عشرہ ذی الحجہ ۔ فضائل و اعمال

عشرہ ذی الحجہ ۔ فضائل و اعمال

اللہ تعالیٰ کا ا رشاد ہے ’’ والفجر ولیال عشر ( الفجر) قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی ۔‘‘ آیات میں مذکورہ دس راتوں سے ماہ ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کی دس راتیں مردا ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، ابن زبیر مجاہد اور دیگر مفسرین نے یہی دس راتیں مردا لی ہیں ( تفسیر ابن کثیر ۵؍۴۱۲) اسی طرح امام شوکانی نے اپنی شہرہ آفاق تفسیر فتح القدیرمیں اس کو جمہور علماء کا قول قرار دیا ہے ( فتح القدیر ۵؍۴۳۲) عشرہ ذی الحجہ اور اس کی راتوں کی فضیلت کے لئے یہی بات کافی تھی کہ اللہ نے قرآن مجید میں ان کی قسم کھائی۔ لیکن احادیث شریفہ میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس عشرہ کے بڑے فضائل بیان فرمائے۔ اس عشرہ میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔ کوئی دوسرا عمل اس کی برابری نہیں کرسکتا۔ ارشاد نبوی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس راوی ہیں ’’ کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں عمل صالح اللہ تعالیٰ کے یہاں ان ( ذی الحجہ) کے دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا جہاد بھی ان ایام کے عمل کے برابر نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( ہاں!) جہاد بھی ان دنوں میں کئے ہوئے عمل کے برابر نہیں مگر وہ شخص جو جان و مال لے کر جہاد کے لئے نکلے اور اس میں سے کوئی چیزواپس نہ لائے ۔ ( بخاری ۱؍۳۰۶) اسلام میں جہاد فی سبیل اللہ کا کیا مقام ہے اس سے ہر شخص واقف ہے۔ جہاد کو اسلام کی چوٹی قرار دیا گیا لیکن حدیث بالا کی روسے جہاد بھی ان دنوں کے عمل کی برابری نہیں کرسکتا۔ الایہ کہ کوئی مجاہد اس طرح جہاد کرے کہ جان و مال دونوں خدا کی راہ میں قربان ہوجائیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اس مضمون کی ایک روایت منقول ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ دنوں میں سے کوئی دن ایسا نہیں جس میں عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کی (عبادتوں) سے زیادہ محبوب ہو۔ اس عشرہ کے ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر قرار دیا جاتا ہے اور اس عشرہ کی ایک رات کا قیام شب قدر کے برابر قرار دیا جاتا ہے( ترمذی۔ ابن ماجہ) نیز ایک روایت میں آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عشرہ ذی الحجہ کے اعمال سے زیادہ کوئی عمل باعظمت اور پسندیدہ نہیں لہٰذا ان دنوں میں لا الہ الا اللہ اللہ اکبر اور الحمدللہ کا کثرت سے ورد کیا کرو۔( مسند احمد ۱۱؍۸۲)

فضیلت کیوں؟

عشرہ ذی الحجہ کو اس لئے فضیلت حاصل ہے کہ اکثر اہم عبادات اسی عشرہ میں جمع ہیں چنانچہ حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں ’’ والذی یظھر ان السب فی امتیاز عشر ذی الحجہ لمکان اجتماع امھات العبادات و ھی الصلاۃ القیام والصدقۃ والحج ولا یتأ تی ذلک فی غیرہ ( فتح الباری ۲؍۴۶۰) عشرہ ذی الحجہ کی امتیازی شان کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ساری اہم عبادتیں جمع ہیں یعنی نماز روزہ صدقہ اور حج سب اس میں یکجا ہیں۔ اب رہی یہ بات کہ عشرہ ذی الحجہ افضل ہے یا رمضان کا اخیر عشرہ تو اس سلسلہ میں علماء محققین نے وضاحت کی ہے کہ سال بھر کے دنوں میں افضل ترین ایام ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں چونکہ انہی دنوں میں یوم الخربھی ہے اور یوم الترویۃ بھی۔ علامہ ابن تیمیہ ، حافظ ابن قیم وغیرہ حضرات نے اسی کو ترجیح دی ہے ( مجموع فتاویٰشیخ الاسلام ۲۵؍۳۸۷)

یوم عرفہ

عشرہ ذی الحجہ میں یوم عرفہ بھی ہے جس دن حاجی حج کا اہم ترین رکن وقوف عرفہ کے لئے میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔ یوم عرفہ انتہائی فضیلت والا دن ہے۔ حدیث میں وارد ہے مامن یوم اکثر من ان یعتق اللہ فیہ عبداً من النار من یوم عرفۃ وانہ لیدنو ثم یباھی بھم الملائکۃ فیقول ماآراد ھولاء (صحیح مسلم) یعنی عرفہ کے دن سے زیادہ کسی بھی دن اللہ تعالیٰ بندوں کو جہنم سے آزاد نہیں کرتا ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ بندوں سے قریب ہوتا ہے اور فرشتوں کے بیچ اپنے بندوں پر فخر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہمارے بندے آخر چاہتے کیا ہیں؟ اس دن روزہ رکھنے کی فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگلے اور پچھلے دو سال کے گناہ کو بخش دیتا ہے ( صحیح مسلم ۲؍۸۱۹)

یوم النحر

عشرہ ذی الحجہ کے آخری دن یعنی دسویں ذی الحجہ کو یوم النحر کہا جاتا ہے۔ اس دن کے بھی احادیث میں بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں۔ ارشاد نبوی ہے ’’ ان اعظم الایام عنداللہ یوم الخرویوم القر۔‘‘ ( سنن ابی دائود : ۱۷۵۰) یعنی اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا وہ دن الخر یعنی دسویں ذی الحجہ کا دن ہے پھر اس کے بعد یوم القر یعنی گیارہویں ذی الحجہ یعنی منی میں ٹھہرنے کادن ہے۔

اس عشرے کے اعمال

یہ عشرہ بہت سے اعمال و عبادات پر مشتمل ہے اس کا سب سے اہم عمل جو مقامات مقدسہ پہنچ کر ادا کیا جاتا ہے حج و عمرہ ہے۔ حج کی فضیلت سے ہر شخص واقف ہے۔ حاجی حج کر کے گناہوں سے اس طرح پاک ہوتا ہے گویا ابھی اس کی ماں نے جنا ہو۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے ’’ جس نے اللہ کے لئے حج کیا اور ہر قسم کی شہوت کی باتوں اور گناہوں سے محفوظ رہا تو وہ اس طرح لوٹتا ہے جیسا اس کی ماں نے اسی دن جنا ہو۔ ‘‘ایک اور حدیث میں ارشاد ہے ’’ الحج المبرور لیس لہ جزاء الا الجنۃ ( بخاری ۱؍۵۳۷) حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔ دیگر ساری عبادتیں خالص بدنی ہیں یا خالص مالی۔ لیکن حج ایسی عبادت ہے جس میں جسمانی مشقت بھی ہے اور مال کا انفاق بھی۔ ایسی عظیم الشان عبادت عشرہ ذی الحجہ میں ادا کی جاتی ہے۔

یوم عرفہ کا روزہ

یوم عرفہ کی فضیلت اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ کثرت سے بندوں کی مغفرت فرماتے ہیں۔ اس دن حاجی میدان عرفات میں وقوف کرتے ہیں جسے وقوف عرفہ کہا جاتا ہے جو حج کا رکن اعظم ہے جو لوگ حج کو نہ جائیں وہ اپنے مقامات پر اس دن کا روزہ رکھیں اس کی بڑی فضیلت ہے۔ اس ایک دن کے روزہ سے اللہ تعالیٰ اگلے پچھلے دو سال کے گناہوں کو بخش دیتے ہیں۔ بعض روایات میں عرفہ کے علاوہ اس سے قبل کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی فضیلت وارد ہوئی ہے۔

ذکر اللہ کی کثرت

ذکر اللہ کی کثرت

عشرہ ذی الحجہ سے متعلق وارد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں میں کثرت سے ذکر اللہ کا اہتمام کرنا چاہئے۔ جیسا کہ اس سے قبل روایت گذری۔ جس میں فاکثروا فیھن التھلیل والتکبیر والتحمید یعنی خصوصیت کے ساتھ اس عشرہ میں لاالہ الا اللہ الحمد للہ اور اللہ اکبر کا ورد کرنا چاہئے۔ اگرچہ تکبیر کا کوئی خاص صیغہ احادیث میں وارد نہیں ہے لیکن تکبیر دو طرح کی ہوتی ہے ایک یہ کہ گھر میں ہو یا بازار میں یا کہیں بھی اللہ کی بڑائی بیان کی جائے۔ دوسری وہ تکبیر جو فرض نمازوں کے بعد کہی جاتی ہے۔ ویسے ہر حال میں اور ہر وقت ذکر کی کثرت مطلوب ہے لیکن اس عشرہ میں اضافہ ہونا چاہئے۔

اعمال صالحہ کا اہتمام

جیسا کہ احادیث میں گزرا کوئی نیک عمل اس عشرہ کے نیک عمل سے زیادہ اللہ کو محبوب نہیں۔ اس لئے اس عشرہ میں خصوصیت کے ساتھ نیک اعمال کا اہتمام کرنا چاہئے نیک اعمال صرف عبادات ہی تک محدود نہیں بلکہ بھلائی کا ہر کام اعمال صالحہ میں داخل ہے۔ صدقہ خیرات صلہ رحمی والدین کے ساتھ حسن سلوک بیماروں کی عیادت وغیرہ اعمال کی کثرت کرنا چاہئے۔ اسی طرح نفلی عبادات مثلاً تہجد اور تلاوت وغیرہ کابھی اہتمام کیا جائے۔

قربانی

عشرہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو عید الاضحی ہوتی ہے۔ عید کی نماز کے ساتھ صاحب استطاعت لوگ قربانی کا اہتمام کرتے ہیں۔ قربانی اپنی نوعیت کی ایک منفرد عبادت ہے قرآن و سنت میں اس کی بڑی تاکید آئی ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔ فصل لربک وانحر ( الکوثر) پس آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھتے اور نحر کیجئے۔ نحر سے مراد قربانی ہے۔ نبی کریم ا نماز عید سے فراغت کے بعد قربانی کے جانور ذبح فرماتے تھے( تفسیر ابن کثیر ۸؍۵۲۴)قربانی پر بڑے اجر کا وعدہ ہے۔ قربانی کے جانور کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے یہاں قبولیت کے مقام کو پالیتا ہے۔ قربانی کے جانور کے ہر ہر بال کے عوض نیکی لکھی جاتی ہے۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے۔

قربانی کرنے کے لئے بہتر ہے کہ ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد جانور ذبح ہونے تک بال کٹوانے خط بنوانے اور ناخن تراشنے سے گریز کرے چنانچہ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ ا نے فرمایا جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہوجائے اور تم میں سے کسی نے قربانی کا ارادہ کرلیا تووہ اپنے بال اور ناخن کو ہاتھ نہ لگائے ( مسلم)۔