مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے زوال کا آغاز

مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے زوال کا آغاز

عادل فراز

امریکی حملے میںجنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا تیسری جنگ عظیم کی دہشت سے کانپ رہی ہے ۔دنیا جانتی ہے کہ ایران کے لئے جنرل قاسمی کتنی اہمیت کے حامل تھے ۔مشرق وسطیٰ میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سب سے بڑی طاقت کا نام جنرل سلیمانی تھا۔انہوںنے داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کے وجود کو نابود کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بیانات سے ان کی اہمیت اور عظمت کا اندازہ ہوجاتاہے ۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ قاسم سلیمانی شجاع بھی تھے اور صاحب بصیرت و تدبیر بھی!ہر شجاع بہترین مدبر نہیں ہوتا اور ہر مدبر شجاعت کا حامل نہیں ہوتا۔جنرل قاسم سلیمانی کا دبدبہ مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا تسلیم کرتی تھی ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شہادت کے بعد کسی کو یہ جرأت نہیں ہوئی کہ وہ امریکہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اظہار مسرت کرتا ۔ہر کسی کا بیان مصلحت آمیز تھا کیونکہ دنیاکو ایران کے لئے جنرل قاسمی کی اہمیت کا بخوبی اندازہ تھا۔

کرمان شہر میں قاسم سلیمانی کی تدفین کے بعد جس طرح ایران نے انتقامی کاروائی کرتے ہوئے عراق میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اس سے یہ واضح ہوگیاکہ ایران اپنے جنرل کی شہادت کا انتقام لینے کے لئے پرعزم ہے ۔عراق میں امریکی فوج کا سب سے بڑا ٹھکانہ اور ائیربیس ’عین الاسد ‘ ہے ۔اطلاعات کے مطابق ’عین الاسد‘ ائیربیس پوری طرح تباہ ہوچکاہے اوراس کے فوجی سازوسامان کو بھی بھاری نقصان پہونچاہے۔دوسرا حملہ اربیل پر کیا گیا ہے جہاں بڑی تعداد میں امریکی فوج موجود ہے ۔ایران کی سرکاری اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں ۸۰ سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ زخمی ہیں ۔ایرانی جوابی کاروائی کے بعد پوری دنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ کا اعلان کردے گا ۔ٹرمپ نے فوری طورپر ٹویٹ کرکے اس جوابی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا’’ آل از ویل ‘‘ ۔اس سے ظاہر ہورہاتھا کہ جیسے عراق میں کچھ نہیں ہوا ۔ٹرمپ نے دنیا کو یہ جتانے کی کوشش کی کہ ایران کا جوابی حملہ ناکام ہوگیاہے اور ہماری تکنیک کے سامنے اس کے میزائل حملوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔مگر اس حملے کے تقریباََ اٹھارہ گھنٹوں کے بعد جب ٹرمپ عالمی میڈیا کو خطاب کرنے کے لئے سامنے آئے تو ان کی باڈی لنگویج سے یہ ظاہر ہورہا تھا کہ ایران نے امریکہ کو کتنا بڑا نقصان پہونچایاہے اور ان پر اس حملے کی دہشت ابھی تک قائم ہے ۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کئی متضاد اور حقیقت سے عاری باتیں کہیں ،جس کا اندازہ پوری دنیا کو ہوچکاہے ۔ٹرمپ کا یہ کہناکہ ایران کے جوابی حملے میں ان کا کوئی نقصان نہیں ہوا ،مضحکہ خیز بیان تھا ۔اگر امریکہ کو فوجی نقصان نہیں ہوا ہے تو پھر اس حملے کا جائزہ لینے میں اتنا وقت کیسے لگ گیا؟۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس حملے کے کچھ گھنٹوں کے بعد ہی امریکہ کی طرف سے اس کی وضاحت کردی جاتی ۔مگر اٹھارہ گھنٹوں سے بھی زیادہ کا وقت لینا اس بات کی دلیل ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ یہ فیصلہ کرنے سے قاصر تھی کہ وہ امریکی عوام اور دنیا کے سامنے کیا منہ لیکر جائیں ۔پریس کانفرنس میں ٹرمپ بہت بجھے ہوئے دکھائی دے رہے تھے ۔ان کا لہجہ اور انداز بیان روایتی نہیں تھا ۔ٹرمپ جس جارحانہ انداز کے لئے جانے جاتے ہیں اس کی جھلک بھی نظر نہیں آئی ۔ایک خوفز دہ انسان اس سے زیادہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا۔ٹرمپ نے ایران سے مشروط صلح کی پیش کش بھی کی ۔جبکہ ٹرمپ انتظامیہ بخوبی جانتی ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایران صلح کی کسی بھی مشروط پیشکش کو قبول نہیں کرے گا ۔مگر ان کا یہ نرم رویہ ایران کی فتح کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔

ٹرمپ نے شکست آمیز لہجے میں کہاکہ ان کے ہوتے ہوئے ایران جوہری طاقت نہیں بن سکتا۔یہ ان کی کھسیاٹ اور بوکھلاہٹ کی آخری حد تھی ۔کیونکہ جس ملک نے ان کی فوجی طاقت اور عالمی حیثیت کو نظر انداز کرتے ہوئے انتقامی کاروائی کی ہو وہ بھلا جوہری طاقت حاصل کرنے کے لئے امریکہ سے خوفزدہ کیوں ہوگا۔اول تویہ کہ ایران ہمیشہ جوہری اسلحہ بنانے کی تردید کرتا رہاہے ۔ایران سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بارہا کہاہے کہ ان کے فتوے کے مطابق جوہری ہتھیار بنانا جائز نہیں ہے ۔اس کے باوجود ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ان کے ہوتے ہوئے ایران جوہری طاقت نہیں بن سکتا ،فقط ایک سیاسی اور مصلحت آمیز بیان تھا جس سے امریکی عوام اور عالمی سطح پر اپنی زوال پذیر حیثیت کو بحال کرنا مقصد تھا ۔ٹرمپ نے ایران سے صلح کی دوسری شرط یہ رکھی کہ ایران دہشت گردی کا راستہ ترک کردے ۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ الٹا چورکوتوال کو ڈانٹے ! دنیا جانتی ہے کہ عالمی دہشت گردی کے پس پردہ کونسی طاقتیں کارفرما ہیں ۔داعش جیسی درجنوں دہشت گرد تنظیموں کو کس نے ٹریننگ دی اور ان کے لئے اسلحہ اور دوسری ضرورت کی چیزیں کس ملک سے آتی ہیں،کیا اب بھی یہ ایک خفیہ حقیقت ہے ؟۔ جنرل قاسم سلیمانی پر حزب اللہ ،انصار اللہ اور دوسری مقاومتی تنظیموں کو فوجی تربیت دینا امریکہ کو اتنا کیوں کھٹک رہاہے؟۔ اگر امریکہ دہشت گرد تنظیموں کو تربیت دے سکتاہے تو پھر اپنے حقوق کا دفاع کرنے والی تنظیموں کو ایران تربیت کیوں نہیں دے سکتا؟۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ان تنظیموں کے ہوتے ہوئے امریکہ مشرق وسطیٰ پر مسلط نہیں ہوسکتا۔شام،یمن ،لبنان اور عراق میں امریکہ پوری طرح شکست کھاچکاہے ۔اس کے تمام منصوبے خاکستر ہوچکے ہیں ۔بشرالاسد کے اقتدار کے زوال کا خواب ،خواب ہی رہ گیا۔حزب اللہ لبنان اس وقت امریکہ ،اسرائیل اور اسکے دیگر اتحادی ممالک کے لئے طاقتور ترین مقاومتی تنظیم ہے ۔انصاراللہ کے ہوتے ہوئے یمن پر امریکی حمایت یافتہ سعودی عرب کے مسلط ہونے کا خواب چکنا چور ہوچکاہے ۔عراق میں داعش نیست و نابود ہوچکاہے اور اب عراقی عوام اور حکومت امریکی انحصار کا خاتمہ چاہتی ہے ۔امریکہ مشرق وسطی ٰ میں ذلت آمیز شکست سے دوچار ہے لیکن وہ اپنے منہ سے اپنی شکست کا اقرار نہیں کرنا چاہتا ۔ظاہر ہے اس کی جیتی ہوئی بازی کو شکست میں بدلنا فقط ایران کی اعلیٰ قیادت کی بہترین حکمت عملی کا ہی نتیجہ تھا ۔یہی وجہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ اپنی دہشت گردانہ فعالیت کی پردہ پوشی کے لئے ایران پر دہشت گردی کے الزام عائد کرکے اپنی کھسیاہٹ کو چھپانے کی کوشش میں ہے ۔ٹرمپ کا یہ کہنا داعش ہم دونوں کی دشمن ہے اس لئے دونوں ممالک کو اس کے خلاف مل جل کر لڑنا چاہئے ،پہلے بیان کی تردید کردیتاہے ۔اگر ایران دہشت گردانہ اقدامات میں ملوث ہے تو پھر امریکہ داعش کے خلاف اس کے ساتھ مل کر کیوں لڑنا چاہتاہے؟ اس سے ظاہرہوتاہے کہ امریکہ سفید جھوٹ بول رہاہے اور ایران امریکہ کے تمام فریبی حربوں سے اچھی طرح واقف ہے ۔

موجودہ صورتحال اورامریکہ کی ذلت آمیز شکست سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اب مشرق وسطیٰ، خاص کر شام،یمن ،عراق اور افغانستان میں امریکی فوج کا انخلائی عمل تیزی کے ساتھ شروع ہوگا ۔ایران کی انتقامی کاروائی ابھی پوری نہیں ہوئی ہے ۔بقول ایران سپریم لیڈر کے ’ابھی ہم نے امریکہ کو ایک طمانچہ رسید کیاہے انتقام توابھی باقی ہے ‘اس سےیہ واضح ہوتاہے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے انخلاء اور عالمی سطح پرامریکی طاقت کے زوال کی وجہ بن کر ابھراہے ۔ایران کا جوابی حملہ اس بات کا اعلامیہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت پر لگام کسنا امریکہ کے بس کی بات نہیں ہے ۔ایران امریکی اقتصادی پابندیوں سے نہ پہلے خوفزدہ تھا اور نہ اب ہے ۔اگرایسا ہوتا تو ایران جوابی کاروائی سے پہلے ہزار بار سوچتا !بہتر ہوگا کہ اب امریکہ ایران کے ساتھ نہ الجھے۔اس کا فائدہ امریکہ کو بھی پہونچے گا اور دنیابھی تیسری جنگ عظیم کے خطرے سے محفوظ رہے گی۔