عادل فراز

’’سیکولرازم کی تباہ کاریاں اور موجودہ معاشرہ‘‘ کے موضوع پرمختلف اخبارات و جرائد میں شایع مقالہ پر مختلف اسکالرز کی منفی و مثبت آراء کے بعد اس مضمون کی ضرورت محسوس ہوئی ۔مذکورہ مقالہ میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ جس سیکولر از م کی آج ہم دہائی دے رہے ہیں اس کا تاریخی پس منظر کیاہے ؟ جس سیکولرازم کی بنیاد مذہب کے خلاف رکھی گئی ہو وہ کبھی مذہبی آئین کو قبول نہیں کرسکتا ۔دوسرے یہ کہ جس سیکولرازم کی آج ہم بات کررہے ہیں وہ تاریخی سیکولرازم سے مختلف ہے ۔اسکی توضیح یوں کی جاسکتی ہے کہ ہم اس سیکولرازم کو کبھی قبول نہیں کرسکتے ہیں جس کے آئین میں مذہب اور خدا کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ہم اس سیکولر ازم کے حامی ہیں جہاں برسر اقتدار طبقہ مذہب اور ذات پات سے اوپر اٹھ کر اپنے شہریوں کی ترقی اور تحفظ کے لئے ہر ممکن کوشش کرے ۔یہ نظریہ کوئی نیا نظریہ نہیں ہے ۔اسلامی ریاست کا تصور بھی اسی نظریہ پر مبنی ہے جہاں کافروں اور مشرکوں کے حقوق کا تحفظ بھی حکومت کے لئے لازم ہے ۔سیکولر ریاست تسلیم کرتی ہے کہ مذہب اور عقیدہ ہر انسان کا نجی معاملہ ہے لہذا ایسے معاملات میں ریاست کا مداخلت کرنا انسان کے ذاتی معاملات میں مداخلت کرنے جیسا ہے جو جائز نہیں ہے ۔اسلام بھی لوگوں کے نجی معاملات میں مداخلت کو جائز نہیں سمجھتا ۔ہر انسان کو حق حاصل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی امور کو انجام دے ۔آزادی کے ساتھ خدا کی عبادت کرے اور اپنے عقائد کے مطابق اپنی زندگی گزارے مگرانسان کے نجی عقائد و خیالات کاعام معاشرتی زندگی میںکوئ اثر نہ ہو۔یعنی معاشرہ کو ذاتی نظریات و عقائد کی ترویج و اشاعت کا اکھاڑہ نہ بنائے کیونکہ اسلام مذہب کو انسان کا ذاتی معاملہ نہیں سمجھتا ۔کیونکہ اسلام میں کسی بھی انسان کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ کوئ ایسا کام انجام دے جو اللہ کی مرضی کے خلاف ہو ۔مثال کے طور پر سیکولر ریاست زنا باالرضا کو جائز سمجھتی ہے جبکہ اسلام ایسے کسی بھی تعلق کی اجازت نہیں دیتا۔

مذکورہ مقالہ کی اشاعت کے بعد پہلا سوال ایک ایسے شخص نے پوچھا جو سعودی عرب میں ملازمت کرتاتھا ۔سوال تھا کہ آخر اسلامی مفکرین فقط ہندوستان میں سیکولرازم کے فروغ کا نعرہ کیوںبلند کرتے ہیںجبکہ دیگر اسلامی ملکوں کی حکومتیں غیر مسلموں کے لئے سیکولر نظریہ کی حمایت نہیں کرتیں ۔اگر اسلامی آئیڈیالوجی سیکولرازم کو قبول کرتی ہے تو پھر یہ سیکولر نظریات اسلامی ممالک میں کیوں نافذ نہیں ہوتے ۔یا پھر سیکولر نظریوں کے نفاذ کے لئے فقط جمہوری حکومت کا ہونا ضروری ہے ؟اگر جمہوری نظام ہی سیکولر نظریات کو قبول کرسکتاہے تو پھر مسلمان مفکرین ہندوستان میں سیکولر ازم کی حمایت کرنا بند کریں کیونکہ انکا کوئی بھی ملک جمہوری نظام کا پاسدار نہیں ہے ۔کسی اسلامی ملک میں اقلیتوں کے لئے کوئی مناسب لائحہ عمل نہیں ہے ۔سعودی عرب میں اگر کسی ہندو کی موت ہوجاتی ہے تو اسکے ورثاء ہندو ریتی رواج کے مطابق اسکی لاش جلا نہیں سکتے ہیں ۔بلکہ انہیں اسلامی روایات کی پاسداری میں اس لاش کو دفنانا ضروری ہے ۔اگر ایسا ہی نظام ہندوستان یا دیگر غیر مسلم ممالک میں نافذ کردیا جائے تو مسلمان اسکی مخالفت کا کیا جواز پیش کرسکتے ہیں ۔اسلامی مملکت غیر مسلمو ں سے اضافی ٹیکس وصولتی ہے یہ قانون بھی کسی دوسری غیر اسلامی ریاست میں نافذ نہیں ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمان صرف غیر اسلامی ممالک میں رہتے ہوئے سیکولرازم کی بات کرتا ہے ۔ایسا سیکولرازم جو اسے تحفظ فراہم کرے ۔ورنہ حقیقت یہی ہے کہ مسلمان سیکولرازم کی حقیقت کا قائل نہیں ہے خواہ وہ کتنے ہی جواز پیش کرے ۔لیکن یہ بھی بڑی حقیقت ہے کہ موجودہ عہد میں سیکولرازم کے معنی و مفاہیم کے تعین کے لئے مسلمانوں کو ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی ۔کیونکہ جس سیکولرازم کے نفاذ کی ریاستیں بات کررہی ہیں اسکا تصور آج بھی واضح نہیں ہے ۔کیونکہ جس ریاست میں اب تک یہ طے نہ ہو پایا کہ سیکولر ازم کامطلب مذہبی آزادی ہے یا عقیدہ کی آزادی مراد ہے وہاں سیکولرازم کی ہر کوئی اپنی توجیہ پیش کرسکتاہے ۔اس طرح ہر شخص کی سیکولر ازم پر انفرادی رائے ہوگی ۔لہذا بہتریہ ہے کہ سیکولر ازم کے تصور کی توضیح کے لئے مسلمان پیش قدمی کریں کیونکہ جن اسلامی ممالک کی اندھی تقلید میں ہم سیکولرازم کی مخالفت کررہے ہیں انکا خود کوئی مذہب نہیں ہے ۔

سیکولرازم یعنی کیا؟

عہد حاضر میں ہم جس سیکولر ازم کی بات کرتے ہیں اس سے مراد ’’ایسا سیاسی و سماجی نظام ہے جسکی بنیادیں مذہب او ر مابعد الطبیعیاتی نظریات کے بجائے عقل اور سائنسی اصولوں پر رکھی گئی ہو ں‘‘۔یعنی ایسی ریاست جو مذہبی حدودو قیود سے آزاد ہو ۔سیکولر ریاست کا بذات خو د کوئی مذہب نہیں ہوتا اور نہ وہ کسی مذہبی نظام اور منثور کے تحت کام کرتی ہے ۔اسکے شہری جو مختلف مذہبوں ،مسلکوں اور نظریوں میں بٹے ہوتے ہیں وہ انکی ترقی،تنظیم اور حفاظت کے لئے کام کرتی ہے ۔ سیکولرریاست کی ترجیحات میں شہریوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنا اور انکی سماجی زندگی کی بہتری کے لئے منصوبہ بندی کرنا ہے ۔اس سلسلے میں ڈاکٹر وجاہت مسعود اپنے مضمون ’’ سیکولراز ام کیا ہے ‘‘میں لکھتے ہیں ’’ معیار زندگی محض گارے چونے کی عمارتیں کھڑی کرنے کا نام نہیں ،انسانی ترقی ایک پیچیدہ ،نازک اور پہلودارتصور ہے جو اپنی بلند ترین شکل میں اعلیٰ ترین انسانی امکانات کی کھوج اور بہترین انسانی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا نام ہے ۔اس میں علم کا فروغ،ہنر مندی ،پیداواری صلاحیت ،فکری آزادی،بلند نگاہی ،تخلیقی رجحان اور جمالیاتی لطف سب شامل ہے ۔یہ ایک سیا ل اور باہم مربوط عمل ہے‘‘ ۔ لہذا سیکولر ریاست کا پہلا مقصد شہریوں کے معیار زندگی کی بہتری ہے ۔

سیکولر ریاست کا بنیادی محور معاشی بہتری ہے ۔معاشی بہتری کے ساتھ سیکولر ریاست طے شدہ ضابطوں ،لائحۂ عمل اور معین طریقہ ٔ کار کی پابند ہوتی ہے ۔اسکا مقصد کسی ایک خاص مذہب و ذات والوں کی ترقی اور تحفظ کی فراہمی نہیں ہے ۔اس ریاست کا بنیاد تصور انسانی حقوق کی بحالی،مساوات،فکری آزادی ،قانون کا غیر جانبدارانہ نفاذ،تمام شعبوں میں شہریوں کی ترقی کے لئے ممکن کوشش،انتہا پسندی،عدام برداشت اور مفسدانہ افکار کی توبیخ اور مختلف علوم کی ترویج و ترقی اسکا بنیادی ہدف ہے ۔سیکولر ریاست مذہبی آئین کی پابند نہیں ہوتی بلکہ وہ عقل و منطق کی روشنی میں اپنے آئین مرتب کرتی ہے اور ہر شہری کو انہی آئین کا پابند ہونا لازمی ہے ۔

سیکو لرازم کے بنیادی عقائد

جس سیکولر ریاست کے تصور کی بات کی جاتی ہے اسکے مبادیات اور نظریات سے باخبر ہونا بھی ضروری ہے ۔امتداد وقت کے ساتھ سیکولر ازم کے مبادیات میں تبدیلی کی گئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تبدیلی آج بھی اکثر مفکرین کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے ۔سیکولر مفکرین آج بھی انہی نظریات و خیالات کے حامی ہیں جو سترہویں اور اٹھارویں صدی کے مفکرین کے منظورنظر تھے۔یعنی خدا کا کوئی وجود نہیں ہے ۔یہ کائنات خدا کا کرشمہ نہیں ہے بلکہ ایٹم کی ایجاد ہے ۔سیکولر ریاست کا تصور خدا کے وجود کے ساتھ ممکن ہی نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام ایسی سیکولر ریاست کے تصور کو باطل سمجھتاہے ۔مگر اس تصور سے الگ جن انتظام و انصرام کا تصور سیکولر ریاست پیش کرتی ہے وہ اسلامی قوانین میں پہلے سے موجود ہیں ۔یعنی تمام شہریوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے مذہب و ملت کے امیتاز کے بغیر کام کرنا ۔

انسائیکلو پیڈیا امریکانا سیکولر نظریہ کی وضاحت میں لکھتا ہے ’’سیکولرازم ایک اخلاقی نظام ہے جو قدرتی اخلاق کے اصولوں پر مبنی ہے جو الہامی مذہب یا مابعدالطبعیات سے جداہے ۔اسکا پہلا کلیہ فکر کی آزادی ہے ۔یعنی ہر شخص کو اپنے لئے کچھ سوچنے کا حق۔دوسرے تمام فکری امور کے بارے میں اختلاف رائے کا حق ۔ڈاکٹر عبدالحق نے اردو انگریزی ڈکشنری میں سیکولر کی تعریف میں لکھاہے ’’سیکولر ازم اس معاشرتی اور اور تعلیمی نظام کو کہتے ہیں جسکی اساس مذہب کے بجائے سائنس پر ہو اور جس میں ریاستی امور کی حد تک مذہبی مداخلت کی گنجائش نہ ہو ‘‘۔( نوید فکر صفحہ ۷۰مصنف سبط حسن )

یعنی سیکولر آئین کے مطابق دنیاوی امور سے مذہبی آئین و تصورات کا اخراج لازمی ہے۔آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق سیکولرازم سے مراد ایسا عقیدہ ہے جس میں مذہب اور مذہبی خیالات و تصورات کو اراداتا دنیاوی امور سے حذف کردیا جائے ۔

سیکولر ریاست سے عوام کی توقعات:

انصاف ہر ریاست کی بنیادوں کی مضبوطی اور استواری کے لئے ضروری ہے ۔ہر ریاست کا شہری اپنی حکومت کی عدلیہ سے انصاف چاہتاہے ۔اس انصاف کے پیمانے ہر انسان کے لئے یکساں ہوں یہ اسکی امید ہوتی ہے ۔یعنی عدلیہ خودمختار ہو ،غیر جانبدار ہو اور بغیر کسی سیاسی دبائو کے اپنی ذمہ داری کو پورا کرے ۔انصاف کا بنیادی تصور اس وقت تک مکمل نہیں ہے جب تک ریاست کی بنیاد عدالت پر نہ ہو ۔یعنی ریاست خود عدالت کی بنیاد پر وجود میں آئی ہو ظلم و جبر اور قہر و غلبہ کی بنیاد پر قائم کی ہوئی ریاست کبھی انصاف میں فلسفہ ٔ عدل کی پیروی نہیں کرسکتی ۔دوسرے یہ کہ ریاست عدلیہ کے امور میں مداخلت نہ کرتی ہو ۔ریاست کا بر سر اقتدار طبقہ بھی عدلیہ اور آئین کا اتنا ہی پابند ہو جتنا کہ ایک عام شہری ہوتاہے ۔ دنیا میں مذہبی افراد کی اجارہ داری کا ختم ہونا فلسفۂ عدالت سے دوری کا نتیجہ ہے۔لہذا اگر سیکولر ریاست عدل و انصاف کی پابند نہیں ہوگی تو اسکا حشر بھی کلیسا کے نظام اور پادریوں کا سا ہوگا۔

عدل و انصاف کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ ریاست کا قانون ہمہ گیر اور آفاقی ہو ۔ہر مذہب اور ہر طبقہ کے انسانوں کے حقوق کا خیا ل رکھا جائے ۔شہریوں کو جان و مال کا تحفظ یکساں طور پر فراہم کرایا جائے ۔آئین میں سبکی حیثیت برابر ہو ۔مذہبی رسومات اور قبائلی نظام کی جگہ ریاستی آئین کو بالادستی حاصل ہو اور ہر شہری کو قانون میں برابری کا درجہ دیاجائے۔

ریاست میں اظہار کی آزادی کا مسئلہ بڑاا ہم ہے ۔شہریوں کی رائے پر آئین استوار نہیں ہوتا مگر انکی رائے اتنی اہم ہوتی ہے کہ کبھی کبھی آئین کو مضبوطی عطاکرتی ہے اور کمزور آئین کی مخالفت میں انکی رائے شماری حکومتوں کو اقتدار سے باہر کردیتی ہے ۔لہذا ریاست کے شہری کا بنیادی حق اظہار کی آزادی ہے ۔اور وہ ایک سیکولر جموری ریاست میں بیباکی کے ساتھ اپنی رائے پیش کرنے کا حق رکھتاہے ۔سیکولر ازم انسان کو یہ آزادی مہیا کراتا ہے کہ وہ اختیار کے ساتھ کسی بھی مذہب اور عقیدہ کا پابند ہوسکتاہے ۔عقیدہ اور مذہب کے اختیار میں اس پر جبر نہیں کیا جاسکتا ۔جیساکہ قرآن کہتاہے کہ ’’ لا اکراہ فی الدین‘‘ دین میں کسی طرح کا جبر نہیں ہے ۔یعنی اسلام بھی کسی کو جبراََ مسلمان بنانے کا قائل نہیں ہے اور نہ اپنے خیالات و تصورات کو جبراََ کسی پر تھوپنے کی اجازت دیتاہے ۔

سیکولر ہونا یعنی علماء کا مخالف ہونا:

سیکولر ہونے کی فکر میں لوگ علماء اور مذہب کی مخالفت کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں ۔چونکہ سیکولرازم کا خمیر مذہب اور خدا کی مخالفت سے تیار ہوا تھا لہذا سیکولر فکریں آج بھی اسی تاریخ کی غماز ہیں ۔اسلام کلیسائی نظام کا قائل نہیں ہے اور نہ کلیسا میں بیٹھے ہوئے خودساختہ مذہبی قائدین کے نظریات و تصورات کا حامی ہے ۔چونکہ کلیسا کے آمرانہ نظام اور پادریوں کی ظاہرداری و بد کرداری نے عوام کو متنفر کردیا تھا لہذا مذہب اور مذہبی اجارہ داری کے خلاف لوگوں کی نفرت آج تک کسی نا کسی شکل میں زندہ ہے ۔اسلام مخالف طاقتوں نے اس نفرت کو اسلام اور علماء حق کے خلاف ہتھیار کے طورپر استعمال کیا ۔لبرل اور سیکولر ہونے کا مطلب مذہب دشمنی اورمذہبی افراد سے منافرت سمجھا گیا ۔ہمارے یہاںکچھ لوگ علماء کی مخالفت کرکے اپنی اسلام دشمنی کو چھپاتے ہیں۔لہذا اگر سیکولر ہونا صرف علماء دشمنی کو فروغ دینا ہے تو ایسا سیکولرازم بجائے فائدہ کے نقصان دہ اور سماج کے لئے خطرناک ہے ۔دوسرے یہ کہ جن علماء کی مخالفت کی جاتی ہے پہلے انکی تاریخ پر نظرکرنا ضروری ہے ۔ہر شعبہ میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ایسے علماء کو علماء سو کہا گیاہے ۔مگر مخالفت کرنے والے ایک لاٹھی سے سب کو ہانکتے ہیں ۔

موجودہ عہد میں سیکولرازم کی ضرورت :

موجودہ عہد میں سیکولر نظریات کی ترویج و اشاعت ضروری ہے ۔لیکن یہ نظریات ایک مخصوص طرز فکر یعنی لادینیت اور لا مذہبیت کا فروغ نہ ہو ۔اس وقت پوری دنیا میں اگر انسان امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گذار سکتا ہے تو وہ ایک ہی نظام حیات اور ایک طرز فکر ہے ۔سیکولر نظام کی حمایت کا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اسلامی آئین اور اسکی آفاقیت کے منکر ہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ پوری دنیا اسلامی آئین کی تابع نہیں ہوسکتی ،یہ ممکن بھی نہیں ہے لہذا ایک ایسے نظام کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے جو ہر ملک کی مقتدر جماعتوں اور شہریوں کے لئے قابل قبول ہو ۔اس وقت سیکولر ریاست کا تصور جس تیزی کے ساتھ دنیا میں مقبول ہوتا جارہا ہے اس سے اندازہ ہوتاہے کہ یہ ایک ایسا نظام ہے جو اس ضرورت کو پورا کرسکتاہے ۔