یورپی یونین نے ایران پرلگی پابندیاں ہٹایں

یورپی یونین نے ایران پرلگی پابندیاں ہٹایں

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگیرینی نے ویانا میں ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ’ایران نے جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنے وعدے پورے کر دیے ہیں۔ دوسری جانب جوہری توانائی کے نگران ادارے (آئی اے ای اے) نے ایک سال قبل طے پائے جوہری تنازع پر سمجھوتے کے حوالے سے ایران کے اقدامات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے جوہری معاہدے پر عملدرآمد کے لیے تمام ضروری اقدامات پورے کیے ہیں، جس کے بعد اس پر عائد بین الاقومی پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔

ایران پر پابندیاں ختم ہونے کے بعد وہ اربوں ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں تیل بھی فروخت کر سکے گا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگیرینی نے ویانا میں ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے علاقائی امن اور استحکام میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم ایران کے جوہری معاہدے پرعمل درآمد کو جامع اور وسیع تر انداز میں آگے بڑھانے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں

آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ اس کے انسپیکٹروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے اس حوالے سے تمام مطلوبہ اقدامات مکمل کر لیے ہیں۔

آئی اے ای اے کےڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا ’آج کا دن بین الاقوامی برادری کے لیے بہت اہم ہے۔‘ اس کے بعد یورپی یونین نے ایران پرعاید اقتصادی پابندیاں مکمل طور پر اٹھانے کا اعلان کر دیا تھا

خیال رہے کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر گذشتہ برس جولائی میں معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ختم کرنا تھا۔

آئی اے ای اے کی جانب سے ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کے اعلان پر ایرانی صدر حسن روحانی نے قوم کو مبارکباد دی ہے۔

عالمی توانائی ایجنسی ’آئی اے ای اے‘ کی جانب سے ایران کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دینے پر امریکا نے بھی مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے بھی ایران پرعاید کردہ تمام اقتصادی پابندیوں کے اٹھائے جانے کا حکم دے دیا ہے۔

 صدر اوباما نے ایزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے ایران پرعاید اقتصادی پابندیاں فی الفور اٹھانے کا حکم دیا ہے۔ صدر اوباما کا کہنا ہے کہ تہران کی جانب سے تمام ضروری شرائط پرعمل درآمد کے بعد معاہدے کو حتمی شکل دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔

ادھرامریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے بھی ایران پر امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ویانا میں بات کرتے ہوئے جان کیری نے کہا ’ایران نے اس حوالے سے بہت اہم اقدامات اٹھائے ہیں، جس کے بعد امریکہ اور یورپی یونین نے فوری طور پر ایران پر عائد پابندیاں اٹھا لیں ہیں۔‘

امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا ’ پوری دنیا اور خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں ہم اور ہمارے اتحادی محفوظ ہو گئے ہیں۔

ایران کے ساتھ طے پائے سمجھوتے کے عملی نفاذ کے اعلان یورپی ممالک کی جانب سے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ اور فرانس نے بھی ایران کے ساتھ طے پائے سمجھوتے کو عملی شکلی دینے کو تاریخی قرار دیا ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ فیلپ ہیمونڈ نے ہفتے کی شام ایک بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے عملی نفاذ سے دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ ہو گئی ہے۔

ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا زیادہ محفوظ ہو گئی ہے۔

ایران پرعاید پابندیاں اٹھائے جانے کے فیصلے پر فرانس نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ اس فیصلے علاقائی تنازعات اور چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی اور دنیا کو دوسرے اہم ایشوز پر توجہ دینے کا موقع ملے گا۔