اسلامی تاریخ کا پہلا مینار

اسلامی تاریخ کا پہلا مینار

آج کے دور میں مینار مساجد کی پہچان ہیں مگر اسلامی تاریخ کا پہلا مینار خلیفہ دوم سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے حکم پر آج سے چودہ سو سال قبل سرزمین حجاز کی الجوف گورنری کے علاقے دومۃ الجندل میں تعمیر کرایا گیا۔ 14 سو سال گذرجانے کے بعد آج بھی یہ مینار اپنی جگہ قائم ودائم ہے۔

یہ مینار حضرت عمر نے اس وقت تعمیر کرایا تھا جب وہ بیت المقدس کے سفر پر روانہ ہوئےتھے۔ دومۃ الجندل میں قائم یہ مینار اسلام کی اولین یادگاروں کے ساتھ ساتھ اس دور کے عرب فن تعمیر کا ایک شاہ کار بھی ہے۔ مینار جنوب مغربی سمت میں قائم کیا گیا جو دیوار قبلہ کی طرف تھوڑا سا مڑا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔

مینار کی بنیاد مربع شکل میں ہے جس کے اضلاع کی لمبائی تین میٹر ہے۔ اس کی دیواریں پتھر کی ہیں۔ زمین سے بلندی کی طرف یہ مخروطی شکل میں ہے اور اس کی بلندی 13 میٹر ہے۔ مسجد دومۃ الجندل اور مینارکی تعمیر میں الجندل پتھر استعمال کیے گئے۔ یہ پتھر قدرتی طور نہایت سخت ہیں۔ مینار میں مجموعی طور پرپانچ سطحیں بنائی گئی ہیں۔

مسجد کے اندر چار منزلیں ہیں۔ یہ مینار مسجد کی چھت سے باہر نکلنے کے راستے پر بنایا گیا۔ مرور زمانہ کے ساتھ مینار کے اندر سے پتھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے ہیں۔ اس لیے آج اس مینار کے اندر سے اوپر چڑھنا مشکل ہے۔

مسجد دومۃ الجندل اور مینار کا ڈیزائن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی طرز پرہے۔ الجوف کی مسجد عمر بن خطاب مدینہ منورہ میں تعمیر کی گئی پہلی مسجد کی طرز پر ہے۔ مسجد کی تعمیر کے لیے ایک جنگی درخت اور نالی دار لکڑی کے علاوہ کھجور کے تنے استعمال کیے گئےجب کہ چھت پر مٹی کا گارا ڈالا گیا۔ ظہور اسلام کے وقت مساجد اور گھروں کو اسی طرح بنایا جاتا تھا۔

مسجد دومۃ الجندل مستطیل شکل میں بنائی گئی جس کی شرقا غربا لمبائی 32.5 میٹراور چوڑائی 18 میٹر تھی۔ اندر سے یہ قبلہ کی گیلری کے ڈیزائن کے مطابق ہے جس کا ایک محراب اور منبر، صحت، مسجد کا صحن اور نمازگاہ، مسجد کا عقبی حصہ شدید سردی میں تنہائی میں عبادت اور نماز کے لیے مختص رہا ہے۔

سعودی ماہر آثار قدیمہ اور الجوف میں قومی ورثہ اور سیاحت کے ڈائریکٹر جنرل احمد بن عتیق القعید نے بتایا کہ 1404ھ سے مسجد دومۃ الجندل اور اس سے ملحقہ مینار قومی ورثے کا حصہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ سیاحت اور قومی ورثے کا حصہ بننے کے بعد مسجد دومۃ الجندل کی صفائی اور مرمت کا کام زیادہ بہتر طریقے سے کیا گیا ہے۔ اس مسجد میں آج بھی نماز ادا کی جاتی ہے۔

سعودی عرب میں محکمہ سیاحت کے چیئرمین شہزادہ سلطان بن سلمان کےحکم پر مسجد کی چھت کی مرمت کی گئی۔ اس کی پرانی طرز تعمیر کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے آج کے دور میں نماز کے قابل بنایا گیا ہے۔ اس مسجد کا شمار سعودی عرب کی قدیم ترین مساجد میں ہوتا ہے۔