اردو اکادمی کے انعامات میں دھاندلی

اردو اکادمی کے انعامات میں دھاندلی

مکرمی!

اترپردیش اردو اکادمی نے اپنے سال ۲۰۱۸ کے انعامات کا اعلان کردیاہے ۔افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ اکادمی کے ممبران اور ایوارڈ سلیکشن کمیٹی کے اراکین کے نام بھی انعامات کی فہرست میں شامل ہیں ۔حیرت ہے کہ اکادمی کی چیئر پرسن محترمہ آصفہ زمانی نے خود ہی انعام برائے خواتین حاصل کرلیاہے ۔جب اکادمی کی چیرپرسن ہی اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کررہی ہوں تو دیگر اراکین کے بارے میں کچھ کہنا تضیع اوقات ہے ۔ایوارڈ سلیکشن کمیٹی میں ڈاکٹر عباس رضا نیر بھی شامل ہیں جنہیں امیر خسرو ایوارڈ دیا گیاہے ۔ساتھ ہی ایوارڈ کمیٹی کے دوسرے بااختیار رکن اور بنارس ہندو یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو آفتاب احمد آفاقی کو بھی ایوارڈ دیاگیاہے یا یوں کہاجائے کہ انہوں نے خود ہی یہ ایوارڈ اپنے نام کرلیاہے ۔یہ سراسر دھاندلی ہے جو اردو کے نام پر اردو کے نام نہاد مخلصین کررہے ہیں ۔

اگر یہ انعامات اکادمی کے اراکین اور ممبران کے درمیان ہی تقسیم کرنے تھے تو پھر سلیکشن کمیٹی کی کیا ضرورت تھی؟ محترمہ آصفہ زمانی کوشرم آنی چاہئے کہ وہ ایک ذمہ دار عہدے پر رہتے ہوئے اکادمی کے انعام پر غیر منصفانہ طریقے سے ہاتھ صاف کررہی ہیں ۔کمیٹی کے اراکین قانونی طورپر ایوارڈ حاصل کرنے کے لئے مجاز نہیں ہوتے ۔اس غیر قانونی حرکت کے خلاف اردوداں اورخصوصا اردو کی بقا کے لئے چیخنے والے طبقے کو عدالت سے رجوع کرنا چاہئے ۔تعجب ہے کہ انعامات دیے جانے سے ٹھیک پہلے کمیٹی میں بھی تبدیلی کردی گئی ۔ڈاکٹر اسلم جمشید پوری اور الہ آباد یونیورسٹی کے صدر شعبہ کو ہٹاکر ان کی جگہ ڈاکٹر عباس رضا نیر اور ایک دوسرے صاحب کو شامل کرلیا گیاہے جن کا اردو سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے ۔یہ تمام تر دھاندلیاں اور نا انصافیاں اکادمی کی چیرپرسن محترمہ آصفہ زمانی کی صدارت میں انجام پائی ہیں ۔اول تو یہ کہ خود آصفہ زمانی صاحبہ کا اردو سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔وہ ایک سیاسی شخصیت محترمہ و مرحومہ شیمہ رضوی کی والدہ ہیں جو بی جے پی کی رکن تھیں ،اسی بناپر انہیں یہ عہدہ تفویض ہواہے ،انہیں بھی علم ہے کہ انکی صلاحیت اور قابلیت کی بنیاد پر انہیں اکادمی کا چیرپرسن نہیں بنایا گیاہے اس لئے وہ بھی من مانی کررہی ہیں ۔ان کو اکادمی کا چیرپرسن بنوانے میں کچھ جعلی ادیبوں اورفرضی صحافیوں کا بھی ہاتھ رہاہے جو ایک زمانے میںعزتمآب گورنر رام نائک کو اردو کے نام پر ہائی جیک کئے ہوئے تھے ۔افسوس کہ اردو کا جنازہ نکالنے میں ایسے نام نہاد ادیب اور دانشور شامل ہیں اور جو اردو کے نام پر کھاکمارہے ہیں اور جو اردو زبان کے مخلص ہیں وہ خاموش تماشا دیکھ رہے ہیں ۔ورنہ اصولی طورپر اکادمی کی چیر پرسن آصفہ زمانی ،ایورڈ کمیٹی کے رکن عباس رضا نیر اور آفتاب احمد آفاقی کے خلاف سخت قانونی کاروائی ہونی چاہئے ۔

اگر محترمہ آصفہ زمانی اور دیگر اراکین کو اپنے عہدے اور اس کی عزت کا ذرا بھی خیال ہے تو انہیں فورا َ اپنی کرتوت پر معافی مانگنی چاہئے اورحق دار افراد کو ایوارڈ دینے کے لئے اہل لوگوں کا انتخاب کریں ۔نااہل اور مفاد پرست کبھی اردو کی بقا اور تحفظ کے لئے مخلص نہیں ہوسکتے ۔

سیدحسین حیدر

مفتی گنج ،لکھنؤ

7248212196