ملک مخالف طاقتوں کا مقابلہ باہمی اتحاد واتفاق سے ہی ممکن

ملک مخالف طاقتوں کا مقابلہ باہمی اتحاد واتفاق سے ہی ممکن

پلوامہ حملہ صرف ایک ٹکڑی ہی پر نہیں بلکہ پورے دیش پر حملہ:مولانا سید اشہد رشیدی

جمعیۃ علماء شہر مرادآباد کی جانب سے پلوامہ کشمیر سانحہ جو 14 فروری 2019 کو ’’سی آر پی ایف‘‘ جوانوں کے ساتھ پیش آیا اس سلسلہ میں آج بتاریخ: 21 فروری 2019 کو ’’جنت شادی ہال‘‘ پرنس روڈ مرادآباد میں ’’ایک مذمتی واحتجاجی اجلاس‘‘ منعقد کیا گیا، جس کی صدارت مولانا محمد یحییٰ صاحب قاسمیؔ نقشبندی صدر جمعیۃ علماء شہر مرادآباد نے فرمائی، جب کہ نظامت کے فرائض مولانا رحمت علی قاسمیؔ ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء شہر مرادآباد نے انجام دئے۔ پروگرام کا آغاز جناب قاری محمد اشرف صاحب کی تلاوت ونعت پاک سے ہوا ۔ اجلاس کی سرپرستی شہر مرادآباد کی آبرو جناب حکیم سید معصوم علی صاحب آزاد امام شہر مرادآباد نے فرمائی، اس اجلاس میں بحیثیت مہمان خصوصی مولانا سید اشہد رشیدی صاحب صدر جمعیۃ علماء اترپردیش ومہتمم جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد نے شرکت فرمائی۔ مہمان خصوصی نے اپنے کلیدی خطاب میں پلوامہ کے اندوہ ناک حادثہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کو بزدلانہ عمل قرار دیا اور فرمایا اس کی جتنی بھی مذمت واحتجاج کیا جائے کم ہے، اور فرمایا کہ ان ۴۰؍ شہدائے وطن کو ہم دل کی گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور فرمایا کہ پلوامہ کے سی آر پی ایف کے جوانوں پر حملہ ملک کی سلامتی اور اس کی روح پر حملہ کرنے کے مترادف ہے، ساتھ ہی ساتھ ملک کے پرآشوب حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے یہ اپیل کی کہ بلا تفریق مذہب وملت ایک ہندوستانی ہونے کے ناطے ملک مخالف طاقتوں کے خلاف متحد ہوجائیں، موصوف نے مزید فرمایا کہ کسی کو ناحق قتل کرنا ناجائز حرام اور غیر انسانی فعل ہے، جس کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا ہے، اس دکھ کی گھڑی میں ہم ملک کے ساتھ کھڑے ہیں اور شہید ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اور تمام زخمیوں کے حق میں ان کی صحت یابی کے لئے ہم دعا کرتے ہیں اور نیک خواہشات رکھتے ہیں، مزید فرمایا کہ جمعیۃ علماء شروع سے ہی دہشت گردی، تشدد اور مذہبی شدت پسندی کی مخالفت کرتی رہی ہے؛ اس لئے نہ صرف ہم دہشت گردی اور بداامنی کی مذمت کرتے ہیں؛ بلکہ ان قوتوں کی بھی مذمت کرتے ہیں جو کسی بھی ملک میں دہشت گردی کو خاص مذہب سے جوڑتے ہیں۔ مولانا رشیدی نے اپنے بیان میں دو اہم باتوں کی طرف رہنمائی فرمائی: ایک حکومت وانتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ایسا کوئی لائحہ عمل یا مناسب انتظامات کئے جائیں ، جس سے اس طرح کے واقعات پیش نہ آئیں۔ دوسرے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ موجودہ صورت حال میں صبر سے کام لیں، تبھی ملک مخالف دشمنوں کے عزائم کو ناکام بناسکتے ہیں۔

اخیر میں مہمان خصوصی نے تمام شہدائے وطن کو پھر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی اور ملک میں امن وامان اور شانتی برقرار رکھنے کی اپیل کی۔

شہر صدر مولانا محمد یحییٰ صاحب قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ جب جب اس ہندوستان پر ظالموں نے ظلم کرنے کی کوشش کی ہے، تب تب ہمارے بزرگوں نے اپنے جان ومال کی قربانی دے کر ہندوستان کی حفاظت کی ہے، اور مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے۔ اور فرماما کہ ہم اس پلوامہ سانحہ کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اور شہیدانِ وطن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

سرپرست اجلاس جناب حکیم سید معصوم علی صاحب آزاد نے فرمایا کہ پلوامہ سانحہ ملک کے لئے خطرناک ہے، اور اس واقعہ سے پورے ملک میں رنج والم کی فضا پائی جاتی ہے اور پورا ملک صدمہ میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہم اس عمل کی مذمت کرتے ہیں اور پسماندگان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہیں اور ان شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

مہمان خصوصی کے علاوہ مولانا خورشید انور صاحب قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء اترپردیش واستاذ حدیث مدرسہ شاہی مرادباد، مولانا عبدالجلیل خاں صاحب قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء یوپی، حاجی محمد عثمان صاحب نایاب فیکٹری 788، سکھ رہنما جناب سردار گرویندر سنگھ صاحب مرادآباد، عیسائی رہنما جناب پادری سارسوت صاحب مرادآباد، ہندو رہنما جناب دھیر شانت داس صاحب اور جناب آدتیہ کمار صاحب ایڈوکیٹ نے بھی پلوامہ میں ہوئے الم ناک سانحہ پر احتجاج کرتے ہوئے پرزور الفاظ میں مذمت کی اور دہشت گردی وآتنک واد کی مخالفت کی اور ان شہدائے وطن کو خراج عقیدت پیش کئے۔

جمعیۃ علماء شہر مرادآباد کے مذمتی واحتجاجی اجلاس میں شریک تمام مذاہب ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی کے راہنماؤں نے مل کر یہ پیغام دیا کہ ہم سب متحد ہوکر ملک میں پیدا ہونے والی نفرتوں کو دور کریں گے اور سب نے ہاتھ اٹھا کر یہ عہد کیا کہ ہم ایک تھے، ایک ہیں، ہم ایک رہیں گے۔

اجلاس میں مذہبی رہنماؤں کے علاوہ شہر کے معززین، عمائدین، جمعیۃ علماء شہر کے اراکین اور ورکرس میں سے تقریباً : 300 افراد نے شرکت کی۔