رمضان المبارک میں قرآن مجید کے تعلق سے ہماری ذمہ داریاں: ڈاکٹرطاہرقم

رمضان المبارک میں قرآن مجید کے تعلق سے ہماری ذمہ داریاں: ڈاکٹرطاہرقم

مظفرنگر: جیسا کہ آپ سب اس بات سے واقف ہیں کہ قرآن مجید رمضان المبارک کے مہینے میں نازل ہوا جو سراسر ہدایت پر مبنی ہے اور انسان کو جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نکال کر ایسی روشنی کی طرف لے آتا ہے جس کے سائے میں انسان کی زندگی کامیاب و کامران بن جاتی ہے ان خیالت کااظہارمیرانپور کے معروف ادیب ڈاکٹرطاہرقمر نے کیاکہا کہ اس مقدس مہینے میں ہم پر یہ ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ نہ صرف ہم اس کتاب کی بھر پور تلاوت کریں بلکہ اس کو سمجھ کر بھی پڑھیں،اسکی تعلیمات پر عمل پیرا بھی ہوں ، اور ساتھ ہی ساتھ اسکی تعلیمات کو دوسروں تک بھی پہنچائیں یہ قرآن مجید کا ہم پر حق ہے اب ذرا غور بھی کریں کہ کیا ہم قرآن مجید کے حق کو اسی انداز میں پورا کر رہے ہیں جیسا کہ اس کا حق ہے؟اگر پوری ایمانداری سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امت مسلمہ اپنی اس ذمہ داری سے چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہےتلاوت قرآن ہم کثرت سے کرتے ہیں کرنا بھی چاہیے بڑی نیکیاں حاصل ہوتی ہیں، گھروں میں خدا کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول بھی ہوتا ہے مگرکیا صرف تلاوت سے ہم قرآن کریم کے اس حق کو ادا کرنے کے اہل بن جاتے ہیں جو مطالبہ قرآن مجید ہم سے کرتا ہے ہر گز نہیں اپنی گفتگوجاری رکھتے ہوئے موصوف نے کہا کہ قرآن نازل ہی اس لئے کیا گیا تھا کہ بھٹکتی ہوئی انسانیت کو سیدھی راہ دکھائی جائے ہم وہ حق ادا کیوں نہیں کر پا رہے ہیں ۔بسا اوقات کہیں کہیں نظر آتا ہے کہ کہ درس قرآن کے حلقے قائم ہیں ورنہ نہ عوام الناس کو اس بات کی فکر ہے کہ قرآنی تعلیمات کو سمجھا جائے اور نہ ہی علماء کرام کو اس کا احساس ہوتا ہے کہ درس قرآن کے حلقے جگہ جگہ قائم ہوں اوراس کے لئے سب سے بہتر مقام مساجد ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ ہم اس طرف سے قطعی طور پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ متلاشی ہیں اس کے تعلیم یافتہ افراد تو کسی بھی عالم اور مفسر قرآن کی تفسیر سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اٹھا لیتے ہیں مگر ان بیچاروں تک قرآن کا درس کون پہنچائے گا جو قرآن کی تعلیمات سے انجان ہیں اور محض چند آسان سی لگنے والی عبادتوں اور عمل کو ہی مکمل اسلام سمجھ بیٹھے ہیں مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله عليه اپنی تفسیر میں رقم طراز ہیں اور پیغمبر کہینگے کہ اے پرورگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا

اسی طرح آگے مولانا فرماتے ہیں کہ قرآن کو چھوڑ دینے کی کئی صورتیں ہیں اس کو نہ ماننا اور اس پر ایمان نہ لانا بھی چھوڑ دینا ہےاس میں غور نہ کرنا اور سوچ سمجھ کر نہ پڑھنا بھی چھوڑ دینا ہے اور اس کے اوامرکا بجا نہ لانا اور منہیات سے اجتناب نہ کرنا بھی چھوڑ دینا ہےاگر ہم غور کریں تو کیا یہ ترک قرآن نہیں ہےاس سے پہلے کہ ہم دنیا سے رخصت ہوں ہماری یہ صریح ذمہ داری ہے کہ ہم نہ صرف قرآن کی تلاوت کریں بلکہ اس میں غور و فکر بھی کریں ۔اس کی تعلیمات پر عمل پیرا بھی ہوں اور دوسروں تک بھی خدا کے اس پیغام کو پہنچائیں تاکہ ایک صالح معاشرے کی تشکیل کا خواب شرمندء تعبیر ہو سکے ۔