شہادتِ حسین ؓ کا پیغام

شہادتِ حسین ؓ کا پیغام

مولانا سید احمد ومیض ندوی

ہر سال محرم الحرام کی آمد پر حضرت سیدنا حسین ص کی یاد تازہ ہوتی ہے، ہر مسلمان شہادت حسین ص کے واقعات میں رطب اللسان نظر آتا ہے، مختلف پروگراموں اور جلسوں کے ذریعہ حضرت حسین ص کی شہادت کی تفصیلات پر روشنی ڈالی جاتی ہے، نواسۂ رسول ا، جگر گوشۂ نبی کی شہادت ، اسلامی تاریخ کا ایک ایسا عظیم واقعہ ہے کہ صدیوں اس کی یاد تازہ رہے گی اور انسانیت کے لئے مشعل راہ کا کام دے گی، امت مسلمہ کا المیہ یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو رسم کی شکل دینے کی عادی ہوچکی ہے، شہادت حسین ؓ کا واقعہ بھی سالانہ رسم کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ ماہِ محرم الحرام کی آمد کے ساتھ اس واقعہ کا رسمی طورپر مذاکرہ کرکے یہ اطمینان کرلیاجاتا ہے کہ ہم نے نواسۂ رسول اسے وابستگی کا حق ادا کردیا، اسلامی تاریخ کا ہر واقعہ اپنے اندر عبرت و موعظت کا بے پناہ سامان رکھتا ہے اور عملی زندگی میں اس سے بہت کچھ رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ کسی بھی حادثہ اور واقعہ سے عملی رہنمائی حاصل کرنے پر کم ہی توجہ دی جاتی ہے، جبکہ زندہ قومیں ہمیشہ ماضی سے روشنی حاصل کرتی ہوئی مستقبل کو تابناک بنانے کے لئے کوشاں رہتی ہیں۔

حضرت سیدنا حسین ؓ کی شہادت اور کربلا کی سرزمین پر پیش آئے واقعات کا اگر بنظر غائر مطالعہ کیاجائے تو اس سے بے شمار نکات اخذ کئے جاسکتے ہیں، جن کے ذریعہ عملی زندگی میں بہت کچھ رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ذیل میں اس قسم کے چند نکات کی نشاندہی اس مقصد سے کی جارہی ہے کہ شاید ملی حمیت وغیرت رکھنے والے دردمندانِ ملت ان پہلوؤں پر غور کریں گے۔

(۱) حضرت حسین ؓ کی شہادت کا سب سے بنیادی پیغام یہ ہے کہ آدمی کو حق اور دینِ حق سے اس درجہ وابستگی ہوکہ وہ حق کے لئے جان قربان کرنے سے بھی گریز نہ کرے اور اگر جان کی قربانی دے کر حق کی حفاظت کی جاسکتی ہو تو اس میں کسی طرح کا پس و پیش نہ کرے۔ یزید کی بیعت کے وقت جو صورتحال تھی اس سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ اسلامی نظام حکومت اپنی ڈگر سے ہٹ رہا ہے۔ نبی کریم ااور خلفائے راشدین کے دور میں خلافت کا نظام رائج تھا اور اسلام جس نظام حکومت کی بنیاد رکھتا ہے وہ یہی نظام خلافت ہے۔ یزید کی آمد کے ساتھ اسلامی نظام حکومت خلافت کی ڈگر سے ہٹ کر ملوکیت میں تبدیل ہوگیا اور یہ اسلامی نظام زندگی میں ایسی اساسی تبدیلی تھی کہ جس کے اثرات صدیوں تک باقی رہے۔ بنوامیہ، بنو عباسہ اور خود ہندوستان میں مغلوں نے بھی ملوکیت ہی کے نظام کو چلایا، چوں کہ ملوکیت خلافت کی ضد ہے ، اس لئے ملوکیت کی آمد کے ساتھ مسلم معاشرہ بالکلیہ تبدیل ہوگیا۔ خلافت و ملوکیت ایک دوسرے سے بالکلیہ مختلف ہیں۔ خلافت میں امیر المومنین کا طرزِ زندگی ایک عام رعایا کی طرح ہوتا ہے۔ لیکن ملوکیت میں شاہانہ ٹھاٹ باٹ ہوتی ہے۔ خلافت میں لوگوں کو خلیفہ کے محاسبہ کی آزادی حاصل رہتی ہے اور ملک کا ایک ادنیٰ باشندہ خلیفہ کی گرفت کرسکتا ہے، لیکن ملوکیت میں بادشاہ محاسبہ سے ماورا ہوتا ہے۔اس کے خلاف کوئی چوں و چراں نہیں کرسکتا۔ خلافت میں سارے اجتماعی معاملات شورائی نظام کے تحت طئے پاتے ہیں، خلیفہ من مانی نہیں کرسکتا۔ لیکن ملوکیت میں بادشاہ خود مختار ہوتا ہے۔ سارے فیصلے اپنی انفرادی رائے سے نافذ کرتا ہے۔ خلافت میں سارے معاملات کتاب وسنت کے مطابق طئے کئے جاتے ہیں، جبکہ ملوکیت میں ساری چیزیں بادشاہ کے ارد گرد گھومتی ہیں۔ خلافت میں بیت المال رعایا کی امانت ہے جس کا خلیفہ محض نگراں ہوتا ہے۔ ملوکیت میں بیت المال بادشاہ کا ذاتی خزانہ بن جاتا ہے۔ خلافت میں خلیفہ تقویٰ و عبادت کے اونچے معیار پر ہوتا ہے جبکہ ملوکیت میں اقتدار کا نشہ سوار رہتا ہے اور بادشاہ اقتدار کے نشہ میں احکام الٰہی کو پامال کرتا ہے ( الاماشاء اللہ) خلافت میں عدالت اور عدالتی عملہ کو پوری آزادی حاصل ہوتی ہے۔ عدلیہ حکومتی دباؤ سے آزاد رہتی ہے۔ لیکن ملوکیت میں عدلیہ کو آزادی حاصل نہیں رہتی ۔ خلافت و ملوکیت کے اس فرق سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ یزید کا اقتدار پر آنا کیسی خطرناک تبدیلی کا پیش خیمہ تھا۔ اسلامی نظام زندگی بالکل الٹ کر رکھ دیا جارہا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ اگر حضرت سیدنا حسین ؓ نے جان کی قربانی نہ دی ہوتی تو اسلامی خلافت کے تصور کا کتابوں میں محفوظ رہنا بھی مشکل ہوتا۔ حضرت سیدنا حسین ؓ جانتے تھے کہ اس وقت ملوکیت کی مخالفت کرنا اور اس کے آگے ڈٹے رہنا وقت کا تقاضہ ہے، اس لئے انہوں نے اپنی جان کی قربانی دینے سے گریز نہیں کیا۔ بیعت یزید کے وقت کیا صورتحال تھی اور حضرت حسین ص نے اقدام جہاد کیوں کیا۔ اس کا اندازہ آپ کے ان حالات میں دئیے گئے ایک خطبہ سے ہوتا ہے۔ آپ ص نے فرمایا:’’ اے لوگو! رسول انے فرمایا ہے کہ جس نے ظالم، محرمات الٰہی کو حلال کرنے والے ، سنت رسول اکی مخالفت اور خدا کے بندوں پر گناہ اور زیادتی کے ساتھ حکومت کرنے والے بادشاہ کو دیکھا اور اس کو قولاً و عملاً غیرت نہ آئی تو خدا کو حق ہے کہ اس کو بادشاہ کے بجائے دوزخ میں ڈال دے۔ لوگو! خبردار ہوجاؤ ان لوگوں نے شیطان کی اطاعت اختیار کی ہے۔ رحمن کی اطاعت چھوڑ دی ہے۔ ملک میں فساد پھیلایا ہے۔ حدود الٰہی کو توڑا جارہا ہے۔ خدا کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کررہا ہے اور حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال ۔ مالِ غنیمت میں اپنا حصہ زیادہ لیتے ہیں۔ اس لئے مجھ کو غیرت آنے کا زیادہ حق ہے۔‘‘ ( ابن الاثیر بحوالہ سیرالصحابہ) اس خطبہ کے ایک ایک لفظ سے غیرتِ اسلامی جھلکتی ہے اور حفاظتِ حق کا وہ جذبہ ظاہر ہوتا ہے جس کے تحت حضرت حسین ص نے جان کی بھی پرواہ نہ کی۔ حضرت حسین ؓ نے اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات کے لئے جان کی قربانی دی۔ انہوں نے اپنے عمل سے بتادیا کہ حق کے لئے سرکٹایاجاسکتا ہے لیکن باطل کے آگے سرنگوں ہونا مومن کی شان نہیں۔ مومن کا سر حق کے لئے کٹ تو سکتا ہے لیکن باطل کے آگے جھک نہیں سکتا۔

(۲) حضرت حسین ؓ کی شہادت سے دوسرا سبق یہ ملتا ہے کہ مومن کو نا مساعد اور ناموافق حالات میں بھی حق پر جمے رہنا چاہئے اور حق سے وابستگی میں کمزور ی آنے نہ دینا چاہئے۔ لوگ عام طورپر موافق حالات میں توحق کو اپناتے ہیں لیکن جب نامساعد حالات کا سامنا ہو تو ان کے لئے حق پر اور دین پر جمے رہنا دشوار ہوجاتا ہے، پھر وہ باطل سے سمجھوتہ کرنے میں عافیت سمجھنے لگتے ہیں۔ موافق حالات میں دین پر جمے رہنا کوئی کمال نہیں ، کمال تو یہ ہے کہ ناموافق حالات میں بھی دین کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ آج کتنے مسلمان ہیں کہ ناموافق حالات میں شکوہ و شکایت شروع کردیتے ہیں اور دین حق سے وابستگی میں انہیں خوف محسوس ہونے لگتا ہے۔ دہشت گردی کے الزام کے خوف سے بہت سے لوگوں کو دیکھا گیا کہ انہوں نے اپنی اسلامی وضع قطع کو خیر باد کہہ دیا۔

(۳) شہادتِ حسین ؓ کا تیسرا سبق یہ ہے کہ مومن کو مخالفانہ ماحول سے متاثر نہ ہونا چاہئے۔ بیعت یزید کے وقت بیشتر لوگ خوف کے مارے سکوت اختیار کئے ہوئے تھے۔ ماحول بالکل مخالفانہ تھا، لیکن حضرت حسین ص نے اس کی پرواہ نہیں کی ،جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی انتہائی مخالفانہ ماحول میں توحید کا نعرہ بلند کیا اور خودنبی کریم ابھی مکہ کے مخالفانہ ماحول میں حق پر جمے رہے۔ آج اکثر لوگ دینی معاشرت اور تہذیب کو اختیار کرنے سے اس لئے احتراز کرتے ہیں کہ لوگ اور اہلِ خاندان مخالفت کریں گے ۔ ایک مومن کو چاہئے کہ وہ لوگوں کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرے بلکہ صرف خدا کو راضی کرنے کی فکر کرے ۔ خدا کی رضا کے لئے چاہے ساری مخلوق ناراض ہوجائے تو بھی کوئی پرواہ نہ کرے۔

(۴) شہادتِ حسین ؓ کا ایک پیغام یہ بھی ہے کہ مومن کو حق کے دفاع اور تحفظ کے لئے ظاہری اسباب پر بھروسہ نہ کرنا چاہئے۔ علمبردارانِ حق کبھی ظاہری اسباب تعداد و اسلحہ سے مرعوب نہیں ہوتے۔ حضرت حسین ؓ باوجود اس کے کہ ان کے حامیوں کی تعداد کم تھی، ان کے پاس اسباب بھی کم تھے، لیکن وہ دشمن کے اسباب و وسائل سے مرعوب نہیں ہوئے۔ جنگ بدر میں حضور اکا طرزِ عمل بھی اسی کی شہادت دیتا ہے۔ ہرزمانہ میں اہلِ حق نے بے سرو سامانی کے عالم میں حق کا دفاع کیا۔ نیز حضرت حسین ؓ کے واقعہ سے اس کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ کامیابی و ناکامی کا تعلق ظاہری فتح و شکست سے نہیں، اصل چیز مقصد میں کامیابی ہے۔ چاہے وہ لڑتے لڑتے جان دینے سے کیوں نہ حاصل ہوجائے۔ حضرت حسین ؓ شہید ہوئے۔ یزیدی فوج کو بظاہر فتح حاصل ہوئی، لیکن حقیقی کامیابی سے حضرت حسین ؓ ہمکنار ہوئے، جس مقصدکے لئے وہ اٹھے تھے اس میں انہیں بھر پور کامیابی حاصل ہوئی۔

(۵) حضرت حسین ؓ کی شہادت کے واقعات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مصیبت ہو کہ خوشحالی ہر حال میں مومن احکامِ الٰہی کا پابند ہے۔ شدتِ مصیبت میں وہ احکام الٰہی کو پامال نہیں کرتا۔ عین حالت جنگ اور معرکۂ کار زار میں بھی حضرت حسین ؓ نماز ترک نہیں فرمائی اور اللہ کے احکام کو پامال ہونے نہیں دیا۔ آج ہماری صورتحال یہ ہے کہ گھر میں کسی کا انتقال ہوجائے یا کوئی مصیبت آجائے تو ہم اسلامی پابندیوں کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ عموماً خوشی اور غم کے موقع پر احکامِ شریعت کی کھلی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔

(۶) واقعہ شہادتِ حسین ؓ اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ پیش آئے واقعات سے ایک بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ اللہ نے جس کسی کو بلند مقام عطا فرمایااسے پہلے آزمائش میں مبتلا کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا:

وَإِذِ ابْتَلَی إِبْرَاہِیْمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ فَأَتَمَّہُنَّ قَالَ إِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَاماً (البقرہ:۱۲۴) حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پہلے آزمائش سے گزارا گیا پھر منصب امامت پر فائز کیاگیا۔ آزمائش سے راہ فراراختیار کرنے والے ہمیشہ پست رہتے ہیں۔ آزمائش میں کھرے اترنے والے عظیم ہوتے ہیں اور ایمان کے ساتھ ہمیشہ امتحان رہا ہے۔ اس لئے اہل ایمان کو آزمائشوں پر گھبرانا نہیں چاہئے۔ یہ ان کے لئے بلندئ درجات کا ذریعہ ہوتی ہیں۔

(۷) واقعہ شہادتِ حسین ؓ کا ایک اور عظیم نکتہ جس کی طرف مولانا آزاد رحمتہ اللہ علیہ نے اشارہ کیا ہے یہ کہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ دراصل تکمیل جہاد کا ذریعہ ہے۔ مولانا آزاد لکھتے ہیں :’’ اب تک کسی پیغمبر کے خاندان نے جہاد میں کوئی حصہ نہیں لیا تھا، شخصی طورپر جو قربانیاں دی گئیں وہ راہ ہی میں رک گئیں، ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لختِ جگر کو خدا کی نذر کرنا چاہا ، لیکن اس کاموقع ہی نہ آیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھانے کی تیاری تھی، لیکن بچالئے گئے، آج تک تمام خاندان نبوت نے اس میں شرکت بھی نہیں کی تھی اور اس کی کوئی نظیر تمام سلسلۂ انبیاء میں نظر نہیں آتی کہ صرف بھائی، صرف بیٹا، صرف بیوی ہی نے مقصد نبوت میں ساتھ نہ دیا ہو بلکہ بلا تمیز خاندانِ نبوت کے اکثر اعزا و ارکان راہ حق میں قربان ہوئے ہوں۔ یزید کی شخصی خلافت کی بیعت کے لئے جو ہاتھ بڑھے تھے وہ اسلام کی جمہوریت کا قلع قمع کرنا چاہتے تھے اور مذہب کی قربانی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے ہوا کرتی تھی۔ اس لئے جب اسوۂ ابراہیمی کے زندہ کرنے کا ٹھیک وقت آگیا تو خاندانِ نبوت کے زن و مرد بال بچے غرض ہر فرد نے اس میں حصہ لیا اور جن قربانیوں کی پاک خون سے زمین کی آغوش اب تک خالی تھی ان سے کربلا کا میدان رنگ گیا۔ پس حضرت حسین ؓ کا واقعہ شخصی واقعہ نہیں ہے، اس کا تعلق صرف اسلام کی تاریخ سے نہیں ہے بلکہ اسلام کی اصل حقیقت سے ہے، یعنی وہ حقیقت جس کا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذات سے ظہور ہوا تھا اور بتدریج ترقی کرکے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات تک پہنچ کر گم ہوگئی تھی۔ اس کو حضرت حسین ؓ نے اپنی سرفروشی سے مکمل کرایا۔ خاندانِ نبوت دنیا کو آباد کرنے کے لئے ہمیشہ اجڑتا رہا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہجرت کی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے گھر بارچھوڑا اور نبوتِ محمدی اکے متبعین میں سے حضرت حسین ؓ نے میدانِ کربلا کے اندر اس خانہ ویرانی کو مکمل کردیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام سے خاندانِ نبوت کا سلسلہ ملا ہوا ہے۔ انہوں نے ایک وادی غیر ذی زرع میں شدت تشنگی سے ایڑیاں رگڑی تھیں، حضرت حسین ؓ نے بھی میدان کربلا میں اس خاندانی روش کو زندہ کیا۔‘‘

(۸) حضرت مولانا عبدالماجد دریا آبادی واقعۂ شہادت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :’’ سیدنا حضرت حسین ؓ نے اگر از خود کہیں حملہ کردیا ہوتا تو مخالفین کو یقیناًیہ کہنے کا موقع مل جاتا کہ فوج کشی ، ملک گیری اور حصول سلطنت کے اغراض سے ہوئی اور اگر حکومت فاسقہ کے مطالبہ بیعت کو مان لیا ہوتا تو دوسری طرف امت کے لئے ایک سند اور نظیر قائم ہوجاتی کہ مردِ حق پرست کے لئے باطل کی اطاعت اور فسق سے مفاہمت جائز اور درست ہے۔حضرت حسین ؓ نے افراط اور تفریط دونوں سے بچ کر وہ راستہ اختیار کیا جو عین عدل و اعتدال کا راستہ تھا۔ اسوۂ حسین ص ہمیشہ کیلئے امت کے حق میں دلیل راہ بن گیا۔‘‘