محمد عارف نگرام

بچے دنیا کی اثاث ہونے کے باوجود بچے ہی سمجھے جاتے ہیں۔ہر چند کہا جاتا ہے کہ آج کا بچہ کل کا رہبر ہے تاہم اس کو وہ اہمیت نہیں مل پاتی جس کا وہ مستحق ہے۔ ایک مہذب ملک و ملت اور اس کے روشن مستبقل کی بنیاد ہمارے اطفال ہی تو ہیں۔ ادب کی دنیا میں تو وہ بالکل یک و تنہا ہیں اور ادب اطفال میں ان کو جو وقعت ملنی چاہئے تھی وہ ہمارے ملک میں بالکل مفقود نہ سہی لیکن کم کافی سے زیادہ ہے۔ بچوں کے ادب کی جتنی ضرورت پہلے تھی آج بھی اس سے کم نہیں ہے کیونکہ آج کا بچہ گزرے زمانے کے بچوں سے زیادہ ہوشیار اور سمجھدار، مصروف اور مضبوط ہے۔ دنیا جتنی چھوٹی ہوتی گئی ہمارا بچہ اتنا ہی بڑا ہوتا گیا۔ آج کے بچے کو نہ صرف اپنے اطراف کا علم ہے بلکہ وہ دوسرے ممالک ان کی جغرافیائی کیفیت، مقام و ملکیت، تہذیب و شوق، علم و ادب، فنون وآرٹس، کھیل کود اور دیگر اشغال سے کافی حد تک واقف ہے۔ موبائیل اور انٹرنیٹ کی ایجادات نے اس کو بے حد ہوشیار، باخبر، ذی علم اور سمجھدار بنا دیا ہے۔


ادب کی دنیا میں نہ صرف بچے اس محرومی کا شکار ہیں بلکہ بڑے بھی ادب اطفال میں قرار واقعی دل چسپی نہیں رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے ادب اطفال کے جغادر آپ کو خال خال ہی نظر آئیں گے۔ اس کی خاص وجہ یہی ہے کہ ممالک غیر میں جو مقام ادب اطفال کے ادیبوں کو ملتا ہے اسکا عشر عشیر بھی ہمارے یہاں نہیں ہے۔ فن و ادب کے دیگر معمار یعنی شاعر، ادیب، نقاد، ڈرامہ نویس، نغمہ نگار، ماہرین رقص و موسیقی کی جو عزت اور حرمت ہمارے عوام ان کو عطا کرتے ہیں، ادب اطفال کے مصنفین ، ذمہ داران، شرکا یا کہانی کار حضرات کو وہ نہیں مل پاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بچوں کے ادیب یا دیگر شائقین و ماہرین فی زمانہ کمیاب ہیں۔ نتیجتاً بچوں کی ذہن سازی، تربیت، ادب و آداب، شائستگی اخوت و ہم دردی، ذوق اور لگن تیز سیکھنے سکھانے کا عمل کم سے کم ہوتا گیا اور اس کے لیے نہ والدین فکر مند ہوئے نہ اساتذہ اور نہ ہمارے ادب کے دیگر ذمہ داران۔ اس ضمن میں یہ بات بھی بہت کھٹکتی ہے اور دراصل اس لیے مانع ہے کہ بچوں سے یابچوں کی بابت بات کرنا ہر شخص کو نہیں آتا۔ کچھ لوگ تو ذی علم ہونے کے باوجود بچوں کو قطعیٔ متاثر نہیں کرسکتے۔ جس طرح لٹو نچانا اور پتنگ اُڑانا دو الگ الگ ہنر ہیں بالکل اسی طرح بچوں کی دماغی سطح کو سمجھتے ہوئے ان کی دلچسپی اور ان کے ذہن کو اپنی طرف منتقل کرکے ان میں گھلنا ملنا بالکل الگ بات ہے۔ بچوں کا ادب ایک خاص تکینک کا مرہون منت ہے جس کا ماہر ہر شخص نہیں ہو سکتا۔ ایسی کہانیاں جو نصیحت آمیز بھی ہوں، بچوں کو کچھ پیغام بھی دیں، ان کی یاد داشت کا حصہ بن جائیں اور ان کو پڑھتے رہنے میں محو بھی رکھ سکیں یعنی وہ اس کو اختتام تک پڑھیں،تخلیق کرنا سہل نہیں، قدرے مشکل کام ہے اور اس سے سوا مشکل ہے اس کہانی کا عنوان تجویز کرنا۔ ایسا ٹائٹل جو بچے کے دماغ کو اپنی طرف کھینچ کر اسکو پڑھتے رہنے پر آمادہ رکھے اور کسی دوسرے عمل میں مہنمک نہ ہونے دے۔ یہ سب دراصل کہانی کار کے دماغ کی اُڑان، کہانی کہنے کا فن، اسکا اُتار چڑھائو اور اس کے کرداروں کی ایک دوسرے میں پیوستگی اور دل چسپی پر منحصر ہوتا ہے۔

ایسے بچوں کے کہانی کاروں یا تخلیق کاروں میں آج کل ایک اور نام جڑ گیا ہے اور وہ نام ہے جناب ایچ۔ایم۔یٰسین صاحب کا۔ انہوں نے بچوں کے لیے بہت ساری کہانیاں تحریر کی ہیں جو مختلف اخبارات اور رسالوں میں میگزین میں شائع ہر کر بچوں کی پسند اور دل چسپی کی سند حاصل کر چکی ہیں اور یٰسین صاحب بچوں کی کہانیوں کے پسندیدہ مصنف ہو گئے ہیں ۔ یٰسین صاحب کے بچوں کی معلوماتی ، دل چسپ اور نصیحت آمیز کہانیوں کے چار مجموعے عوام سے داد حاصل کر چکے ہیں۔ انکا پہلا مجموعہ ’’معصوم وفادار‘‘ جس میں دس کہانیاں تھیں اور جس کو خود اترپردیش اردو اکادمی نے شائع کیا تھا۔ دوسرا مجموعہ ’’ککڑوں کوں۔ککڑوں کوں‘‘ تھا جو بارہ کہانیوں پر مشتمل تھا اور جس پر یوپی اردو اکادمی نے انعام بھی دیا تھا۔ تیسرا مجموعہ ’’کائیں کائیں ، میائوں میائوں ‘‘ بھی بارہ کہانیوں سے سجایا گیا تھا۔ یٰسین صاحب کا چوتھا مجموعہ’’دادی سنائیے نا‘‘ میں بیس کہانیاں ہیں اور اس پر بھی یوپی اردو اکادمی لکھنؤ نے انعام کا اعلان کیا ہے ۔ اس کا شاندار اجراء ’’مسرور ایجوکیشنل سوسائٹی‘‘ لکھنؤ کے زیر اہتمام سینٹ روزپبلک اسکول گڑھی پیر خاں، ٹھاکر گنج ، لکھنو میں زیر صدارت معروف ادیب اور نقاد پر وفیسر شارب ردولوی ہوا۔ مہمان خصوصی کے طور پر اترپردیش اردو اکادمی کی چیر پرسن پدم مشتری پروفیسر آصفہ زمانی، مہمان ذی وقار پروفیسر قمر جہاں، ڈاکٹر اقتدار حسین فاروقی اور ڈاکٹر رخسانہ لاری تشریف لائے تھے ۔ مہمانان میں پروفیسر جمال نصرت کے علاوہ ڈاکٹر شمیم احمد صدیقی، ڈاکٹر جہاں آرا سلیم، ڈاکٹر ہارون رشید، قمر سیتاپوری، رضوان فاروقی، نجم الدین احمد فاروقی، شہناز خانم، جلال لکھنوی، ڈاکٹر کائنات ، ڈاکٹر منہاج، ڈاکٹر سعید سندیلوی، محشر گونڈوی، عاشق رائے ، بریلوی ، ڈاکٹر مسیح الدین مسیح، انجینئر ظفر عالم شاہ، مس میگھنا گپتا، جناب محمد عبدلمنان اڈوکیٹ ، محمد طارق علی خاں بلڈر، خالد جبار، محمد کلیم خاں، محمد شمیم قدوائی، پرنسپل سید ثروت تقی، شکیل گیاوی وغیرہ صاحبان نے شرکت فرما کر محفل کی رونق کو چار چاند لگائے اور نظامت کے فرائض ملک پرویز صاحب نے انجام دئیے تھے۔


مندرجہ بالا بچوں کی تصانیف کے علاوہ یٰسین صاحب کے چار افسانوی مجموعہ’’سلاخوں کے پار‘‘ تلاطم‘‘ ’’میں نے تو کہا تھا‘‘ اور ’’خون‘‘ بھی ادبی دنیا میں داد تحسین حاصل کر چکے ہیں اور ان میں بھی ’’تلاطم‘‘ اور ’’خون‘‘ کو اردو اکادمی لکھنؤ نے انعامات سے نوازا ہے۔ اس طرح آٹھ تصانیف میں یٰسین صاحب کی چار تصانیف یوپی اردو اکادمی سے انعام حاصل کر چکی ہیں جبکہ ایک خود اکادمی نے شائع کی ہے۔ ان کی پہلی تخلیق دراصل ’’انجان شناسائی‘‘ تھی جو سہروں اور رخصتیوں کا مجموعہ ہے اور جو سہرے اور رخصتیاں انھوں نے اپنے احباب کی اولادوں کے لیے کہے تھے ان کو کتابی شکل دے کر اپنی ادبی حس کی تسکین کا انتطام کیا تھا لیکن اس کی پذیرائی نے ان کو پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھنے دیا اور انہوں نے اپنی جیلر والی نوکری میں حاصل شدہ تجربات کو افسانوی رنگ دے کر پہلا افسانی مجموعہ’’سلاخوں کے پار‘‘ تحریر کر ڈالا اور اپنی گوناں گوں مصروفیتوں کے باوجود اپنی ان ۹ تخلیقات سے ادبی دنیا میں اپنی شراکت درج کرا ڈالی اور ان کی ضعیف العمری اور کالج کی مصروفیات بھی ان کے قلم کی روانی کو روک نہ سکی۔ وہ فی الوقت بھی مزید دو کتابوں پر کام کر رہے ہیں جو عنقریب عوام سے داد طلب کر نے کے لیے جلد و جود پائیں گی۔انشاء اللہ۔


یٰسین صاحب کا کمال یہ ہے کہ وہ بہت ہی فعال شخصیت کے حامل ہیں اور اپنی ، خانگی و ادبی مصروفیات کے ساتھ آج بھی ارم گروپ آف انسٹی ٹیوشنس میں بطور ایڈوائز کارپرداز ہیں۔ اس سے قبل بھی وہ انٹگرل یونیورسٹی لکھنؤ کے پہلے رجسٹرارہونے کے ساتھ اس کے قیام اور ترقی میں نمایاں طریقہ سے شریک رہے ہیں۔ وہ ڈبل ایم۔اے اور لاگریجویٹ ہیں وسیع ملازمتوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ امریکہ، انگلینڈ، مصر، کوریا، کویت،دبئی، بنگلہ دیش اور پاکستان کا سفر کر چکے ہیں۔ سعودی عرب میں تو پندرہ سال بہ سلسلہ ملازمت قیام پذیر رہ چکے ہیں اور ساٹھ سال عمر ہوجانے کے باعث وہاں سے رٹیائر ہو کر وطن عزیز واپس آئے تھے وہاں جانے سے پہلے ملک میں وہ راشنگ سول سپلائی محکمہ، سول کورٹ، جیل محکمہ میں اسسٹنٹ جیلر، ریلوے اور منسٹری آف ریلویز( ریلوے بورڈ) کے تکنیکی اڈوائز آر ڈی ایس او میں کار پردازرہے، وکالت بھی کی، لیکن بقول ان کے شاید ان کے جسم میں بزنس کا خون نہیں ہے اس لیے وکالت اور بزنس میں کامیابی نہ ملی اور اپنے آبائی پیشہ ملازمت میں ہی جہاں رہے نمایاں رہے۔ ہر ایک کے کام آنا، سب کی مدد چھوٹے بڑے کے امتیاز کے بغیر ایک خدا ترس نیک دل اور مذہبی مزاج والے یٰسین صاحب کے لیے ہماری دعا ہے کہ اللہ ان کی عمر دراز کرے اور ان سے ملک و وطن کی خدمات لیتا رہے۔ آمین۔ یا رب العالمین۔


محمد عارف نگرام
موبائیل : 9795190355