ہجومی دہشت گردی پر قانون کیوں نہیں!

ہجومی دہشت گردی پر قانون کیوں نہیں!

عادل فراز

ماب لنچنگ پر ہندوستان کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے کوئی مناسب اقدام ہوتا نظر نہیں آرہاہے ۔بھیڑ کے ذریعہ بے گناہ انسانوں کے قتل عام پر قانون سازی کی بات تو ساری حکومتیں کررہی ہیں مگر اب تک مرکزی یا صوبائی حکومتوں نے سنجیدگی کے ساتھ قانون سازی کے لئے کوئی مناسب اقدام نہیں کیا۔راجستھان کی کانگریس کے اقتدار والی گہلوت سرکار نے حال ہی میں ماب لنچنگ اور آنر کلنگ پر قانون سازی کی یقین دہانی کرائی تھی ۔راجستھان سرکار کی اس پیش رفت کے بارے میں بھی ابھی کوئی حتمی بات نہیں کی جاسکتی ۔اسی طرح وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ماب لنچنگ پر قانون سازی کی یقین دہانی کرائی ہے ،مگر ان کی طرف سے بھی پارلیمنٹ میں ایسا کوئی بیان نہیں دیا گیا جس سے یہ معلوم ہوتا کہ نریندر مودی سرکار ماب لنچنگ پر قانون سازی کے لئے پرعزم ہے ۔

موجودہ صورتحال کے تناظر میں یہ کہا جاسکتاہے کہ ماب لنچنگ پر حکومت اور انتظامیہ قانون سازی اور قانونی کاروائی کے لئےباالکل سنجیدہ نہیں ہیں ۔انتظامیہ کی طرف سے ابھی تک مجرموں کے خلاف سخت ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا یہ افسوس ناک ہے۔اگر انتظامیہ قانونی کاروائی کے لئے سنجیدہ نہ ہو تو پھر قانون سازی سے بھی کیا فائدہ ؟۔ہجومی تشدد پر باضابطہ کوئی قانون موجود نہیں ہے لیکن بھیڑ کے ذریعہ بے گناہوں کے قتل پر اگر انتظامیہ سخت ردعمل ظاہر کرتی اوروقت پر مناسب کاروائی کی جاتی تو ہجومی تشدد کے بے شمار واقعات رونما نہیں ہوتے ۔ایسا نہیں ہے کہ انتظامیہ بھیڑ کے چہرے اور انکے پشت پناہوں سے واقف نہیں ہے ۔انتظامیہ بخوبی واقف ہے کہ اس قاتل بھیڑ کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے اور زعفرانی و یرقانی تنظیمیں اس بھیڑ کو لیڈ کررہی ہیں مگر انتظامیہ بے بس اور مجبور ہے ۔ہم نے انتظامیہ کو کبھی اس قدر بے بس اور مجبور کبھی نہیں دیکھا کہ اس کی نگاہوں کے سامنے بے گناہ انسانوں کا قتل عام ہوتا رہے اور وہ خاموش تماشائی بنی رہے ۔اگر انتظامیہ کا یہی رویہ رہا تو پھر قانون سازی سے بھی کیا حاصل ہوگا ۔انتظامیہ کے اختیارات اتنے محدودنہیں ہوتے کہ وہ قاتل بھیڑ کو قابو نہ کرسکے ۔لیکن جب انتظامیہ کی ذہنیت اور قاتل بھیڑ کی ذہنیت میں کوئی فرق نہ رہ جائے تو پھر قاتل چہرے بھی بے چہرہ نظر آتے ہیں ۔

ماب لنچنگ کے خلاف حکومت کے ذریعہ قانون سازی کا ہمیں قطعی یقین نہیں ہے کیونکہ جب بے گناہوں کے قتل عام پر وزیر اعظم خاموش نظر آتے ہیں تو ہماری ساری امیدیں ریت کی دیوار کی طرح ڈہہ جاتی ہیں۔تین طلاق ممنوعہ بل پاس ہوتے ہی وزیر اعظم ٹویٹ کرکے اپنی پیٹھ آپ تھپتھپاتے ہیں مگر ماب لنچنگ پر ان کی طرف سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آتا ،یہ حیرت ناک ہے۔اگر وہ ہجومی دہشت گردی کے خلاف پارلیمنٹ ہائوس کے ممبران اور میڈیا کے سامنے بیان دینے سے گریز کرتے ہیں تو کم از کم ان کی طرف سے ٹویٹر پر ہی کوئی مذمتی بیان آجا تا۔ان کا یہ بیان جہاں متاثرین کے لئے ڈھارس کام کرتا وہیں مجرموں کے لئے حکومتی انتباہ ہوتا اور انتظامیہ بھی قاتل بھیڑ کے خلاف مستعد ہوتی ۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ وزیر اعظم روایتی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور ہجومی دہشت گردی پر ان کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آتا ۔کیا تین طلاق کا مسئلہ ہجومی دہشت گردی سے بڑا مسئلہ ہے ۔کیا انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔بھیڑ آتی ہے بے گناہ انسانوں کا بے دریغ خون بہا کر واپس اپنے بلوں میں گھس جاتی ہے مگر وزیر اعظم ایک بار بھی اس بھیڑ کے خلاف کاروائی کی یقین دہانی نہیں کراتے ۔ان کی طرف سے متاثرین کے لئے ہمدردی کا پیغام تک نہیں آتا ۔ایسا شاید اس لئے ہے کہ جس ’’ہندتوو ‘‘ کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے یہ بیانات اس ایجنڈے کے منافی ہیں ۔وزیر اعظم اس بھیڑ کو ناراض کرنا نہیں چاہتے جو انکی کامیابی کے پیچھے کھڑی ہوئی ہے ۔تو پھرانہیں سرکاری سطح پر کھلی چھوٹ کیوں نہیں دی جاتی تاکہ جو کچھ بھی ہو وہ سرکاری سرپرستی میں ہو ۔اس کے بعد نہ کسی کو احتجاج کا حق ہو گا اور نہ کوئی شکایت درج کروانے کے لئے تھانے میں جانے کی زحمت کرے گا ۔

سرکار سے بھیڑ کے ذریعہ بے گناہوں کے قتل عام پر یہ سوال بھی کیا جانا چاہئے کہ آخر ماب لنچنگ کو ’دہشت گردی‘ کے دائرے میں کیوں نہیں لایا جاتا؟۔ایک بے گناہ نہتّے انسان پر منظم بھیڑ حملہ کرکے قتل کردیتی ہے یہ دہشت گردی نہیں تو اور کیاہے۔ماب لنچنگ پر قانون سازی سے پہلے اس پہلو پر بھی غور کیا جانا ضروری ہے ۔اول تو یہ مسئلہ یہی ہے کہ جب حکومت ماب لنچنگ کے روز بہ روز افزوں واقعات پر سنجیدہ نہیں ہے تو ہم یہ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ سرکار ’ہجومی تشدد‘‘ کو ’’ہجومی دہشت گردی‘‘قرار دے گی۔اب بھی ہم حکومت کی طرف سے ماب لنچنگ پر قانون سازی کے منتظر ہیں ۔ممکن ہے بے گناہ انسانوں کے قتل عام پر حکومت کا ضمیر جاگ جائے اور وہ ایوان میں قانون سازی کے لئے بل پیش کردے ۔