انا کا معرکہ ہے یہ وجود کی جنگ ہے

انا کا معرکہ ہے یہ وجود کی جنگ ہے

عادل فراز

۲۰۱۹؁ءکے انتخابات سے ٹھیک پہلے رام مندر کی تعمیر کا جن ایک بار پھر بوتل سے باہر ہے۔گزشتہ ماہ دہلی میں سادھو سنتوں نے ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوکر مرکزی حکومت سے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے ایوان میں قانون پاس کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔اس ’دھر م سبھا‘ کے بعد شیو سینا اور ویشو ہندو پریشد جیسی یرقانی تنظیموں نے رام مندر تعمیر کے لئے ایودھیا میں۲۵ نومبر۲۰۱۸ کو’دھرم سبھا ‘کرنے کا اعلان کردیا۔ہزاروں کی تعداد میں رام بھگت سیاسی شعبدہ بازوں کے شکار اب تک ایودھیا پہونچ چکے ہیں۔امیدقوی ہے کہ یہ تعداد لاکھوں تک پہونچے گیکیونکہ بھگوان رام کے نام پر ورغلا کر لوگوں کو’ دھرم سبھا ‘میں مدعو کیا گیاہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ اس’ دھر م سبھا‘ سے کیا نتائج نکلتے ہیں اور شیو سینا جیسی تنظیمیں بی جے پی پر کس قدر دبائو بنانے میں کامیاب ہوتی ہیں۔یہ دیکھنا بھی اہم ہوگا کہ ملک کی انتظامیہ حالات پر کس طرح اور کیسے قابو حاصل کرے گی ۔اگر انتظامیہ جانبداری کا مظاہرہ نہ کرے تو یقیناَ کسی ’رام بھگت ‘ کی یہ جرأت نہیں ہوسکتی کہ وہ ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرے ۔مگر جب انتظامیہ کی نگاہوں کے سامنے شیوسینک بابری مسجد کو منہدم کرسکتے ہیں توپھر کچھ بھی ہوسکتاہے ۔ہزاروں کی تعداد میں مسلمان ایودھیا اور آس پاس کے علاقوں سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔مقامی ہندو بھی خوفزدہ ہیں ۔اب تک ۷۰ ہزار سے زائد جوانوں کو ایودھیا میں نظم و نسق برقرار رکھنے کے لئے تعینات کیا جا چکاہے ۔ممکن ہے ۲۵ نومبر کی صبح تک مزید حفاظتی دستے ایودھیا اور آس پاس کے علاقوں پر نظر رکھنے کے لئے بھیج دیے جائیں ۔مگر سوال یہ ہے کہ آخر اتنی سکیورٹی ہونے کے باوجود مسلمان اور ہندو اپنے آپ کو غیر محفو ظ کیوں تصور کررہے ہیں ۔کیا ہماری انتظامیہ کا ماضی اتنا مشتبہ رہاہے کہ اب دہشت زدہ ماحول میں انسان نقل مکانی کو ترجیح دے رہاہے۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ انتظامیہ اور حفاظتی دستے اپنا اعتماد کھوچکے ہیں۔پولیس کو چاہیے کہ وہ اقلیتوں میں اپنا اعتماد بحال کرے اور غیر جانبداری کے ساتھ امن و امان کی بحالی میں ہر ممکن تعاون پیش کرے ۔ورنہ ملک کی تاریخ انتظامیہ کو خائن اور جانبدار لکھنے سے گریز نہیں کرے گی۔دوسری طرف ایودھیا میں متعدد ہندو تنظیموں کے اراکین کا جمع ہونا اور رام مندر تعمیر کےلئے شدت پسندانہ اصرار سپریم کورٹ پردبائو بنانے کی حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے۔جسٹس گوگوئی نے جس ذہانت اور مصلحت پسندی کے ساتھ مقدمہ کی سماعت کو آگے بڑھایاہے اس سے یرقانی تنظیموں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیالہذا ایودھیا میں ’دھرم سبھا‘ کے بہانے سپریم کورٹ پر مندر کی تعمیر کے حق میں فیصلہ دینے کے لئے دبائو بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اس کے بر خلاف شیوسینا نے مرکزی حکومت کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے رام مندر تعمیر کے لئے قانون پاس کرنے کا مطالبہ کیاہے ۔شیوسینا نے بہت واضح الفاظ میں بی جے پی کو انتباہ دیتے ہوئے کہاہے کہ ’جب ہم ۱۷ منٹ میں بابری مسجد منہدم کرسکتے ہیں تو قانون لانے میں اتنی تاخیر کیوں کی جارہی ہے؟ ‘۔یہ بیان قانون کا مضحکہ اور سپریم کورٹ کی اہانت پر بھی مبنی ہے۔شیو سینا یہ بتانا چاہتی ہے کہ وہ قانون سے ماورا ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ علی الاعلان بابری مسجد کے انہدام کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔مگر ہمارا قانون اقبال جرم کے مجرموں پر بھی گرفت نہیں کرپارہاہے یہ حیرت ناک ہے۔ شیوسینک کہہ رہے ہیں کہ’ پہلے ہم رام کے نام پر ووٹ مانگتے تھے تاکہ ہم اقتدار میں آکر رام مندر تعمیر کراسکیں ۔مگر اب جبکہ ہم اقتدار میں آچکے ہیں تو رام مندر تعمیر میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے؟‘‘۔شیوسینا اور دیگر ہندوتنظیموں کا یہ شدت پسند رویہ بی جے پی کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی ’رام مندرقضیہ‘ کو زندہ رکھے بغیر اقتدار میںباقی نہیںرہ سکتی ۔بی جے پی جانتی ہے کہ بھگوان رام کے مندر کی تعمیر سے اسے کوئی بڑا فائدہ نہیں ہوگا ۔مگر رام مندر قضیہ کو جوں کا توں رکھ کر وہ اپنا سیاسی الّو آئندہ بھی سیدھا کرسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے رام مندر تعمیر کو لیکر کوئی ایسا واضح اور اہم بیان نہیں دیاہے جس سے رام کے عقیدتمندوں کو مندر تعمیر کے سلسلے میں مکمل یقین دہانی کرائی جاسکے ۔چونکہ رام مندر او ر باری مسجد کا مسئلہ ابھی سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے اس لئے بی جے پی حکومتی سطح پر تو مصلحت کے پیش نظر خاموش ہے مگر اس کے ’بھگواسیاسی رہنما‘ آرایس ایس اور بی جے پی کے اشارے پر ایسے اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں جس سے ہندوتنظیموں کے کارکنان کو مسلمانوں کے خلاف متحد کیا جاسکے۔باوجوداسکے بی جے پی شیو سینا اور دیگر ہندو تنظیموں کے اس ردعمل پر ششد ر ہے کیونکہ اگر یہ تنظیمیں انکے خلاف ہوجاتی ہیں تو بی جے پی کو ۲۰۱۹؁ء کے انتخابات میں اسکی قیمت اقتدار کی کرسی گنواکر چکانی پڑے گی۔اس لئے ممکن ہے کہ بی جے پی ۲۵ نومبر کو رام مندر تعمیر کے لئے کوئی اہم اعلان کرکے ہندوتنظیموں کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرے گی۔اگر حالات خراب ہوتے ہیں تب بھی بی جے پی انتظامیہ پر مکمل دبائو بنائے گی کہ وہ جانبدار رہے یا گجرات کی طرح کچھ دیر خاموش تماشائی بنی رہے۔چونکہ شیو سینا کو ایودھیا میں ریلی کی اجازت نہیں دی گئی ہے اس لئے حالات بگڑنے کے امکانات زیادہ ہیں ۔

رہا رام مندر تعمیر اور بابری مسجد کی منتقلی کا مسئلہ تو ہمیں اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا دکھائی نہیں دے رہاہے ۔کیونکہ مسلمان بابری مسجد کی منتقلی پر آمادہ نہیں ہیں اور ہندو رام مندر کی تعمیر کے لئے پرعزم ہیں۔یہ لڑائی اب دومذہب کے پیروکاروں یا دونظریوں کی جنگ نہیں رہی ہے بلکہ اسے انا کامعرکہ اوروجود کی جنگ میں بدل دیا گیاہے ۔ہندو یہ سمجھ رہاہے کہ اگر رام جنم بھومی پر بابری مسجد تعمیر ہوگئی تو انکی اکثریت بے وقعت ہوکر رہ جائے گی۔وہیں مسلمان یہ سوچ رہے ہیں کہ اگر بابری مسجد کی زمین پر رام مندر تعمیر ہوگیا تو ہندوئوں کی نظر میں انکی کوئی قدروقیمت نہیں رہ جائے گی ۔جب کہ حقیقت حال یہ ہے کہ ملک میں ہندوئوں کی اکثریت نہیں ہے ۔اگر وہ اپنی آبادی کا بغور جائزہ لیں تو دلتوں اور شودروں کو نکال کر انکی آبادی مسلمانوں کی آبادی سے زیادہ نہیں ہوگی۔رہی مسلمانوں کی قدروقیمت کی بات تو مسلمانوں کی اپنی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے ۔وہ ہر سیاسی جماعت کے ساتھ مل کر اپنی ہی جڑیں کانٹنے میں مصروف ہیں۔بابری مسجد مقدمہ میں شامل تمام افرادکسی نا کسی سیاسی جماعت کے نمک خوار ہیں لہذا ہم ان سے کیا امیدیں وابستہ رکھ سکتے ہیں ۔بابری مسجد نے بہت سوں کی روزی روٹی کا انتظام کررکھاہے اور بونوں کو سیاسی قد نکالنے کا موقع فراہم کیا تھا جسکی برکتوں کے نتیجہ میں وہ آج بھی ’قومی رہنما‘ بنے ہوئے ہیں۔مسلمانوں کو تسلیم کرنا ہوگا کہ انکے سیاسی و قومی رہبران بابری مسجد کے لئے مخلص نہیں ہیںاور مسلمانوں کے مسائل سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔مگر بابری مسجد کے مقدمہ میں شامل افراد سے ہٹ کر عام مسلمان اس لڑائی کو اپنے وجود کی بقا کی جنگ سمجھ رہے ہیں۔جنگ میں فتح ہو یا شکست مگراسکے نتائج کسی بھی حال میں خوش آئند نہیں ہونگے ۔

مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا کہ کانگریس اور دیگر نام نہاد سیکولر جماعتوں نے ہمیشہ بی جے پی اور آرایس ایس کا خوف دلاکر انکے ووٹوں پر قبضہ جمایاہے ۔جبکہ آج کا مسلمان کسی ایک سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہے بلکہ ٹکڑوں میں بٹاہواہے ۔اگر مسلمان اپنی پوری توانائی کے ساتھ کسی ایک سیاسی جماعت سے وابستہ ہوتا تو آج یہ نوبت نہیں آتی ۔۲۰۱۴؁ء کے انتخابات میں ۱۳ فیصد مسلمانوں نے بی جے پی کوووٹ دیے تھے جس سے واضح ہوتاہے کہ مسلمان کانگریس یا کسی ایک سیکولر پارٹی کا ’بندھوا مزدور ‘ نہیں ہے۔کانگریس کو اپنے ماضی سے سبق لینے کی ضرورت ہے ۔مسلمان کبھی کانگریس کا بندھا ووٹر ہوا کرتا تھا مگر کانگریس کے دور اقتدار میں اتنے فرقہ وارانہ فسادات ہوئے کہ مسلمانوں کا اعتبار کانگریس سے اٹھ گیا ۔آج راہل گاندھی اسی اعتبار کی بحالی کے لئے جد وجہد کررہے ہیں۔میرٹھ کے ہاشم پورہ اورملیانا میںپی اے سی کے جوانوں کے ذریعہ مسلمانوں کا قتل عام اس وقت کیا گیا جب مرکز اور اترپردیش میں کانگریس کی سرکار تھی۔اسکے علاوہ بہار کے بھاگلپورکا فساد بھی کانگریس کے دوراقتدار میں ہواتھا جس کے بعد مسلمانوں نے بی جے پی کے حمایت یافتہ امیدوار نتیش کمار کو کامیاب بنانے کے لئے اپنا پورا دم خم صرف کردیا ۔نتیجہ یہ ہواکہ آج بہار میں کانگریس کی سیاسی بساط سمٹ چکی ہے ۔دہلی کے بٹلہ ہائوس میں انکاوئنٹر کے وقت بھی مرکز اور دہلی میں کانگریس کی حکومت تھی ۔مسلمان کانگریس کے رویہ سے اس قدر مایوس ہوئے کہ انہوںنے عام آدمی پارٹی کا دامن تھام لیا ۔آج دہلی میں کانگریس اپنی کھوئی ہوئی زمین تلاش کررہی ہے مگر ابھی تک کوئی خوش آئند نتیجہ نہیں نکل سکاہے ۔

کہنے کا مقصد صرف اتناہے کہ مسلمان آرایس ایس اور بی جے پی کےخوف سے کسی سیاسی جماعت کی حمایت باالکل نہ کریں بلکہ وہ اپنی سیاسی حیثیت منوانے کی جدوجہد کریں ۔جس دن ہندوستان کے مسلمان اپنی سیاسی حیثیت منوانے میں کامیاب ہوگئے اس دن آرایس ایس اور بی جے پی جیسی تمام طاقتیں اپنی سیاسی حیثیت کھودیں گی۔مگر اللہ جانے مسلمان کب مفاد پرست مولوی ملاّئوں اور نام نہاد قومی رہنمائوں کے عذاب سے نجات پاکر اپنی صورتحال پرغورکرکے اپنی حالت بدلنے کی فکرکریں گے۔