ہدایات ضرور جاری فرمائیں،
( 4 )تمام ایسے مذہبی امور جن کی انجام دہی خالص مذہبی پیشواؤں کے ذریعہ ہوا کرتی ہے وہاں عوامی جوابدہی کے بجائے سنجیدگی و متانت کے ساتھ باہمی ذمہ داری کا تعین ، لائحہ عمل اور مرکزی گائیڈ لائن ناگزیر ہوا کرتی ہیں،
( 5 ) قرین قیاس اور موزوں ترین توجیہ یہی ہے کہ جس شعبہ کی قیادت و سیادت اور پیشوائی کی ذمہ داری جس پر ہوا کرتی ہے اس شعبہ کے متعلق اچھے برے نتائج کا سارا کریڈٹ بھی اسی کو جاتا ہے،
( 6 ) حقیقت پسندانہ تجزیہ، احتساب عمل، جوابدہی و ذمہ داریوں کے تعین کے بغیر اچھے نتائج، عوامی اعتبار و اعتماد اور مقصد عمل اور قابلِ قبول بجا آوری ممکن نہیں،
غلط فہمیوں کا ازالہ
ماہ نزول ماہ رمضان ماہ قرآن میں آسمانی معجزہ کے ساتھ ہونے والے سلوک کو حقیقت پسندی کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے،
تحریر کا مقصد خدانخواستہ تخریب کاری، بدگمانی باالکل نہیں البتہ فوری طور پر قرآن پاک کی بے حرمتی پر چہار جانب سے روک تھام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے بصورت دیگر آخری عشرہ میں خدانخواستہ دس دس پاروں کی تیز رفتار والی شبینہ تراویح کے واقعات مزید رونما ہوں گے،


abdulhaleemeumc@gmail.com
WatsApp 9307219807