ہجومی تشددکے خلاف مضبوط لائحۂ عمل کی ضرورت ہے

ہجومی تشددکے خلاف مضبوط لائحۂ عمل کی ضرورت ہے

عادل فراز

ہندوستان کی موجودہ تشویش ناک صورتحال کے تناظر میں یہ کہاجاسکتا ہے کہ ہماری ملّی قیادت بیحد کمزور اور بغیر کسی مضبوط لائحۂ عمل کے میدان عمل میں ہے ۔قومی پیمانے پر ہم بصیرت افروز قیادت کے لئے ترس رہے ہیں اور بصیرت سے عاری افراد کے ہاتھوں میں قوم کی باگ ڈور سونپ دی گئی ہے ۔ایسے پرآشوب ماحول میں کہ جب اقلیتوں کی جان ومال اور عزت و ناموس محفوظ نہیں ہے اور جمہوری نظام میں آئین کی بالادستی ختم ہوتی جارہی ہے کوئی ایسی پناہ گاہ نظر نہیں آرہی ہے کہ جہاں دم توڑتی ہوئی اقلیتیں خود کو محفوظ تصور کریں اور کوئی مضبوط ملّی قائد ان کے لئے سینہ سپر ہوجائے ۔ایسا نہیں ہے کہ ہم حالات سے قطعی طورپر مایوس ہوچکے ہوں ،بلکہ ہم اب بھی ملت کے موروثی اور جامد نظام میں تبدیلی اور تحرک کے لئے پرامید ہیں۔

ہندوستان میں آئے دن ماب لنچنگ کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ابھی ہمارے ملّی قائدین کی طرف سے حکومت ہند پر مجرمین کے خلاف کاروائی کے لئے مناسب دبائو بنانے کی کوشش نہیں کی گئی یا پھر وہ حکومت کے یک طرفہ رویّے سے اس قدر مایوس ہوچکے ہیں کہ مجرموں کی گرفتاری کے لئے دبائو بنانے کی حکمت عملی بھی انہیں کار عبث لگ رہی ہے ۔سوال یہ ہے کہ ایسے پرآشوب ماحول میں کہ جہاں مجرموں اور غنڈوں کو انتظامیہ کی سرپرستی اور حکومت کی پشت پناہی حاصل ہو کیا وہاں حالات سے سمجھوتا کرنااور مصلحت آمیز خاموشی کی چادر تان کر خواب خرگوش کے مزے لیناصحیح حکمت عملی ہے؟ قطعی نہیں ! ہمیں مسلسل حکومت اور انتظامیہ سے مجرموں کے خلاف کاروائی ، اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرانے نیز خود اپنی حفاظت کے لئے منظم لائحۂ عمل کی ضرورت ہے ۔ایسے حالات میں خاموشی کوئی مناسب حکمت عملی نہیں ہوسکتی ۔حکومت نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ماب لنچنگ کے خلاف قانون لانے کی تیاری میں ہے مگر اب تک اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔حکومت کی منشا قانون بنانے کی ہے بھی نہیں کیونکہ اس طرح جس ’’کٹّر ہندتوو‘‘کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے وہ اقتدار میں آئے ہیں،ان کی منظم اور منضبط پالیسی مجروح ہوگی اور ایک بڑے طبقے کے درمیان حکومت کی شبیہ خراب ہوسکتی ہے ۔حزب اختلاف بھی ماب لنچنگ پر قانون لانے کے لئے سنجیدہ نظر نہیں آتا ۔ابھی تک ان کی طرف سے ماب لنچنگ پر قانون لانے کے لئے پرزور مطالبہ نہیں کیا گیا ۔حزب اختلاف فقط کہنے کی حدتک قانون سازی کا مطالبہ کرتا ہوا نظر آتاہے ۔اس سے واضح ہوتاہے کہ حزب اختلاف کی نیت بھی صاف نہیں ہے ۔

مودی حکومت کے پہلے دور میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے سپریم کورٹ کی۱۱ /نکاتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کابینی وزراء کی دو اعلیٰ سطحی کمیٹیاںتشکیل دی تھیں جن میں اول کمیٹی کابینی وزراء پر مشتمل تھی اور دوسری کمیٹی سکریٹری برائے وزارت داخلہ کی صدارت میںمتعلقہ افسران پر مشتمل تھی۔کابینی وزراء پر مشتمل کمیٹی میں اس وقت کی وزیر خارجہ سشما سوراج ،وزیر نقل و حمل نتن گڈکری،وزیر قانون روی شنکر پرساد، اور وزیر برائے سماجی امور شامل تھے۔اس کمیٹی کی صدارت خود راج ناتھ سنگھ کررہے تھے۔دوسری کمیٹی سکریٹری برائے امور داخلہ کی قیادت میں تھی جس میں نوکر شاہی عملہ شامل تھا ۔اس نوکر شاہی عملے کو کابینی کمیٹی کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنی تھی ۔ذرائع کے مطابق نوکر شاہوں کی کمیٹی نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو اپنی رپورٹ سونپ دی تھی جس میں آئی پی سی اور سی آر پی سی کے پروویزن کو جوڑ کر قانون کو سخت بنانے کی تجویز رکھی گئی تھی۔مگر افسوس ناک صورتحال یہ رہی کہ کبھی اس رپورٹ کوعام نہیں کیا گیا اور اب تک اس رپورٹ کی روشنی میں کوئی مناسب کاروائی ہوتی نظر نہیں آتی۔ماب لنچنگ پر قانون لانے کے لئے اسی رپورٹ کو مد نظر رکھنا ہوگا لیکن قانون لانے سے پہلے اس رپورٹ کو ایوان میں عوامی نمائندگا ن کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے تاکہ حکومت کی طرف سے لائے جانے والے قانون پر ان نکات کی روشنی میں بحث ہوسکے ۔ لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے نہ رپورٹ پیش کرنے کی بات کہی گئی ہے اور نہ قانون لانے کے لئے کوئی مناسب اقدام نظر آتاہے ۔

موجودہ وزیر داخلہ امت شاہ نےبھی ایوان میں ایسی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی جس سے یہ مان لیا جاتا کہ آئندہ ماب لنچنگ پر سخت قانون بنانے کے لئے حکومت سنجیدگی کے ساتھ کام کررہی ہے۔ایسے حالات میں ہمارے ملّی قائدین نا حکومت پر دبائو بناپارہے ہیں اور نہ حزب اختلاف پر ۔اگر ایوان میں قانون لانے کے لئے حزب اختلاف مؤثر کردار ادا نہیں کررہاہے تو اس پر ملّی قائدین کو سنجیدگی کے ساتھ سوچنا چاہئے اورحال کے ساتھ مستقبل کا لائحۂ عمل ابھی سے طے کرلینا چاہئے۔ملّی قائدین کی طرف سے مسلسل حکومت سے یہ سوال ہونا چاہئے کہ آخر ان رپورٹس کو عوامی کیوں نہیں کیا جارہاہے ؟ اور ہجومی تشدد پر سخت قانون بنانے کے لئے حکومت سنجیدگی کے ساتھ غور کیوں نہیں کررہی ہے ؟اگر ہمارے قائدین اور ملّی تنظیمیں مسلسل حکومت سے یہ مطالبات دہراتی رہینگی تو امید کی جاسکتی ہے کہ کوئی راہ حل سامنےآئے ۔اس مطالبے کو دہرانے کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات کے پیش نظر اور مستقبل کی بہتری کے لئے مضبوط لائحۂ عمل پر کام کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے ،جس کی کمی ہمارے یہاں شدت کے ساتھ ہمیشہ محسوس کی گئی ہے ۔