سب سے پہلے ہم اپنے گھروں میں اردو کو زندہ کریں : وضاحت حسین رضوی

سب سے پہلے ہم اپنے گھروں میں اردو کو زندہ کریں : وضاحت حسین رضوی

مولانا ظفر علی خاں پر سیمینار کا انعقاد

آئینہ اور صحافت کے ظفر علی خاں خصوصی شما رے کا اجرا

لکھنو : اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں عام کیا جائے ۔ ون ایچ ون ٹیچ کے ذریعہ اردوزبان کی ترویج کی جائے ۔ اردو زبان نے جہاں ادب کو بام عروج تک پہنچایا وہیں اردو صحافت نے جنگ آزادی میں اہم رول ادا کیا اردو کے جید صحافی مولانا ظفر علی خاں نے اپنی صحافتی صلاحیتوں کے ذریعہ ملک کو آزاد کرانے میں گراں قدر رول ادا کیا ۔

سیمینار کے مہمان خصو صی الحاج اکرام قریشی ایم ایل اے نے پر وگرام کے آرگنائزر مر زر مر تضی اقبال کی صحافتی خدمات اور کوششوں کے لیے سراہا جوانہوں نے اردو صحافت کی بقا اور اس کی ترقی کے لیے کی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کہ آج ان حالات میں جب اردو زبوں حالی کا شکار ہے اور نا نہاد اردو ما فیا و ¿ں نے اس پر قبضہ کر رکھا ہے یہ انہیں کا عزم ہے کہ وہ ہر برس یوم صحافت کا انعقاد کر تے ہیں ۔ انہوں نے اردو زبان کی ترقی اور ترویج پر بھی اپنے تاثرات پیش کیے ۔

سیمینار کو خطاب کر تے ہوئے جناب عالم نے مولانا ظفر علی خاں کی ادبی و صحافتی خدمات پر بھر پور روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہاکہ مولانا عمدہ شاعر بہترین نثر نگار تھے ۔ نقد و نظر کو ذہن رکھتے تھے ان کی شہرت صرف اور صرف اردو صحافت ثابت ہوئی ۔ مولانا ایک قد آور صحافی تھے ۔ ما سٹر مزمل حسین نے اردو زبان اور صحافت کے حوالے سے مولانا کی خدمات کے اہم پہلو کو اجاگر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اردو والوں میں بیداری نہیں آئے گی اردو کی ترقی ممکن نہیں ۔

نیادور کے سابق ایڈیٹر اور ڈپٹی ڈائر کٹر اطلاعات ڈاکٹر وضا حت حسین رضوی نے اردو صحافت کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے کہاکہ آج اخبار کی تعداد تو بڑھتی جا رہی ہے مگر قاری کی تعداد مستقل گرتی جا رہی ہے انہوں نے کہاکہ وہی زبان زندہ رہتی ہے جس کے بولنے اور پڑھنے والے ہوں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ والدین بالخصو ص ماں کو اردو کی معلومات ضروری ہونی چاہئے کیونکہ ماں ہی پہلا اسکول ہوتی ہے ۔ ڈاکٹرو ضاحت رضوی نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں تہذیب بھی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسلاف نے ملک و قوم کے لیے کتنی قربانیاں پیش کی ہیں ۔ مولوی با قر کی قربانی کا ذکر کر تے ہوئے کہاجکہ وہ پہلے صحافی ہیں جنہوں نے اپنی شہا دت دے کر اردو صحافت کو ترقی دی ۔

ڈاکٹر رضوی نے مولانا ظفر علی خان کی صحافتی خدمات پر بھر پور روشنی ڈالتے ہوئے ”زمیندار “ اخبار کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا ۔ انہوں نے اس طرح کے پر وگرام کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ہم ایسے پروگرام میں اپنے بچوں کو ضرور لائیں ۔ انہوں نے کہا کہ مرتضی اقبال جہاں ایک بے باک صحافی کی حیثیت کے حامل تھے ۔ وہیں انہوں نے نئی نسل کو گمشدہ اردو صحافیوں سے روشناس کرایا ہے ۔ جنہوں نے اردو صحافت کے ذریعہ ملک کو انگریزوں کی غلا می سے نجات دلایا ۔ پر وگرام کی نظامت جاوید رشید عامر اور ڈاکٹر رباب انجم نے کی۔ اس پر وگرام سے کثیر تعداد میں اردو شائقین اور صحافی حضرات موجود تھے ۔