مذہب اسلام میں اول دن سے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے: وصی سلیمان ندوی

مذہب اسلام میں اول دن سے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے: وصی سلیمان ندوی

مظفرنگر,(شاہدحسینی): اصلاح معاشرہ و شریعت بیداری مہم کے تحت جاری سلسلہ محاضرات کا بیسواں اجلاس بعنوان "تعلیم ہر بچہ کا بنیادی حق "مدرسہ خدیجۃ الکبری محلہ صرافان کھتولی میں زیر صدارت ممتاز عالم دین ماہنامہ ارمغان کے ایڈیٹر مولانا وصی سلیمان ندوی منعقد ہوا جس میں انہوں نے سامعین کو مخاطب کرتےہوئے کہ اسلام صرف چند عبادات کا نام نہیں بلکہ تہذیب کا اور طرز زندگی کا نام اسلام ہے۔اسلام میں اول دن سے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے،اسلام نے تعلیمات دی ہیں کہ ایک بچہ بھی تعلیم سے محروم نہ رہے،اسلام میں محمد صلی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں1400 سال پہلے تعلیم کا نعرہ دیا گیا ہے تاکہ مسلم سماج میں کوئی جاہل نہ رہے۔اس لئے نسل نو کو اسلامی تہذیب سے واقف کرانا ہر والدین کی ذمہ داری ہے۔اگر اولاد کی صحیح تعلیم کا انتظام نہیں کیاگیاتو ان کی بڑی حق تلفی ہوگی۔ہمارے ملک ہندوستان میں صوبہ کیرلا کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے وہاں سوفیصد تعلیم کے نشانہ کو پورا کیا گیا ہے جس میں وہ شہر بھی شامل ہیں جہاں مسلم آبادی کا تناسب اکثریت میں ہے۔

پروگرام کے محاضر مولانا محمد عمر ناصحی نے اولاد کے حقوق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لڑکے اور لڑکی کی بنیادی ضروریات میں سے یہ ہے کہ انہیں تعلیم سے آراستہ کیا جائے۔اچھا نام،تعلیم ،ادب، تہذیب،غذا، لباس،عقیقہ، ختنہ،ہر بچہ کی بنیادی ضروریات زندگی میں سے ہے۔پہلے والدین بچوں کی مادری زبان اور تہذیب کی فکر کرتے تھے اب اس پہلو کی طرف توجہ کم ہوگئی ہے جس کے سخت نتائج بھگتنا پڑیں گے ۔آج بھی والدین کو اس پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔اور اولاد کو ان کی اپنی اسلامی تہذیب سے آشنا کرانے کی ضرورت ہے۔ہماری بد قسمتی ہے کہ یہ سب چیزیں ہمارے نظام سے نکلتی جارہی ہیں۔

خصوصی خطاب میں مولانا محمد اعظم ندوی نے سلسلہ وار خطابات کے پروگرام کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علماء کی نگرانی میں ایک خاص موضوع پر محاضرہ تیار کیا جاتا ہے جس کوعام فہم اور سادہ زبان میں پیش کیا جاتا ہے۔اس شعبہ کے منتظم مفتی محمد عاشق صدیقی ندوی نے بتایا کہ اس اجلاس کے اخیر میں سوال و جواب کا سلسلہ اس لئے رکھا گیا ہےکہ اگر کوئی بات محاضرہ کے دوران نہیں سمجھ میں آسکی ہو تو اسے سوال کی شکل میں حل کرلیا جائے۔ صرف محاضرہ سن لینا کافی نہیں بلکہ اسے سمجھنا بھی ضروری ہے۔پروگرام کا انتظام مفتی مجیب الرحمن ندوی اور سید محمود الحسن نےسنبھالا اور اپنی کوششوں سے پروگرام کو کامیاب بنایا۔عبداللہ کی تلاوت اور محمد عاطف ندوی کی نعت پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا۔پروگرام میں خصوصی تعاون کرنے والے اور شرکت کرنے والوں میں ،عثمان انجینئر،ڈاکٹر سرور نعیم،عزیز الرحمن خاں عزیز صاحب، ایڈوکیٹ شاہین اقبال،مولانا آصف ضمیر ندوی،مولانا محمد ثاقب، مفتی اسامہ ادریس،بھائی کفیل احمد، قاری محمداعظم،محمود الحسن بھائی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔نظامت کے فرائض مولانا محمد اعظم ندوی نے انجام دیے۔مدرسہ خدیجۃ الکبری کے ذمہ دار سید حسین احمد ندوی نے کلمات تشکر پیش کئے۔مولانا محمد علی جوہر قاسمی کی دعاء پر پروگرام اختتام ہوا