تقلید کی ناواقفیت ہی سے اخباریت کا وجود: مولانا سیف عباس

تقلید کی ناواقفیت ہی سے اخباریت کا وجود: مولانا سیف عباس

لکھنو : ماہ مبارک رمضان میں کثرت سے مو منین کا مسجد میں حاضر ہونا ایک بہت اچھا مو قع ہے ۔ جب مبلغین پیغام اہلبیت کو مو منین تک با آسانی پہنچا سکتے ہیں ۔اس بات کا چھوٹا امام با ڑہ میں نماز مغربین سے قبل ممتاز العلما ءسید سیف عبا س نقوی نے اظہار خیا ل کیا ۔معلوم ہوکہ مولانا چھوٹے امام باڑے میں نماز مغربین کی پیش نماز کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور روز انہ قبل مغرب وعظ فرما رہے ہیں ۔ مولانا نے حالات حا ضرہ پر گفتگو کر تے ہوئے کہاکہ آج جس طریقہ سے مر جعیت کی توہین کی جا رہی ہے یہ نہایت ہی افسوسناک ہے ۔ ہم کو اس بات کے اسباب و علل کو تلا ش کرنا چاہئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک جاہل شخص بھی مراجع کی توہین سے گریز نہیں کر تا ہے ۔ مولانا سید سیف عبا س نے کہاکہ دور حا ضر میں تقلید کی اہمیت کو بیان نہیں کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے لو گ تقلید سے منحرف ہیں اور مراجع کی توہین کر رہے ہیں ۔ آج ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم جتنی تقلیدکی اہمیت و افادیت کو بیان کریں گے اتنا ہی اخبا ریت کا دم نکل جائے گا۔ مولانا نے کہاکہ میں نے خود اس بات کا مشاہد ہ کیا ہے کہ آج ہمارے معاشرے کے اندر تقلید سے لو گ آشنا نہیں ہے اور اگر ان سے دریافت کیا جا تا ہے کہ آپ کس کی تقلید کر تے ہیں؟ تو وہ جواب میں کہتا ہے ہمارے یہاں جو مجلس پڑھتا ہے ہم اس کی تقلید کرتے ہیں ۔ اسی کے ساتھ مولانا نے کہاکہ ایک پڑھے لکھے افراد کا طبقہ جو دشمن اسلام کے اشارے پر بزرگ مراجع کی توہین کر تا چلا آرہا ہے اوروہ بھی اخباریت کو تقویت پہنچا رہا ہے۔ مولانا نے آخر میں کہاکہ اگر ہم کو اخباریت کو دفن کرنا ہے تو ہمارے اوپر واجب و لازم ہے کہ ہم تقلید کی اہمیت سے لو گوں کا آگاہ کریں اور تقلید کے سلسلہ میں عوام میں بیداری پیدا کریں ۔ مولانا نماز ظہرین کی امامت کے مسجد تحسین علی خاں چوک میں فرمارہے ہیں اور نماز ظہرین کے بعد بھی وعظ فرمارہے ہیں ۔