جمہوری ملک میں جمہوریت کا قتل

جمہوری ملک میں جمہوریت کا قتل

عبید اللہ یاسر قاسمی

ہم جشن جمہوریہ کیوں مناتے ہیں آج بھارت کا یوم جمہوریہ ہے اسی دن ہمارے ملک میں جمہوری قوانین نافذ کئے گئے،آج کے دن ہی لاکھوں بھارتی ترنگا تھامے اس ملک کے تئیں اپنی محبت کا اظہار کررہے ہیں،سوال یہ ہے کہ ہم یہ جشن جمہوریت کیوں مناتے ہیں؟ یہ ہم اسی لئے مناتے ہیں کہ یہ ملک ہمارا ہے،اسکو ہم نے اپنے خون جگر سے سینچا ہے، اور اس ملک کی آزادی میں سب سےزیادہ ہماری ہی قربانیاں ہیں،اور یہ ملک ایک آزاد، سماجوادی،جمہوری بھارت کی حیثیت سےوجودمیں لایا گیا ہے، جس جمہوری قانون میں تمام شہریوں کیلئے سماجی، معاشی،سیاسی انصاف، آزادئ خیال،آزادی اظہار راے،آزادئ عقیدہ ومذهب وعبادات،انفرادی تشخص، اور احترام کو یقینی بنایاگیا ہے

جمہوریت کا قتل

لیکن آج حالات کی دھارا کسی اور طرف لیجایا جارہا ہے، پھر کمزور طبقات کو غلامی کی طرف ڈھکیل کر جمہوریت کو داغدار کیا جارہا ہے،ہمارے ملک کے ہر سیکولر اور انسانیت پسند شہری کے دل و دماغ کے کئی سارے خدشات حقیقت میں تبدیل ہوتے نظر آرہے ہیں، ہر نیا سورج ایک نئی آفت لیکر طلوع ہورہا ہے، آر،ایس،ایس کی پروردہ جماعت بی،جے،پی کے اقتدار میں آتے ہی اس نے جمہوریت اور سیکولرازم کی کمر توڑ دی، جمہوری ملک میں جمہوریت کا قتل کردیا، اہل اسلام ہوں یا دیگر مذاہب و ادیان کے پیروکار؛ ہر ایک کے حقوق پر بارہا شب خوں مارا،این آر سی، سی اے اے، اور این پی آر نافذ کرکے پورے ملک کو برہمن واد بنانے کی سازش کرکے دستور کی سب سے زیادہ پامالی کی،باالخصوص اسلامی شعائر پر قدغن لگانے کے لئے طرح طرح کے قوانین پاس کئے،مدعیٰ کبھی طلاق ثلاثہ تو کبھی LOVE جہاد،کبھی گھر واپسی تو کبھی سوریہ نمسکار اور وندے ماترم،کبھی خواتین کے سفر حج میں محرم کے لازمی ہونے پر اعتراض تو کبھی گاؤ ذبیحہ پر ستم بالائے ستم کہ شدت پسند عناصر بھیڑ کی شکل میں ایک آدمی کو وحشیانہ طریقے پر بے دردی سے قتل کردیتے ہیں،غنڈہ گردی اور لاقانونی جرات پر مرکزی حکومت کی مجرمانہ خاموشی و بے حسی بلکہ چشم پوشی سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ حکومت واضح طور پر آر ایس ایس کے ایجنڈے کی تکمیل میں لگ کر ملک کو برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے،جبکہ ہمارا ملک ایک ارب 30کروڑ کی آبادی کے ساتھ دنیا کا دوسرا سب سے بڑاجمہوری ملک ہے، جمہوریت کا حق تو یہ تھا کہ غربت، جہالت، پسماندگی کو دور کیا جاتا،48 فیصد ایسے لوگ جن کے پاس مکان نہیں ان کے لیے رہائش کی فکر کی جاتی، مسلم،دلت،آدی واسی،کسان اور کمزور طبقہ کے ساتھ انصاف کرکے جمہوری اقدار کو پروان چڑھایا جاتا، ان کے حقوق انکو فراہم کئے جاتے، آئین اور دستور کی پاسداری کو مدنظر رکھ کر پرسنل لا میں مداخلت نہ کیا جاتی، سماجی اور معاشی طریقہ پر ملک کو مضبوط کیا جاتا، لیکن افسوس صد افسوس آج جن افراد کے ہاتھ میں زمام حکومت ہے انہوں نے جمہوری نظام کو تہہ وبالا کردیا، جمہوری اقدار کو پامال کردیا، لا قانونیت اور غنڈہ گردی کو فروغ دیا، جن کے ووٹ سے اپنی حکومت بنائی تھی انہی کو کچلنے کے در پہ ہوگئے،

آزادی خیال اور آزادی رائے پر روک

آزادی رائے کا حق ختم ہو چکا ہے، ہم کھل کر آواز نہیں اٹھا سکتے ہیں،حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف زبان کو جنبش نہیں دے سکتے ہیں، اگر آواز اٹھائیں گے تو پولس لاٹھی چارج کرے گی، آنسو گیس کا استعمال کرے گی، جو پر امن احتجاج کرکے اظہارِ رائے کررہے ہیں انکی آواز کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی، گویا حکومت یہ بتانا چاہتی ہے کہ ملک میں جو بھی ہوگا اسی کے اشارے سے ہوگا، صرف اسی کا فیصلہ قابلِ قبول رہے گا، سیکولرازم کی تشریح بھی اسی کے مطابق ہوگی، وہ جسے کہہ دے قانون وہ قانون کہلائے گا، اور جسے ملک کیلئے خطرہ بتلا دے وہ دہشتگرد ہوجائے گا، دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں؟ کیا یہ سیکولرازم کا کھلواڑ نہیں ہے؟ کیا یہ جمہوریت کا قتل نہیں ہے؟

نیشنل رجسٹریشن آف سیڑیزنشپ کے ذریعے حکومت کیا بتلانا چاہتی ہے؟

جس قانون کی کتاب پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا تھا اب اسی میں نقص نظر آگیا؟ کیا مرکزی حکومت ایسے قوانین نافذ نہیں کررہی ہے جو ملک کی جمہوریت پر سیاہ داغ ہیں؟کیا یہ تعصب پر مبنی ذہنیت نہیں ہے؟NRC سے مسلم دلت اور کمزور طبقات کو پریشان کرنا، پھر CAA سے صرف مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کی بات کرنا کیا یہی سیکولرازم ہے؟بات نہیں بنی تو پینترا بدل کر NPR کا دروازہ کھولا گیا، اور نہ اس کے لیے کوئی کمیٹی بنائی گئی، نہ پریس کانفرنس کی گئی، نہ کسی کو بتایا گیا ایک لیٹر پیڈ کچھ اضافی چیزوں کے ساتھ جاری ہوتا ہے کہ اس تاریخ سے این پی آر نافذ ہوگا، اور اس میں رکاوٹ بننے والوں ہر ایک ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا، کیا یہ سیکولر اور جمہوری ملک میں آمریت کا تسلط نہیں ہے؟کیا بیٹی پڑھاؤ اور بیٹی بچاؤ کا نعرہ لگانے والوں کو دکھائی نہیں دیتا کہ ملک میں 13، شاہین باغ بن چکے ہیں، لب سڑک بیٹیوں اور ماؤں کے جم غفیر کو دیکھ کر انکے دل کیوں نہیں پسیجتے؟ کیا یہ کثیراللسان اور کثیر ابادی والا ملک بی جے پی کا غلام ہے؟ جب چاہے نوٹ بندی کردی، جب چاہا این آر سی نافذ کردیا، در اصل مرکزی حکومت برہمنی تہذیب و تمدن کو قائم کرکے تمام دیش واسیوں سے انکے حقوق کو چھین کر آر ایس ایس اور برہمن قوم کا غلام بنانا چاہتی ہے، غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ گھر واپسی کا بھی چکر ہے کمزور طبقات سے انکا مذہب چھین لیا جائے اور سب کو بالجبر ہندو بنایا جائے بار بار موہن بھاگوت کا بیان یہی بتاتا ہے جوکہ جمہوریت اور قانونیت کے پس پردہ غیر جمہوریت اور لاقانونیت کا ننگا ناچ ہے

مذہبی آزادی قدغن

طلاق ثلاثہ پر حکومت کا جو رویہ ہے وہ خطرناک بھی تھا اور اندوہناک بھی یہ وہ لوگ جو گجرات میں نہ معلوم کتنی ہزار معصوم خواتین کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جہاں مسلم خواتین کی عصمتوں کو تار تار کیا،حاملہ خواتین کے پیٹوں کو چاک کرکے ان کے جنین کو نیزوں کی نوک پر رکھا،جو بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ کا نعرہ لگانے والے لوگ جن کے سخت دل نجیب کی ماں کی دلخراش چیخوں کو سن کر بھی نہ پسیج سکے، حیرت ہے کہ وہی لوگ آج مسلم عورتوں کی مظلومیت کا رونا رو رہے ہیں،اور یہ بتارہے ہیں کہ ہندوستان میں طلاق ثلاثہ کے ذریعے عورتوں پر بہت بڑا ظلم ہورہا ہے، چنانچہ انہوں نے سازش کے تحت (The Muslim Women (Protection of Rights on Marriage) Bill 2017)شادی شدہ مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ کے نام سے ایک بل بنایا۔

بات یہاں ختم نہیں ہوتی، پھر سوریہ نمسکار کو لاگو کیا گیا ، وندے ماترم کا پابند بنایا گیا، آذان کے لوڈ اسپیکر پر بھی اعتراض کیا گیا، گاؤ رکشا کے نام پر بے گناہ معصوموں کا قتل ناحق کیا گیا، غور کیجئے! کیا یہ مسلم پرسنل لا میں مداخلت نہیں ہے؟ کیا یہ قانونی حق پر ڈاکہ زنی نہیں ہے؟ کیا یہ صاف طور پر جمہوریت کا قتل نہیں ہے؟

کیا مسلم پرسنل لاء میں مسلسل دخل اندازی اس ملک کی جمہوریت سے کھلواڑ نہیں ہے؟

پردۂ لطف میں یہ ظلم وستم کیا کہئے

ہائے، انداز کرم کیا کہئے

وقت کی پکار

اب وقت نہیں ہے کہ ہم خاموش تماشائی بنے رہیں، بلکہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے تحفظ اور بھارت کو غلامی کی تاریکی سے نکالنے کیلئے،آزادی رائے اور آزادی مذہب کے لیے، سب کو میدان میں آنے کی ضرورت ہے

ملک کی اقلیتیں اگر عزت وآبرو اور مکمل حقوق کے ساتھ یہاں رہنا چاہتی ہیں تو انھیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے متفقہ حکمتِ عملی تیار کرنی ضروری ہے، اقلیتوں کے قائدین،اس ملک کی گھمبیر صورتحال اور اسکی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اتحاد و اتفاق کو قائم کریں، بروقت عملی اقدام کے لیے تیار رہیں، اگر ایسا نہیں کیا تو سمجھ لیں کہ ”گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں"

ائے کاش

کیا ہی اچھا ہوتا کہ 26جنوری”یوم جمہوریہ" کے جشنِ زریں کے موقع پر حکمران آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کاحلف لے کر اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے،کاش نفرت بھرے ماحول کو امن و امان، بھائی چارہ و محبت سے بدلنےکی بات کی جاتی, کاش مساویانہ آئینی حقوق کو یقینی بنایاجاتا، گنگاجمنی تہذیب کی لاج رکھی جاتی،کاش مظلوم طبقات خصوصاً مسلمانوں کے خلاف آگ اگلنے والی زبانوں پر لگام لگائی جاتی، ائے کاش! گاؤ رکشا کےنام پربےقصور مسلمانوں کوموت کے گھاٹ اتارنے والوں کو موضع عبرت بنایا جاتا، کاش LOVE جہاد، گھرواپسی, NRC CAA, NPR, دفعہ 35A3 370, کےنام پرآتنک کاراج کرنے والوں، اور جمہوریت کو تار تار کرنے والوں کو تختئہ دار تک پہونچایا جاتا، "سب کا ساتھ اور سب کاوکاس" کے نعرہ کوسب کیلئے عملی جامہ پہنایا جاتا تو شاید “یوم جمہوریہ“کے جشن منانے والوں کی روح اور اسکے معمار دونوں خوشی سے ہمکنار ہوتے

احمد عبید اللہ یاسر قاسمی

[email protected]

+91 8121832026