داعش کسی بھی صورت برداشت نہیں: مولانا جہانگیر قاسمی

داعش کسی بھی صورت برداشت نہیں: مولانا جہانگیر قاسمی

لکھنؤ۔ مذہب اسلام کے نام پر جس طرح کی باتیں پھیلائی جا رہی ہیں، اس سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہے، اور نہ ہی اس طرح کی تعلیمات کوئی بھی مذہب دیتا ہے، جس سے لوگوں کو زحمت کا سامنا کرنا پڑے۔ اسلام کے نام پر آج جو گروہ مسلمانوں اور اسلام کو بدنام کر رہا ہے، وہ اسرائیل اور امریکا کا ایجنٹ ہے، اور ایک سوچی سمجھی سازش کے ساتھ انہیں تیار کیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار آج العثمان ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جانب سے گنگا پرساد میموریل ہال میں ہونے والی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر انجمن فلاح دارین مولانا جہانگیر عالم قاسمی نے کیا۔ انہوں نے کہا داعش کو ہندستانی مسلمان کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرے گا، اور اس کے خلاف جنگ کے لیے ہندستان کا ہر مسلم جوان تیار رہے گا۔ 

واضح رہے کہ العثمان ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جانب سے 31 جنوری بروز اتوار کو صبح 10 بجے سے ایک قومی کانفرنس ”مذہبی جنون! رحمت یا زحمت؟“ کے موضوع پر ہوئی۔ جس کی صدارت استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء مولانا صہیب حسینی ندوی نے کی۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے کانفرنس میں اترپردیش گرودوارا کمیٹی کے سردار نیتو سنگھ شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ پیام انسانیت فورم کے مولانا سید بلال حسینی ندوی، مولانا جہانگیر عالم قاسمی، سردار نرمل سنگھ، پاسٹر دیا ساگر، بودھ دھنی راؤ پینتھر، ایس آئی او کے زونل صدر طیب احمد بیگ، طاہرہ حسن، مولانا سعید اطہر قاسمی، ڈاکٹر سلمان خان ندوی، ایس آئی او کے شہر سکریٹری محمد راشد، ناگرک ادھیکار پریشد کے صدر محمدرفیع نے کانفرنس کو خطاب کیا۔

اپنے صدارتی خطاب میں مولانا صہیب حسینی ندوی نے کہا کہ ہم اسی ملک میں تھے، ہیں اور رہیں گے، کیونکہ اس ملک کو آزاد کرانے میں ہمارے آباء و اجداد نے اپنی قربانیاں پیش کی ہیں، انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ملک عزیز کو ہندوراشٹر بنانا چاہتے ہیں، اور مذہبی جنون میں آکر ہندستان کے آئین کی پامالی کر رہے ہیں، جس پر پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہے۔ 

اس موقع پر فاؤنڈیشن کے صدر اسجد ملک نے فاؤنڈیشن کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں مذہب کے نام پر جس طرح سے لوگوں کو بہکایا جا رہا ہے، اور اس میں مذہب سے محبت کے نام پر لوگوں کو گمراہ کیا جارہا ہے، ایسے ماحول میں فاؤنڈیشن نے اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی کہ کوئی ایسی کانفرنس ہونی چاہیے جس میں تمام مذاہب کے علماء کو اکٹھا کرکے ان کے مذہب و عقیدہ کو عوام کے سامنے رکھا جائے، تاکہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں سے عوام ہوشیار رہے۔ 

فاؤنڈیشن کے جنرل سکریٹری محمد حسین نے افتتاحی کلمات پیش کیے اور کانفرنس میں آنے والے تمام مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ نازش الرحمان (نائب صدرفاؤنڈیشن) کے اختتامی کلمات سے کانفرنس ختم ہوئی۔ اس موقع پر بطور خاص شمس الدین، صمد، محمدسیف، سلمان علی، محمد راشد، تابش الرحمان، فرقان بابا، حاجی فہیم صدیقی، محمد آفاق، شانو وغیرہ موجود تھے۔