آج عہد میں محض عاشقانہ شاعری ممکن نہیں: پروفیسر شارب ردولوی

آج عہد میں محض عاشقانہ شاعری ممکن نہیں: پروفیسر شارب ردولوی

معروف شاعر ہارون شامی کے دوسرے شعری مجموعے ”عکس“ کی رسم رونمائی

شاعری انسان کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہے اور انسانی جذبات کا احاطہ اتنا وسیع ہے کہ اس کی نمائندگی کرنا آسان نہیں ہے۔آج ہم جس عہد سے گذر رہے ہیں اس میں محض عاشقانہ اور لب و رخسار کی شاعری ممکن نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار اردو کے معروف نقاد پروفیسر شارب ردولوی نے منفرد لب و لہجے کے معروف شاعر ہارون شامی کے دوسرے شعری مجموعے ”عکس“ کی رسم رونمائی کی تقریب میں کیا۔ اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر شارب ردولوی نے ہارون شامی کی شاعری پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی غزل میں شاعری کی نئی تراکیب اور نئی ایجادات کے ساتھ موجودہ عہد کی مختلف کیفیات کی نشان دہی ملتی ہے۔

اس قبل صدر شعبہئ اردوو ڈاکٹر عباس رضا نیر نے ہارون شامی کے شعری مجموعہ ’عکس‘ کا مختصر تعرف پیش کرتے ہوئے کہا کہ انکی شاعری میں سادہ بیانی کے ساتھ ماضی کے ر وایتوں کا بھر پور احترام ملتا ہے۔ہارون شامی کا پہلا شعری مجموعہ”شرح آرزو“ جو ۲۸۹۱ میں منظر عام پر آیا تھا۔”عکس“ انہیں تین دہائیوں سے ذائد وقفہ کا اہم ترین سلسلہ ہے۔جو اب ہمارے سامنے ہے۔ہارون شامی نے اردو سے پیشہ ورانہ رشتے علٰحدہ انجینئرنگ کے شعبہ سے وابستہ رہ کر اردو شاعری کو ایک نایاب مجموعے سے رو برو کرایا ہے۔

ہارون شامی کی شاعری کے سلسلے میں پرویز ملک ذادہ نے اپنے خیالات کا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری پروفیسر محمود الٰہی،شبنم گورکھپوری،ملک ذادہ منظور احمد،اختر بستوی جیسے معروف دانشوروں کی ادبی صحبتوں کا نتیجہ ہے۔خود احتسابی کے جذبہ نے  انکی شاعری  کو ایک الگ مقام عطا کیا۔ڈاکٹر عمیر منظر نے ہارون شامی کے مختلف اشعار پیش کرتے ہوئے مختلف ذاویوں سے  فنی  خصوصیا ت پیش کیں۔ انہوں  نے کہا کہ جدید شاعری کا المیہ یہ رہا ہے کہ شاعری کے لیے  باقاعدہ طور پر کوئی ضابطہ نہیں ہے ایسے میں ہا رون شامی کی شاعری اپنے فن کے وسیع کینوس کے حولے سے  اپنی انفرادی شناخت  قائم کرتی ہے۔ ڈاکٹر احمد عبا س ردولوی نے  ہارون شامی کی شعری  کاوشوں کا  اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جہاں ادبی تقریبات زمانے کے ساتھ نئی شکل لے رہی ہیں، زبان و تہذیب مسلسل زوال پذیر ہو رہی ہے ایسے میں عام فہم لفظیات کے ساتھ حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہوئے ہارون شامی نے جدید شاعری میں الگ شناخت قائم کی ہے۔ ہارون شامی کی شاعری میں منقبت کا ایک بڑا حصہ شامل ہے جو ان کے مہذب ماحول کی دین ہے۔