محترمہ سلمیٰ بتول (لندن)
ناک میں پانی ڈالنا انسان کے پھیپھڑوں میں ہوا کا جانا اور آکسیجن کا جسم کو مہیا ہونا انسانی زندگی کا سبب ہے۔ ہوا میں مختلف جراثیم اربوں کھربوں کی تعداد میں موجود ہوتے ہیں اللہ نے انسان کے ناک میں بال اگا کر ایئر فلٹر بنا دیا تاکہ صاف ہوا جسم کو ملے۔ جس طرح گاڑیوں کے ایئر فلٹر کچھ عرصے بعد اگروہ خراب ہو جائیں تو ان کو صاف کرنا پڑتا ہے اسی طرح انسان کی ناک میں مختلف جراثیم اکھٹے ہو جاتے ہیںجس کی وجہ سے ناک کو بار بار صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔


وضو میں جب ہم ناک میں پانی ڈالتے ہیں تو اس میں بھی کئی راز پوشیدہ ہیں ایک توناک نتھنوں صفائی ہو جاتی ہے اوردوسرے متعدد قسم سانس اور گلے کی بیماریوں نہیں ہوتی ہیں ۔کوئی بھی انسان اپنے ناک میں دن میں ایک دو مرتبہ سے زیادہ پانی ڈال کر صاف نہیں کرتا ہو گا مگر ایک نمازی دن میں پانچ مرتبہ اپنے ناک کی پانی سے صفائی کرتا ہے۔


چہرہ کادھونا چہرہ دھونے سے ہمارا چہرہ فریش رہتا ہے اور دوسری بات یہ کہ بہت سے اسکن اورآنکھوں کی پرابلم سے بھی بچ جاتے ہیں کیونکہ انسان جب انسان گھر سے باہر آفس اور دوسرے کام کے لیےنکلتا ہے تو گاڑیوں کے دھوئیں ،ماحول کی گندگی ،فضائی آلو دگی سے اس کا چہرہ دھول اور مٹی سے گندہ ہو جاتا ہے اگر ہم اپنے چہرے کو صحیح سے صاف نہیں کریں گے تو بہت سی بیماریوں کو ہم خود دعوت دیں گے ۔


جب چہرہ صاف ہوجاتا ہے تو اسکی جلد نکھر جاتی ہےاس کا چہرہ کی تر و تازگی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اس کے علا وہ چہرہ دھوتے وقت آنکھوں میں پانی کا جانا ایک فطری امر ہے۔ آنکھوں کے ماہرین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ دن میں چند بار آنکھوں میں تازہ پانی کی چھینٹیں مارے جائیں تو آنکھیں کئی بیماریوں سے محفوظ ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر صبح کے وقت جب کہ انسان رات بھر کی آلودگی کو لیکر صبح میں اٹھتا ہے۔پانی کی چھینٹیںآنکھوں میں مارنے سے انسان موتیا بند کی بیماری سے محفوظ رہتا ہے


ایک یورپین ڈاکٹر اپنے مقالے میں لکھتا ہے
’’ اپنی آنکھوں کو دن میں بار بار دھونے کی عادت ڈالو ورنہ تمہیں خطرناک بیماریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘
جناب ہمزہ اپنے ایک بلاگ اکتوبر 2022 میں لکھتے ہیں کہ :’’ ایک امریکن کونسل فار بیوٹی کی ممبر’’ Hitcher‘‘ کہتی ہے کہ مسلمانوں کو کسی قسم کے کیمیائی لوشن کی ضرورت نہیں رہتی ہے ۔‘‘کیونکہ یہ لوگ دن میں پانچ مرتبہ وضو کے لیے اپنے چہرے کو صاف کرتے ہیں جس سے ان کے چہرے کی بہت سی بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں کیونکہ چہرے کی الرجی سے بچنے کے چہرہ کا بار بار دھونالازمی ہے اور وضو سے دو دو فائدے ہوتے ہیں ایک باوضو رہنے کا ثواب ملتا ہے اورپلس پوائنٹ یہ ہے کہ بغیر کسی بیو ٹی پالر یا فیس واش کریم کے انسان کا چہرے خوبصورت ہو جاتا ہے ۔
دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سےدھونا پروردگار عالم نے انسان کو ہر گندگی اور بیماری سے دور رہنے کے لیے کوئی نہ کوئی ذریعہ بنایا ہے ۔ جب آپ نے وضو کے آغاز میں دونوں ہاتھوں کو گٹے تک دھو لیتے ہیںاس کے بعد اب کہنیوں سے ہاتھ کی انگلیوں تک دھونے کا فلسفہ یہ ہے کہ بہت ایسے افراد ہوتے ہیں جو شرٹ یاٹی شرٹ ہاف پہنتے ہیںکہنیوں سے لیکر گٹے تک کا حصہ کھلارہتا ہے اس لیے جب انسان باہر جاتا ہے تو با ہر کی گندگی ، فضائی آلودگی ،جراثیم ، بیکٹریا وغیرہ اس حصہ میں چمٹ جاتے ہیں یہ ہاتھ کا حصہ گندگی اور گاڑیوں وغیرہ کے دھوؤں اور مٹی سے گندے ہو جاتے ہیں ۔ لہذا اس کی بھی صفائی کا انتظام اللہ نے رکھا ہے ۔


چونکہ وضو کے شروع میں آپ نےدونوں ہاتھوں کو گٹوں تک دھویا تھا وہ تو صاف ستھرا ہوگیا مگر اب ہاتھ کے گٹوں سے لیکر کہنیوں تک میں ابھی گندگی باقی رہ گئی تھی تو اس رب حکیم نے چہرے کے دھونے کے بعد دونوں ہاتھ کو دھلو ایا تاکہ گندگی ، جراثیم ، بیکٹریا ،انفیکشن اور ڈائر یا جیسی بیماری سے پوری طرح سے آپ پاک و صاف اور طیب و طاہر ہو جائیں ۔( تم اللہ کی کن کن نعمتوں سے شکر ادا کروگے ۔ )


سر کا مسح کرناانسانی دماغ سے نکلنے والی چھوٹی چھوٹی رگیں (نیروز) پورے جسم میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں اور مختلف اعضاء کو سگنل پہنچانے کا کام کرتی ہیں۔ یہ سب رگیں دماغ سے نکل کر گردن کے پیچھے سے ہوتی ہوئی ریڑھ کی ہڈی کے ذریعے جسم کی مختلف جگہوں سے ملی ہوتی ہیں۔ اگلے سر کی رگیں بہت زیادہ نا زک اور حساس کا حامل ہے۔ اگر اس حصے کو خشک رکھا جائے تو رگیں کھنچے کی وجہ سے انسان کے دماغ پر اسکا اثر پڑتا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ سر کے اگلے حصہ کو وقتاً فوقتاً تر کیا جائے تو بہت سے دماغی بیماریوں سے نجات مل جائے گی ۔ نمازی آدمی جب وضو کرتا ہے تو اسے یہ نعمت خود بخود مل جاتی ہے


پاؤں کا دھوناانسانی جسم میں بعض ایسی بیماریاں ہوتی ہیں جن کا اثر پاؤں سے شروع ہوتا ہے۔ مثلاً شوگر کے مریض کے پاؤں پر زخم بھی ہو جائیں تو اسے پتہ نہیں چلتا۔پاؤں کی انگلیوں کے درمیان فنگس؍خطرناک جراثیم ؍ بیکٹیریا کی وجہ سے زخم ہو جاتے ہیں۔


ڈاکٹر شوگر کے مریض کو سمجھاتے ہیں کہ وہ اپنے پاؤں کو صاف رکھے۔ دن میں چند مرتبہ اسے غور سے دیکھے کہ کہیں کوئی زخم وغیرہ تو نہیں۔ اچھی طرح پاؤں کا مساج کرے تاکہ خون کی رگوں میں اگر کہیں رکاوٹ ہے تو وہ دور ہو جائے۔ نمازی آدمی دن میں پانچ مرتبہ وضو کرتا ہے تو یہ سب کام خود بخود ہو جاتے ہیں۔


جب انسان وضوکرنے سے پہلے پاؤں انگلیوں کے درمیان گندگی کو صاف کرتا ہےتب اسے معلوم ہو تا ہے کہ پاؤں زمین کے قریب ہونے کی وجہ سے بہت جلد جراثیم کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ انہیں صاف رکھنا اور باربار دھونا بہت ضروری ہے۔ یہ نعمت نمازی کو وضو کے دوران مل جاتی ہے۔


وضو کا جو طریقہ اسلام میں بتایا گیا گے اس کی ترتیب سے انسان بہت سی بیماریوں سے نجات پا سکتا ہے ڈاکٹرس کہتے ہیں اگرانسان ہائی بلڈ پریشر کا مریض ہے اور وہ دن میں پانچ بار وضو کرتا ہے تو اس کا بلڈپریشر کنٹرول میں رہتا ہے ۔اس لیے کہا گیا ہے کہ وضو جیسی طہارت اور پاکیزگی روح کی غذا ہے اورانسان وضو جیسی نعمت سے بارگاہ خدا وندی میں محبوب بندہ شمار کیا جاتا ہے اورایک خود آپ کو احساس ہوگا کہ آپ میں ایسی روحانی طاقت ہے جو ہمیں اللہ اور اہل بیتؑ کی طرف لے جارہی ہے اور گناہوں سے دور ہوتی چلی جا رہی ہے ۔جب انسان ظاہری صفائی کا خیال رکھے گا تونہ صرف صحت مند رہے گابلکہ مختلف جسمانی بیماریوں سے بھی محفوظ رہے گااوراس عمر طویل ہوگی ۔


امام جعفر صادق علیہ اسلام فرماتے ہیں
’’جو شخص وضو کے درمیان سورۂ قدر کی تلاوت کر تا ہے تو گناہوں سے اس طرح پاک و پاکیزہ ہوجاتا ہے جس طرح وہ اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا ہے ؟‘‘(سفینۃ البحار 665)


اسی طرح اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ
’’تین مرتبہ سورہ قدر پڑھے ایک مرتبہ وضو سے پہلے اور دوسری مرتبہ وضو کے درمیان اور تیسری مرتبہ وضو کے آخر میں اور وضو کے بعد ایک مرتبہ آیت الکرسی بھی پڑھنا مستحب ہے ۔


اپنے گناہوں کی معافی بہت مشکل کام ہے بہت بہت گریہ کرنا ہوتا ہے ، استغفار کرنا ہوتا ہے۔ روروکے اپنی بد اعمالیوںکے بارے میں اللہ کی بارگاہ میں معافی طلب کرنا ہوتی ہے مگر اللہ نے وضو میں ہی ایسا انتظام کردیا ہے کہ جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں ۔