مولانا آزاد نے ہندوستان کی تعلیمی پالیسی کو ایک مثبت راستہ دکھایا

مولانا آزاد نے ہندوستان کی تعلیمی پالیسی کو ایک مثبت راستہ دکھایا

جامعہ فیض ناصر میں یوم تعلیم کے عنوان پرپروگرام کا انعقاد

مظفرنگر: (شاہدحسینی) جامعہ فیض ناصر میں مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش کے موقع پر یوم تعلیم کے عنوان پرپروگرام کا انعقاد ہوا جس کی صدارت اردوڈیو لپمنٹ آرگنائزیشن ضلع مظفرنگر کے صدر کلیم تیاگی نے کی نظامت کے فرائض جامعہ کے مہتمم قاری شاہد حسینی نے انجام دئے واضح ہو کہ مولانا ابوالکلام آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم ہیں تعلیمی میدان میں ایک بڑا کا رنامہ انجام دیا اسی بنیاد پر پورے ملک میں مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم پیدائش کے موقع پر یوم تعلیم کے عنوان پر تمام تعلیمی اداروں میں پروگرام کا انعقاد ہوتا ہے جس میں مو لانا آزاد کی تعلیمی خدمات کو طلباء و طالبات کے سامنے پیش کیا جا تا ہے جس سے آج کی نئی نسل میں تعلیمی جذبہ ،تعلیمی رجحان پیدا ہو اس مو قع پر کلیم تیا گی نے مو لانا آزاد کی حیات پر تفصیلی روشنی ڈالی کہا کہ آزاد ہندوستان کے سب سے پہلے کانگریس کے رکن رہے اور ہندوستان کے دوسرے نمبر کے صدر رہے یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ہندوستان کی آزادی کے سرخیل رہے اور بنیاد ڈالی انہوں نے انگریزوں کو ملک سے بھگانے کی جدوجہد کی بڑا کردار ملک کو آزاد کرانے میں مو لانا آزاد کا رہا انہوں نے اپنی تحریروں سے اپنی تقریروں سے اور تمام تر جد و جہد سے ملک کو آزاد کرا نے کی کو شش کی مولانا ابو الکلام آزاد نے ہندوستان کو آزاد کرانے میں اتنی صعوبتیں جھیلیں کہ ان کی اپنی زندگی کا بڑا حصہ جیلوں میں گزرا جیل کی زندگی میں آپ نے اپنے قلم کو نہ چھوڑا جیل میں لکھنے کا معمول بر قرار رہا اور غبار خاطر کے نام سے ایک کتاب لکھی انہوں نے بتایا کہ مولانا آزاد مکہ کے اندر پیدا ہو ئے ہجرت کر کے ہندوستان آئے ۲۰؍سال کی عمر میں ایک رسالہ نکالا جس کا نام تھا الہلال مو لانا ابوالکلام آزاد اپنے وقت کے بڑے صحافی ،ادیب ،سیاست داں،علم کے ایک سمندر تھے ملک کو تعلیمی نظام دیا یہی وجہ ہے کہ ان کی یوم پیدائش کو یوم تعلیم کے نام سے منسوب کر کے انہیں خراج عقیدت پیش کیا جا تا ہے موصوف نے بچوں سے مخاطب ہو تے ہو ئے کہا کہ آپ لوگ دل لکا کر پڑھیں اللہ نے آپ کو یہ ادا رہ جامعہ فیض ناصر دیا جو ایک بہت اچھے ناظم اچھے استاد اللہ نے آپ کو دئے اس لئے علم زیادہ سے زیادہ حاصل کریں۔

تحسین علی اساروی نے اس موقع پر کہا کہ مولانا ابو الکلام آزا د ۱۹۸۸ میں پیدا ہو ئے مو لانا آزاد غیر معمولی ذہانت کے مالک تھے بہت ہی اعلی درجہ کے مفکر،ادیب،صحافی تھے ہر انسان کی شخصیت کئی پہلو ہو تے ہیں مو لانا آزاد ۱۹۴۷ سے ۱۹۵۸ تک تقریبا ۱۱ سال آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم رہے انہوں نے وزیر تعلیم کی حیثیت سے ہندوستان میں تعلیمی تقاضوں کو سمجھا او ر منصوبہ بند طریقے سے آزاد ہندوستان کی تعلیمی پالیسی کو ایک مثبت راستہ دے کر کا میاب کو شش کی آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مو لانا آزاد کے خیالات کو پھر سے زندہ کیا جا ئے کیوں کہ زریں اصول اور نظریات آج بھی قابل قدر ہیں ان پر آج بھی گامزن ہو نے کی ضرورت ہے اس موقع پر ماسٹر رئیس الدین رانا،حاجی محمد مستقیم دیگر شریک رہے