ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا شوشہ، بیت المقدس منتقل کر دینگے سفارت خانہ

ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا شوشہ، بیت المقدس منتقل کر دینگے سفارت خانہ

امریکا میں ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا شوشہ چھوڑتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میں ملک کا صدر بنا تو اسرائیل میں قائم امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کر دوں گا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ صدر بننے کے بعد میری اولین ترجیحات میں ایران کے ساتھ امن معاہدے پر نظرثانی کرتے ہوئے دو طرفہ معاہدہ ختم کرنا بھی شامل ہو گا۔

ذراےُ کے مطابق اپنے بیانات کی وجہ سے غیرمعمولی حد تک متنازع سمجھے جانے والے امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار ’’ایپک‘‘ کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ اپنی تقریر میں انہوں ںے یہودی لابی کے دل جیتنے کے لیے اسرائیل کی بھرپور حمایت کے عزم کا اعلان کیا اور کہا کہ صدر بن کر وہ امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا حکم دیں گے۔

اپنی تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن سمجھوتہ کرانے کی کوئی بات نہیں کی مگر یک طرفہ طور پر اسرائیل کی کھل کرحمایت کی۔ انہوں نے ایران کے متنازع جوہری پروگرام پرطے پائے سمجھوتے کو کالعدم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس معاہدے پر کڑی نکتہ چینی کی۔

یہودی لابی کی حمایت کے حصول کی خاطر ٹرمپ نے حسب معمول کئی عجیب وغریب باتیں بھی کیں۔ انہوں نے کہا کہ میری بیٹی نے یہودی مذہب قبول کیا ہے۔ جلد ہی میرے ہاں ایک خوبصورت یہودی بیٹا بھی پیدا ہوگا۔ فلسطینیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطینی یہ جان لیں کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات قائم ودائم رہیں گے۔ فلسطینیوں کو اسرائیل کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں بند کرنا ہوں گی اور انہیں اسرائیل کو ہمیشہ کے لیے ایک یہودی ریاست تسلیم کرنا پڑے گا۔

اپنی متوقع خارجہ پالیسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی اوقیانوس کے عسکری اتحاد’’نیٹو‘‘ کی بھرپور حمایت کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا نے اتحادیوں کی مدد کے لیے اپنی ضرورت سے زیادہ تعاون کیا ہے۔ نیٹو کی بھی بھرپور امداد کی گئی۔ اب اتحادیوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

قبل ازیں اخبار’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ یوکرائن ہم [امریکا] سے زیادہ ہمارے نیٹو اتحاد کے لیے اہمیت کا حامل ہے مگر یوکرائن کا بوجھ بھی ہمارے کندھوں پر ڈالا گیا۔ میں استفسار کرتا ہوں کہ جرمنی یا کوئی دوسرا یورپی ملک یوکرائن کے بحران کے حل کے لیے پہل کیوں نہیں کرتا۔ ہم ہی کیوں روس کے ساتھ تیسری عالم جنگ کی قیادت کرنے کے پابند ہیں۔

یہودیوں کی نمائندہ تنظیم ’’ایپک‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے دوسری صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے کہا کہ فلسطین ۔ اسرائیل تنازع کے حل کے لیے سلامتی کونسل یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے حل مسلط نہیں کیا جائے گا۔ یہودی لابی کے نام اپنے پیغام میں مسز کلنٹن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ریاست کے لیے وہ اوباما سے بڑھ کراقدامات کریں گی۔ تاہم انہوں نے ایران کے ساتھ طے پائے معاہدے کو صدر اوباما کے دور کا اہم ترین اقدام قرار دیا اور کہا کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کریں گی۔