جوہری سمجھوتے کے بعد دھمکیوں کی سیاست نہیں چلے گی: ایران

جوہری سمجھوتے کے بعد دھمکیوں کی سیاست نہیں چلے گی: ایران

ایران کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری نے خبردار کیا ہے کہ پچھلے سال ایران کے جوہری پروگرام پرسمجھوتہ طے پانے کے بعد تہران پر پابندیوں کے نفاذ کی دھمکیاں سنجیدہ ہیں مگر ایران اب کسی قسم کی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لائے گا۔ انہوں نے ایران کی سیاسی قوتوں پر دشمن کے ساتھ ساز باز کا الزام عاید کرتے ہوئے انہیں بھی سنگین نتائج سے خبردار کیا۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں جنرل جعفری نے کہا کہ ایران کے میزائل پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں کے تجربات پر مغربی ملکوں کا طرز عمل اور پابندیوں کی دھمکیاں ایران کو کمزور کرنے کی عالمی سازشوں کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس تو یہ ہے کہ ایران کے اندر بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے دشمن کے ساتھ ساز باز کررہے ہیں۔ یہ لوگ نہیں جانتے کہ دشمن انہیں کس مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں رواں سال فروری میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اصلاح پسندوں کی کامیابی کے بعد ملک کی طاقت فوج پاسداران انقلاب اور صدر حسن روحانی کے درمیان بھی اختلافات شدت اختیار کرگئے تھے۔ حالیہ کچھ عرصے میں اعتدال پسند صدر حسن روحانی نے سیاسی امور میں مداخلت بالخصوص ملک کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں پر اثر انداز ہونے پر پاسداران انقلاب کو کڑی تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔

ایرانی صدر کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری کا کہنا تھا کہ پاسداران کے ادارے کا مقصد انقلاب اور ریاستی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی تعمیر کے لیے کام کرنے کےسیاسی یا اقتصادی مفادات نہیں ہیں ہم ملک کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاسداران انقلاب کے بارے میں بہت سی ایسی افواہیں بھی پھیلائی گئی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔