بابری مسجد ملکیت مقدمہ: جمعیۃعلماء ہند کا پہلے دن سے یہ ماننا ہے کہ یہ ملکیت کا معاملہ ہے آستھا کا نہیں

بابری مسجد ملکیت مقدمہ: جمعیۃعلماء ہند کا پہلے دن سے یہ ماننا ہے کہ یہ ملکیت کا معاملہ ہے آستھا کا نہیں

نئی دہلی: بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں آج ہندوفریقین کے وکلاء کی بحث کے دوران چیف جسٹس رنجن گگوئی نے ایک بارپھر کہا کہ ہمیں ثبوت چاہئے، ہمیں نقشہ دکھائیں یا کچھ ایسا دکھائیں کہ جس سے یہ پتہ لگ سکے کہ یہ وہی جگہ ہے، چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ مذہبی کتابوں کا اس وقت معاملہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، کیونکہ سوال اعتقادکا نہیں بلکہ زمین کاہے، بابری مسجد ملکیت معاملہ کی حتمی سماعت آج نویں دن میں داخل ہوئی جس کے دوران رام للّٰا کے وکیل سی ایس ودیا ناتھن نے اپنی نا مکمل بحث کا آغاز کرتے ہوئے آئینی بینچ کو بتایا کہ متنازعہ مقام پر مسلمانوں کا کبھی قضبہ تھا ہی نہیں کیونکہ ہندوؤں کا ہمیشہ سے عقیدہ رہا ہے کہ یہ رام جنم استھان ہے اور اس سے ہندوؤں کو مذہبی لگاؤ ہے لہذا Adverse Possessionیعنی مخالف پارٹی کا قبضہ کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔اس معاملہ کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی آئینی بینچ جس میں چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی، جسٹس اے ایس بوبڑے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس چندر چوڑ اور جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں کو سینئر ایڈوکیٹ سی ایس ویدیاناتھن نے کہاکہ یہ صرف مندر توڑ کر مسجد بنانے کا سوال نہیں بلکہ یہ مقام ہی ہندوؤں کے لیئے مقدس ہے نیز یہ مقام کسی بھی صورت میں فروخت، منتقل اور الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔رام للابراجمان کے وکیل سی ایس ودیاناتھن نے آئینی بینچ کے سامنے اپنے دلائل رکھتے ہوئے کہا کہ رام للا نابالغ ہیں ایسے میں نابالغ کے جائداد کو نہ تو بیجا جاسکتاہے اور نہی چھینا جاسکتا ہے انہوں نے عدالت کے سامنے اپنی دلیل رکھتے ہوئے کہا کہ اگر تھوڑی دیر کیلئے یہ مان بھی لیا جائے کہ وہاں کوئی مندرنہیں اور کوئی دیوتانہیں تھے توپھر بھی لوگوں کایہ اعتقادہے کہ رام جنم بھومی پر ہی شری رام کاجنم ہوا تھا، ایسے میں وہاں مورتی رکھنا اس مقام کا تقدس بحال کرنے جیسا ہے، اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے رام للا کے وکیل نے کہا کہ متنازعہ جگہ مندرہویا نہ ہو مورتی ہویا نہ ہو لوگوں کی آستھا ہونا ہی کافی ہے کہ وہ رام جنم استھان ہے، اس لئے وہاں مسجد بناکر قبضہ کے دعویٰ کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتامندرہمیشہ مندرہی رہتاہے جائدادکو آپ ٹرانسفرنہیں کرسکتے ہیں مورتی کسی کی جائدادنہیں ہوتی، مورتی ہی دیوتاہیں اس سے ثابت ہوتاہے کہ جنم استھان ہی دیوتاہیں اگر پراپرٹی خود ایک دیوتاہیں تو زمین کے مالکانہ حق کا کوئی دعویٰ نہیں کرسکتاہے،اس پر جسٹس بوبڑے نے کہا کہ آپ کے دلائل اس طرح کے ہیں کہ مورتی کی ملکیت والی جائدادناقابل حصول ہے اگر کوئی دوسراشخص جائدادپر دعویٰ کرتاہے تو وہ اسے قبضہ میں نہیں رکھ سکتاہے کیونکہ یہ جائدادٹرانسفروالی چیز نہیں ہے۔ اسی درمیان جسٹس عبدالنظیر نے ایڈوکیٹ ویدیاناتھن سے سوال پوچھا کے کیا وقف شدہ پراپرٹی کو منتقل کیا جاسکتا ہے یا اسے جبراً کسی سے لیا جاسکتا ہے؟جس کا تشفی بخش جواب ویدیاناتھن نہیں دے سکے لیکن انہوں نے عدالت سے کہا کہ وہ اس ٹاپک پر بعد میں بحث کریں گے لیکن جاتے جاتے انہوں نے کہا کہ بابری مسجد سنی سینٹرل وقف بوڈ میں رجسٹرڈ نہیں ہے اور نہ ہی وہ ٹیکس وغیرہ ادا کرتے ہیں۔سینئر ایڈوکیٹ ویدیاناتھن نے آج عدالت میں ماضی کے متعدد فیصلوں کو پڑھا نیز انہوں نے آخیر میں عدالت سے کہا کہ اس معاملہ کی سماعت فل بینچ کے ذریعہ ہوئی تھی لہذا عدالت کو اس کے فیصلہ پر احتیاط سے مداخلت کرنا ہوگی۔ویدیاناتھن کی بحث کے اختتام کے بعد سینئر ایڈوکیٹ پی این مشرا جیسے بحث کرنے کھڑے ہوئے چیف جسٹس نے ان سے پوچھاکہ آیا وہ اس معاملہ میں فریق ہیں جس پر انہوں نے کہاکہ میں سوٹ نمبر 4 میں مدعہ علیہ نمبر 20 ہوں اور میں رام جنم بھومی سمیتی کی نمائندگی کررہا ہوں۔ایڈوکیٹ پی این مشرا نے کہا کہ وہ اپنی بحث کا آغاز آتھروید پڑھتے ہوئے کریں گے جس میں لکھا ہے کہ ایودھیا میں مندر تھا اور اس وقت ایودھیا میں تین روڈ اور تین مینار بھی تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان کا دعوی ہے کہ بابر نے کبھی مسجد کی تعمیر کرائی ہی نہیں تھی لیکن ہندو اس جگہ کی عبادت صدیوں سے کرتے چلے آرہے ہیں نیز انہوں نے مندر کا مقام بتانے کے لیے اسکندپران، والمییکی رامائن کو پڑھا۔ جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ میں یہ لکھا ہے کہ رام کا جنم ایودھیا میں ہوا تھا اس پر کسی کو اختلاف نہیں ہے لیکن اختلاف اس بات پر ہے کہ رام کا جنم کہاں ہوا تھا جس پر پی این مشرا نے کہا کہ وہی تو وہ کہے رہے ہیں کہ رام کا جنم اسی جگہ پر ہوا تھا جہاں مسجد کی تعمیر کی گئی تھی۔دوران بحث عدالت نے پی این مشراء کو کہا کہ مذہب اورایمان پر بحث نہیں ہورہی بلکہ معاملہ اس بات کا ہے کہ رام کا جنم کہاں ہوا تھا اور آیا بابری مسجد رام مندر منہدرم کرکے بنائی گئی تھی لہذا عدالت میں ایسے دلائل پیش کئے جائیں جو یہ ثابت کرتے ہوں کہ متنازعہ مقام پر رام کا جنم ہوا تھا اور اس پراپرٹی پر کس کا حق ہے۔جسٹس چند ر چوڑ نے کہا کہ بینچ پی این مشراء کے دلائل کی سماعت بعد میں کرے گی فی الحال ایڈوکیٹ وی این سنہا کو بولنے کا موقع دیا جائے جو ہندو مہاسبھا کی نمائندگی کررہے ہیں لیکن جب وی این سنہا نے عدالت سے کہا کہ وہ ابھی بحث کرنے کے لیئے تیار نہیں ہے، عدالت نے ایڈوکیٹ رنجیت کمار کو حکم دیا وہ بحث کریں جو سوٹ نمبر 1 میں پیش ہورہے ہیں۔اسی درمیان عدالت کا وقت ختم ہوگیا اور عدالت نے اپنی کارروائی کل تک کے لیئے ملتوی کردی۔گذشتہ کل کی سماعت پر جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت سے گذارش کی تھی وہ رام للا اور نرموہی اکھاڑہ کے درمیان موجود تضاد کی بھی سماعت کرلے نیز سوٹ نمبر 1کی بھی سماعت ہو تاکہ اس کے بعد وہ تمام بحث کا ایک ساتھ جواب دے سکیں۔واضح رہے کہ بابری